کیا تہجد کے لیے سونا شرط ہے؟ ایک شخص کہتا ہے کہ بغیر سوئے بھی تہجد پڑھنا صحیح ہے،سونا ضروری نہیں۔ اور اولیائے کرام جو چالیس سال تک رات میں تہجد پڑھتے تھے تو کیا وہ سوتے نہیں تھے کیا جواب ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَاب
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
نمازِ تہُّجد صلاةُ الَّلیْل کی ایک قِسم ہے یعنی وہ نفل جو عشاء کی نماز کے بعد رات میں سو کر اُٹھ کر ادا کی جائے، سونے سے قبل جو کچھ پڑھیں وہ تہجد نہیں۔ اور جو کہتا ہے کہ تہجد کے لیے سونا شرط نہیں بالکل غلط اور تمام معتبر کتب کے خلاف ہے۔ اور یہ اعتراض کرنا کہ جو اولیائے کرام ایک وُضو سے چالیس سال تک نماز پڑھتے تھے تو کیا وہ سوتے نہیں تھے، یہ اعتراض بیجا اور لا علمی یا کم فہمی کا سبب ہے اولاً تو اس کا جواب یہ ہے کہ قدرے سو جانا تہجد کے لیے کافی ہے کیونکہ وہ حضرات رات میں اس قدر اونگھ لیتے تھے جس سے تہجد درست ہوجائے ثانیاً یہ کہ ان کی کرامت تھی اور کرامت اسی کو تو کہتے جو کام ولی سے خارق عادت صادر ہو۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:”﴿وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے۔ (القرآن الکریم، بنیٓ اسرائیل، آیت:79)
اس آیت کے تحت تفسیر قرطبی میں ہے:”فَالتَّهَجُّدُ الْقِيَامُ إِلَى الصَّلَاةِ مِنَ النَّوْمِ“ یعنی تہجد سونے کے بعد قیام کرنے کو کہتے ہیں۔ (تفسیر القرطبی، بنی اسرائیل، تحت الآية:79)
تفسیر در منثور میں ہے:”قَوْلُهُ تَعالى: ﴿ومِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نافِلَةً لَكَ﴾ أخْرَجَ اِبْنُ جَرِيرٍ، وابْنُ المُنْذِرِ، ومُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ في كِتابِ ”الصَّلاةِ“، عَنْ عَلْقَمَةَ، والأُسُودِ، قالا: التَّهَجُّدُ بَعْدَ نَوْمَةٍ.“ یعنی تہجد سونے کے بعد ہے۔ (الدر المنثور، بنی اسرائیل، تحت الآية:79)
تفسیر معالم التنزیل میں ہے:” والتهجد لا يكون الا بعد النوم “ ترجمہ:تہجد سونے کے بعد ہی ہوتی ہے ۔(مختصر تفسیر البغوی ، پارہ 15 ، سورۃ الاسراء ، آیت 79، جلد:4 ، صفحہ 534 ، مطبوعہ ریاض)
خزائن العرفان میں ہے:”تہجّد نماز کے لئے نیند کو چھوڑنے یا بعدِ عشا سونے کے بعد جو نماز پڑھی جائے اس کو کہتے ہیں۔“ (خزائن العرفان، بنی اسرائیل، تحت الآية:79)
مرآۃ المناجیح میں ہے:”تہجد سے پہلے سونا تہجد کے لیئے شرط ہے کہ اس کی بغیر نماز تہجد نہ کہلائے گی۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 , تحت الحدیث:1210)
ردالمختار میں منقول ہے:”وقد ذكر القاضي حسين من الشافعية أنه في الاصطلاح التطوع بعد النوم “ ترجمہ:امام قاضی حسین شافعی فرماتے ہیں:اصطلاح میں سونے کے بعد نوافل پڑھنے کو تہجد کہتے ہیں ۔(رد المحتار علی الدر المختار ، کتاب الصلوٰۃ ، مطلب فی صلوٰۃ الليل ، جلد 2 ، صفحہ 566 ، مطبوعہ کوئٹہ)
عشاءکے بعد سونے سے پہلے پڑھے جانے والے نوافل صلاۃ اللیل اور سونے کے بعد پڑھے جانے والےنوافل تہجد میں شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ *سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ* فرماتے ہیں:”تہجد پڑھنے والا جسے اپنے اُٹھنے پراطمینان ہو ، اسے افضل یہ ہے کہ وتر بعدِ تہجد پڑھے، پھر وتر کے بعد نفل نہ پڑھے، جتنے نوافل پڑھناہوں وترسے پہلے پڑھ لے کہ وہ سب قیام اللیل میں داخل ہوں گے اور اگرسونے کے بعد ہیں، توتہجد میں داخل ہوں گے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد:7، صفحہ:446،447 ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
بہارِ شریعت میں ہے:”صلاۃ اللیل کی ایک قسم تہجد ہے کہ عشا کے بعد رات میں سو کر اُٹھیں اور نوافل پڑھیں، سونے سے قبل جو کچھ پڑھیں وہ تہجد نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد:1، حصہ چہارم، صفحہ:677 ، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)
تہجد کے لیے ایک اونگھ لینا کافی ہے، چنانچہ مرآۃ المناجیح میں ہے: ”جن بزرگوں سے منقول ہے کہ انہوں نے تیس یا چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی جیسے حضور غوث اعظم یا امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہما وہ حضرات رات میں اس قدر اونگھ لیتے تھے جس سے تہجد درست ہوجائے لہذا ان بزرگوں پر یہ اعتراض نہیں کہ انہوں نے تہجد کیوں نہ پڑھی حضرت ابوالدرداء، ابو ذرغفاری وغیر ہم صحابہ جو شب بیدار تھے، ان کا بھی یہی عمل تھا۔“ (مرآۃ المناجیح، باب صلاۃ اللیل، جلد:2، صفحہ:233)
ان تمام شواہد سے روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ تہجد کے لیے سونا شرط ہے، ماننے والے کے لیے ایک دلیل کافی ہے اور نہ ماننے والے کو اگر دلائل کا انبار پیش کیا جائے تب بھی ناکافی ہے، اللہ پاک ہمیں شریعتِ مطہرہ پر عَمَل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مزید پڑھیں 👇🏻

.jpg)