تصرفات اولیا کا ثبوت کیا ہے

 
غیر اللہ سے مدد مانگنا کیسا ہے، تصرفات اولیا کا ثبوت

تصرفاتِ اولیاء کا ثبوت کیا ہے؟ 



از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

---------------------------------------------------------


    تصرفاتِ اولیاء یعنی کرامتِ اولیاء حق ہے،  قرآن وحدیث اور اقوالِ ائمہ سے ثابت ہے، اس کا انکار کرنے والا گمراہ بدمذہب ہے۔ اللہ پاک کو حقیقی مددگار جانتے ہوئے ان سے مدد مانگنا جائز ہے جبکہ عقیدہ یہ ہو کہ حقیقی امداد تو ربِّ کریم ہی کی ہے یہ سب حضرات اس کی دی ہوئی قدرت سے مدد کرتے ہیں کیونکہ ہر شے کا حقیقی مالک و مختار صرف اللہ پاک ہی ہے اور اللہ پاک کی عطا کے بغیر کوئی مخلوق کسی ذرہ کی بھی مالک ومختار نہیں ہوتی۔ اللہ پاک نے اپنی خاص عطا اور فضل عظیم سے اپنے پیارے حبیب صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کو کونین کا حاکم و مختار بنایا ہے اور حضور صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اور دیگر انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلوةُ وَالسَّلَام و اولیائےعِظامِ رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِمْ اللہ پاک کی عطا سے (یعنی اس کی دی ہوئی قدرت سے) مدد کر سکتے ہیں۔ اور کوئی بھی مسلمان کسی ولی کو فاعل مستقل نہیں جانتا، یہ وہابیہ کا فریب ہے۔ 


کرامت اولیاء کا ثبوت قرآن پاک سے ثابت ہے،جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:”قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَۚ-وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ“ 

 ترجمہ :    کنز الایمان:سلیمان نے فرمایا اے درباریوں تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہوکر حاضر ہوں۔ ایک بڑا خبیث جن بولا کہ وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانت دار ہوں۔ (اَلنَّمل:آیت 38-39) 


اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:”كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَۙ-وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًاۚ-قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ-قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ“ 

  ترجمہ :     کنز الایمان:جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے کہا اے مریم یہ تیرے پاس کہاں سے آیا، بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے۔ (آلِ عِمْرَان، آیت:37) 


اس آیت کے تحت صدر الافاضل سید نعیم الدین مرادآبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:”یہ آیت کرامات اولیاء کے ثبوت کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں پر خوارق (کرامات) ظاہر فرماتا ہے۔“  (خزائن العرفان، آل عمران،تحت الآية:37 صفحہ:112، مکتبة المدينة دعوت اسلامی) 


کرامت کا ثبوت حدیث پاک سے بھی ثابت ہے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:عَنْ أَنَسٍ  أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ تَحَدَّثَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُمَا حَتّٰى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ فِي لَيْلَةٍ شَدِيدَةِ الظُّلْمَةِ ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ينقلبان وَبِيَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُصَيَّةٌ فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتّٰى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا حَتّٰى إِذَا افْتَرَقَتْ بِهِمَا الطَّرِيقُ أَضَاءَتْ لِلْآخَرِ عَصَاهُ فَمَشٰى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْءِ عَصَاهُ حَتّٰى  بَلَغَ أَهْلَهٗ

  یعنی روایت ہے حضرت انس سے کہ اسید ابن حضیر اور عباد ابن بشر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے کاموں کے متعلق بات چیت کرتے رہے حتی کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا یہ واقعہ سخت اندھیری رات میں ہوا پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپسی کے لیے نکلے ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھوٹی لاٹھی تھی تو ان میں سے ایک کی لاٹھی چمک گئی حتی کہ وہ دونوں اس کی روشنی میں چلتے حتی کہ جب ان کو راستہ نے علیحدہ کیا تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی تو ان میں سے ہر ایک اپنی لاٹھی کی روشنی میں چلا حتی کہ اپنے گھر پہنچ گیا۔ (مشکوۃ المصابیح، باب الکرامات، حدیث:  ، صفحہ:544) 


حدیث پاک میں ہے:عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ مَا أُرَانِي إِلَّا مَقْتُولًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَا أَتْرُكُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنًا فَاقْضِ وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِكَ خَيْرًا فَأَصْبَحْنَا فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ وَدَفَنْتُهٗ مَعَ آخَرَ فِي  قَبْرٍ.ترجمہ:روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ جب غزوہ احد ہوا تو رات میں مجھے میرے باپ نے بلایا کہا کہ میں اپنے متعلق خیال کرتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں پہلا شہید میں ہوں گا اور میں اپنے نزدیک تم سے زیادہ پیارا کسی کو نہیں چھوڑتا سواء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے اور مجھ پر قرض ہے تم ادا کردینا  اور اپنی بہنوں کے لیے بھلائی کی وصیت قبول کرو ہم نے سویرا پایا تو پہلے شہید وہ ہی تھے اور میں نے انہیں دوسرے کے ساتھ ایک قبر میں دفن کیا۔ (بخاری، حدیث:1351، جلد:1، صفحہ:454) 


حدیث پاک میں ہے:”عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّ سَفِينَةَ مَوْلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطَأَ الْجَيْشَ بِأَرْضِ الرُّومِ أَوْ أُسِرَ فَانْطَلَقَ هَارِبًا يَلْتَمِسُ الْجَيْشَ فَإِذَا هُوَ بِالْأَسَدِ. فَقَالَ: يَا أَبَا الْحَارِثِ أَنَا مَوْلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَمْرِي كَيْتَ وَكَيْتَ فَأَقْبَلَ الْأَسَدُ لَهٗ بَصْبَصَةٌ حَتّٰى قَامَ إِلٰى جَنْبِهٖ كُلَّمَا سَمِعَ صَوْتًا أَهْوٰى اِلَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَمْشِي إِلٰى جَنْبِهٖ حَتّٰى بَلَغَ الْجَيْشَ ثُمَّ رَجَعَ الْأَسَدُ. رَوَاهُ فِي«شَرْحِ السُّنَّةِ»“ 

 ترجمہ:     روایت ہے ابن منکدر سے  کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت سفینہ روم کی زمین میں لشکر سے بہک گئے یا قید کرلیے گئے وہ بھاگتے ہوئے چلے لشکر کی تلاش کرتے تھے کہ اچانک شیر سامنے تھا تو بولے اے ابو الحارث کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں  میرا واقعہ ایسا ایسا ہوا ہے تو شیر دم ہلاتا ہوا آیا حتی کہ ان کی برابر کھڑا ہوگیا  جب کوئی آواز سنتا تو ادھر چلا جاتا پھر آپ کی برابرچلنے لگتا حتی کہ یہ لشکر تک پہنچ گیا پھر شیر لوٹ گیا۔(مشکوۃ المصابیح،حدیث:صفحہ:545)


حدیث پاک میں ہے:”عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعٰى سَارِيَةَ فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَخْطُبُ فَجَعَلَ يَصِيحُ: يَا سَارِيَ! الْجَبَلَ، فَقَدِمَ رَسُولٌ مِنَ الْجَيْشِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقِيَنَا عَدُوُّنَا فَهَزَمُونَا فَإِذَا بِصَائِحٍ يَصِيحُ: يَا سَارِيَ الْجَبَلَ. فَأَسْنَدْنَا ظُهُورَنَا إِلَى الجَبَلِ فَهَزَمَهُمُ اللّٰهُ تَعَالٰى رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّةِ“

  ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ جناب عمر نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر بنایا جنہیں ساریہ کہا جاتا تھا  تو جب کہ جناب عمر خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اچانک چیخنے لگے اے ساریہ پہاڑ کو لو پھرلشکر سے ایک قاصد آیا بولا اے امیر المؤمنین ہم کو ہمارا دشمن ملا انہوں نے ہم کو بھگادیا تو کوئی چیخنے والا بولا اے ساریہ پہاڑ کو لو ہم نے اپنی پیٹھیں پہاڑ کی طرف لگالیں تب انہیں اللہ تعالٰی نے بھگا دیا۔ (مشکوۃ المصابیح، باب الکرامات،صفحہ:546)


تاج الدین ابو نصر عبد الوھاب بن علی بن عبد الکافی سبکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:771ھ)

 خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کرامت کو ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:ما صح من حديث عروة بن الزبير، عن عائشة رضى الله عنها أن أبا بكر الصديق رضى الله عنه كان نحلها جاد عشرين ووسقا، فلما حضرته الوفاة قال: والله يا بنية ما من الناس أحد أحب إلى غنى بعدى منك، ولا أعز على فقرا بعدى منك، وإني كنت نحلتك جاد عشرين وسقا، فلو كنت جددته وخزنته كان لك، وإنما هو اليوم مال وارث، وإنما هما أخواك وأختاك، فاقتسموه على كتاب الله.

قالت عائشة: يا أبت والله لو كان كذا وكذا وكذا لتركته، إنما هي أسماء فمن الأخرى؟ فقال أبو بكر : ذو بطن؛ بنت أراها جارية. فكان ذلك“ 

اس کے بعد آپ لکھتے ہیں:قلتُ فيه كرامتان لأبى بكر: إحداهما:إخباره بأنه يموت فى ذلك المرض، حيث قال:وإنما هو اليوم مال وارث. 

والثانية:إخباره بمولود له، وهو جارية. (طبقات الشافعية الكبرى، الطبقة الثانية، صفحة:511، دار الكتب العلمية، بيروت) 


اس کے بعد خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کرامت ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”قال إمام الحرمين رحمه الله فى كتاب ﴿الشامل﴾ :إن الأرض زلزلت فى زمن عمر رضي الله عنه، فحمد الله وأثنى عليه والأرض ترجف وترتج، ثم ضربها بالدرة وقال: أقرى ألم أعدل عليك؟ فاستقرت من وقتها.“ (طبقات الشافعية الكبرى، الطبعة الثانية، صفحة:513، دار الكتب العلمية، بيروت

امام جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابو بکر سیوطی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:911ھ) اپنی کتاب ”تاریخ الخلفاء“ میں حضرت عمر فاروق اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کرامت ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”أخرج البيهقي، وأبو نعيم كلاهما في ﴿دلائل النبوة﴾ ، واللالكائي في ﴿شرح السنة﴾، والديرعاقولي في ﴿ فوائده﴾، وابن الأعرابي في ﴿كرامات الأولياء﴾، والخطيب في ﴿رواة مالك﴾ عن نافع ، عن ابن عمر قال: وجه عمر جيشاً ورأس عليهم رجلاً يدعى سارية ، فبينما عمر يخطب... جعل ينادي : يا سارية ؛ الجبل ، ثلاثاً ، ثم قدم رسول الجيش فسأله عمر فقال : يا أمير المؤمنين ؛ هزمنا ، فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتاً ينادي : يا سارية ؛ الجبل ، ثلاثاً ، فأسندنا ظهرنا إلى الجبل فهزمهم الله ، قال : قيل لعمر : إنك كنت تصيح بذلك، قال ابن حجر في ﴿الإصابة﴾: (إسناده حسن)


 غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بعض کرامات کو ذکر کرتے ہوئے حضرت سیّدنا امام اَبُوالْحَسَن علی بن یوسف لَخْمی شَطَّنَوفی شافِعی علیہ رحمۃ اللہ القَوی (المتوفی:713ھ) اپنی کتاب مستطاب ﴿بہجة الاسرار﴾ میں لکھتے ہیں:”أخبرنا الشیخ القدوۃ أبو الحسن علي القرشي رضي اللّٰہ عنہ بجبل قاسیون، سنۃ ثماني عشرۃ وستمائۃ، قال :  کنت أنا والشیخ أبو الحسن علي بن الہیتي عند الشیخ محیي الدین عبد القادر رضي اللّٰہ عنہ بمدرستہ بباب الأزج سنۃ تسع وأربعین وخمسمائۃ، فجاء ہ أبو غالب فضل اللّٰہ بن إسماعیل البغدادي الأزجي التاجر، فقال لہ :  یا سیدي قال جدک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم :  من دعي فلیجب، وھا أنا ذا قد دعوتک إلی منزلي، فقال :  إن أذن لي أجبت، ثم أطرق ملیاً ثم قال :  نعم، فرکب بغلتہ وأخذ الشیخ علي برکابہ الأیمن وأخذت أنا بالأیسر فأتینا دارہ، وإذا فیہا مشایخ بغداد وعلماؤہا وأعیانہا، فمد سماطاً فیہ من کل حلو وحامض، وأتی بسلۃ کبیرۃ مختومۃ یحملہا اثنان وضعت آخر السماط، فقال أبو غالب :  الصلاۃ والشیخ مطرق فلم یأکل ولا أذن في الأکل ولا أکل أحد وأہل المجلس کأن رؤوسہم الطیر من ہیبتہ، فأشار إلي وإلی الشیخ علي بن     الہیتي أن قدما إلي تلک السلۃ، فقمنا نحملہا وہي ثقیلۃ حتی وضعناہا بین یدیہ، فأمرنا بفتحہا ففتحناہا فإذا فیہا ولد لأبي غالب أکمہ مقعد مجذوم مفلوج، فقال لہ الشیخ :  قم بإذن اللّٰہ معافی، فإذا الصبي یعدو وہو یبصر ولا بہ عاہۃ، فضج الحاضرون وخرج الشیخ في غفلات الناس، ولم یأکل شیئاً، فجئت إلی سیدي الشیخ أبي سعد القیلوي وأخبرتہ بذلک، فقال :  الشیخ عبد القادر یبریٔ الأکمہ والأبرص ویحیي الموتی بإذن اللّٰہ ۔     قال :  ولقد شہدت مجلسہ مرۃ في سنۃ تسع وخمسین وخمسمائۃ، فأتاہ جمع من الرافضۃ بقفتین مخیطتین مختومتین، وقالوا لہ :  قل لنا ما في ہاتین القفتین، فنزل من علی الکرسي ووضع یدہ علی إحداہما وقال :  في ہذہ صبي مقعد، وأمر ابنہ عبد الرزاق بفتحہا فإذا فیہا صبي مقعد، فأمسک بیدہ وقال لہ :  قم فقام یعدو، ثم وضع یدہ علی الأخری وقال :  وفي ہذہ صبي لا عاہۃ بہ وأمر ابنہ بفتحہا ففتحہا، وإذا فیہا صبي یمشي فأمسک بناصیتہ وقال لہ :  اقعد فأقعد، فتابوا عن الرفض علی یدہ، ومات في المجلس یومئذ ثلاثۃ، ولقد أدرکت المشایخ من صدر القرن الماضي یقولون أربعۃ ہم الذین یبرؤن الأکمہ والأبرص الشیخ عبد القادر، والشیخ بقا بن بطو، والشیخ أبو سعد القیلوي، والشیخ علي ابن الہیتي رضي اللّٰہ عنہم، ولقد رأیت أربعۃ من المشایخ یتصرفون في قبورہم کتصرف    الإحیاء، الشیخ عبد القادر، والشیخ معروف الکرخي، والشیخ عقیل المنجبي، والشیخ حیا بن قیس الحراني رضي اللّٰہ عنہم، ولقد حضرت عندہ یوماً فاستقضاني حاجۃ، فأسرعت في قضائہا، فقال لي :  تمن ما ترید، قلت :أرید کذا وذکرت أمراً من أمور الباطن، فقال :خذہ إلیک فوجدتہ في ساعتي رضي اللّٰہ عنہ“  (بھجة الأسرار، ذکر فصول من کلامہ مرصعا بشيئ ۔۔۔ إلخ، صفحہ:123-124)


ولی سے جو بات خلافِ عادت صادر ہو اسے کرامت کہتے ہیں، ملا علی بن سلطان محمد قاری حَنَفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:1014ھ) کرامت کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”الکرامات جمع کرامۃ وھی اسم من الاکرام والتکریم وھی فعل خارق للعادۃ غیر مقرون بالتحدی وقداعترف بھا اھل السنۃ وانکرھا المعتزلۃ واحتج اھل السنۃ بحدوث الحبل لمریم من غیر فحل وحصول الرزق عندھا من غیر سبب ظاھر وایضاً ففی قصۃ اصحاب الکھف فی الغار ثلٰثمائۃ سنۃ وازید فی النوم احیاء من غیر اٰفۃ دلیل ظاھر وکذا فی احضار اٰصف بن برخیا عرش بلقیس قبل ارتداد الطرف حجۃ واضحۃ“ (مرقاۃ المفاتیح،جلد:11،صفحہ:88،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)


النِّبراس میں ہے:”أقسام الخوارق سبعة:ثانيها:الكرامة للأولياء“ (النبراس شرحِ شرحِ العقائد، صفحہ:272) 


کرامتِ اولیاء حق ہے، چنانچہ علامہ نجم الدین ابو حفص عمر بن محمد نسفی (المتوفی:537ھ) فرماتے ہیں : ’’کرامات الاولیاء حق فتظھر الکرامۃ علیٰ طریق نقض العادۃ للولی من قطع مسافۃ البعیدۃ فی المدۃ القلیلۃ‘‘

  یعنی: اولیاء اللہ کی کرامات حق ہیں ،پس ولی کی کرامت خلاف عادت سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ مسافتِ بعیدہ کو مدتِ قلیلہ میں طے کر لے۔


اس کی شرح میں علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:791ھ) فرماتے ہیں:’’کأتیان صاحب سلیمان علیہ السلام وھو اٰصف بن برخیا علی الاشھر بعرش بلقیس قبل ارتداد الطرف مع بعد المسافۃ‘‘ یعنی مثلاً صاحب ِسلیمان آصف بن برخیا کا تختِ بلقیس کو پلک جھپکنے سے پہلے مسافتِ بعیدہ سے لے آنا ۔(شرح العقائد النسفیة،صفحہ:144،مجلس البرکات،الھند)، 


ملا علی بن سلطان محمد قاری حَنَفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:1014ھ)  شرح فقہ اکبر میں ہے:”اَلْکَرَامَاتُ لِلأَوْلِیَاءِ حَقٌّ أَيْ ثَابِتٌ بِالْکِتَابِ وَالسُّنَّۃِ ولا عبرۃ بمخالفۃ المعتزلۃ واھل البدعۃ فی انکارالکرامۃ‘‘  یعنی کراماتِ اولیاء حق ہیں یعنی قرآن وسنت سے ثابت ہیں اور معتزلہ اور بدعتیوں کا کرامات اولیاء کا انکار کرنامعتبر نہیں۔(منح الروض الأزهر شرح الفقه الاَكبر، صفحہ:141، مجلس المدینة العلمیة دعوت اسلامی) 


خاتم المحققین شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہِ (المتوفی:1052ھ) فرماتے ہیں:’’اہلِ حق اتفاق دارند برجواز وقوع کرامت از اولیاء ودلیل بر وقوع کرامت کتاب وسنت وتواتر اخبار ست از صحابہ ومن بعد ہم تواتر معنی‘‘

  یعنی:   اہلِ حق اس بات پر متفق ہیں کہ اولیائے کرام سے کرامت کا ظہور ہوسکتا ہے ۔ اوراللّٰہ والوں سے کرامتوں کا صادر ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے ، اورصحابہ و تابعین کی مسلسل خبروں سے بھی واضح ہے۔ (اشعة اللمعات، جلد:4، صفحہ:595)


اعلی حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”کرامات اولیاء کا منکر گمراہ ہے، اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ کرامات اولیاء حق ہے۔“  (فتاویٰ رضویہ، جلد:14، صفحہ:683، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی) 


ولی کی تعریف کے متعلق شرح عقائد للنسفی میں ہے:اَلْوَلِیُّ ھُوَالْعَارِفُ بِاللّٰہ تَعَالَی وَصِفَاتِہِ حَسْب مَا یُمْکِنُ الْمُوَاظب عَلَی الطَّاعَاتِ،الْمُجْتَنِبُ عَنِ الْمَعَاصِی،الْمُعْرِضُ عَنِ الْاِنْھِمَاکِ فِی اللَّذاتِ وَالشَّھَوَاتِ”  یعنی ولی وہ مسلمان ہے جو بقدرِ طاقت بشری ذات و صفات باری تعالیٰ کا عارف ہو، احکام شرع کا پابند ہو اور لذات و شہوات میں انہماک نہ رکھتا ہو۔ (شرح العقائد النسفیة، صفحہ:145)


اولیائے کرام جو اصحابِ خدمت ہیں، ان کو تصرف کا اختیار دیا جاتا ہے:

”چنانچہ مولانا شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:1239ھ)  ”تفسیر عزیزی“ میں لکھتے ہیں:”بعضے از خواص اولیاء اللہ را کہ آلہ جارحہ تکمیل وارشاد بنی نوع خود گردانیدہ اند دریں    حالت ہم تصرف در دنیا دادہ ،و استغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارک آنہا مانع توجہ بایں    سمت نمی گردد و اویسیان تحصیل کمالات باطنی از آنہا مے نمایند اربابِ حاجات ومطالب حل مشکلات خود از انہامی طلبند و مے یابند“  یعنی: اللہ تعالیٰ کے بعض خاص اولیاء ہیں  جن کو بندوں  کی تربیتِ کاملہ اور راہنمائی کے لئے ذریعہ بنایا گیا ہے، انھیں  اس حالت میں  بھی دنیا کے اندر تصرف کی طاقت واختیار دیا گیاہے اور کامل وسعتِ مدارک کی وجہ سے ان کا استغراق اس طرف متوجہ ہونے سے مانع نہیں  ہوتا، صوفیائے اویسیہ باطنی کمالات ان اولیاء اللہ سے حاصل کرتے ہیں  اور غرض مند و محتاج لوگ اپنی مشکلات کا حل ان سے طلب کرتے اور پاتے ہیں۔ (فتح العزیز، تحت الآیۃ : {  وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ }، صفحہ: 206) 


اولیاء اللہ علومِ غیبیہ پر مطلع ہوتے ہیں،

چنانچہ علامہ احمد بن محمد صاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:1241ھ) {وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا} کے تحت لکھتے ہیں:”أي :من حیث ذاتہا، وأمّا بإعلام اللّٰہ للعبد فلا مانع منہ کالأنبیاء وبعض الأولیاء، قال تعالی :{ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ } ۔ وقال تعالی: {  عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ  } قال العلماء: وکذا ولي، فلا مانع من کون اللّٰہ یطلع بعض عبادہ الصالحین علی بعض ہذہ المغیبات، فتکون معجزۃ للنبي وکرامۃ للولي )۔ (تفسیر الصاوی، پارہ: 21، لقمان، تحت الآیۃ:34، جلد:5، صفحہ:1607) 


مگر یہ سب حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے واسطہ و عطا سے ہے، چنانچہ شارحِ بخاری شہابُ الدّین ابوالعباس حضرت سیّدُنا امام احمد بن محمد قسطلانی  رحمۃُ اللہِ علیہ (المتوفی:923ھ) ارشاد السارى میں لکھتے ہیں:’’مفاتیح الغیب‘‘  أي:  خزائن الغیب ’’ خمس لا یعلمھا إلّااللّٰہ ‘‘  ذکر خمساً وإن کان الغیب لا یتناھی؛ لأنّ العدد لا ینفي الزائد، أو لأنّھم کانوا یعتقدون معرفتھا  ’’ لا یعلم ما في غد إلّا اللّٰہ ولا یعلم ما تغیض الأرحام ‘‘  أي :  ما تنقصہ، ’’إلاّ اللّٰہ ولا یعلم متی یأتي المطر أحد إلّا اللّٰہ ‘‘  أي :  إلاّ عند أمر اللّٰہ بہ فیعلم حینئذ کالسابق إذا أمر تعالی بہ،  ’’ولا تدري نفس بأي أرض تموت ‘‘ أي :في بلدھا أم في غیرھا کما ل اتدري في أيّ وقت تموت، ’’ولا یعلم متی تقوم الساعۃ ‘‘  أحد، ’’إلّا اللّٰہ ‘‘  إلاّ من ارتضی من رسول فإنّہ یطلعہ علی ما یشاء من غیبہ والولي التابع لہ یأخذ عنہ”  (إرشاد الساري، کتاب تفسیر القرآن، تحت الحدیث:4697، جلد:10، صفحہ:369) 


 بے وِساطَت ِرسول کوئی غیرِ نبی کسی غیب پر مُطّلع نہیں ہوسکتا، چنانچہ ”ارشاد السارى“ میں ہے:فمن ادّعی علم شيء منہا غیر مستند إلی الرسول صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان کاذباً في دعواہ” ( إرشاد الساري، کتاب الإیمان، باب سؤال جبریل النبيصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۔۔۔ إلخ، تحت الحد یث:50، جلد:1،، صفحہ:243) 


 کرامات کی بعض اقسام ہیں

 ذکر کرتے ہوئے تاج الدین ابو نصر عبد الوھاب بن علی بن عبد الکافی سبکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:771ھ) فرماتے ہیں:”النوع الاول:إحياء الموتى، النوع الثاني:كلام الموتى، الثالث:انفلاق البحر وجفافه، الرابع:إنقلاب الأعيان، الخامس:انزواء الأرض لهم، السادس:كلام الجمادات والحيوانات، السابع:إبراء العليل، الثامن:طاعة الحيوانات لهم، التاسع:طي الزمان، العاشر:نشر الزمان، الحادى عشر:استجابة الدعاء، الثاني عشر:إمساك اللسان عن الكلام وانطلاقه وغيرها“  (طبقات الشافعية الكبرى للسبكى، الطبقة الثانية، جلد:1، صفحة:525-527، دار الكتب العلمية، بيروت) 


اولیائے کرام بھی اللہ پاک کی عطا سے مدد کر سکتے ہیں،

جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے:”فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ“  

ترجمۂ کنز الایمان:تو بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں۔ (اَلتَحْرِیْم، آیت:4) 


اس آیت کے تحت مفسر شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:1391ھ) تفسیر نور العرفان میں فرماتے ہیں:”اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے بندے مددگار ہیں کیونکہ اس آیت میں حضرت جبرئیل اور صالح مسلمانوں کو مولی یعنی مددگار فرمایا گیا اور فرشتوں کو نصیر یعنی معاون قرار دیا گیا جہاں غیر اللہ کی مدد کی نفی ہے وہاں حقیقی مدد مراد ہے، لہذا آیت میں تعارض نہیں۔  (تفسیر نور العرفان، سورة التحريم، تحت الآية:4، صفحة:895) 


حدیث شریف میں حضرت سیدنا عتبہ بن غزوان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں:اذا ضل احد کم شیئا وارادعونا وھو بارض لیس بہا انیس فلیقل یاعباد اﷲ اعینونی یاعباداﷲ اعینونی یا عباداﷲ اعینونی فان اﷲ عباد الایراھم“  یعنی جب تم میں سے کسی کی کوئی چیز گم ہو جائے یا راہ بھول جائے اور مدد چاہے اور ایسی جگہ ہو جہاں کوئی ہمدم نہیں تو اسے چاہیے یوں پکارے اے اﷲ کے بندو میری مدد کرو،اے اﷲ کے بندومیر ی مدد کرو۔اے اﷲ کے بندو میری مدد کرو۔کہ اﷲ کے کچھ بندے ہیں جنھیں یہ نہیں دیکھتا وہ اس کی مدد کرینگے۔ (معجم کبیر، حدیث:290، 15/117) 


شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”واثبات کردہ اند آن را مشایخ صوفیہ قدس اللّٰہ اسرارھم وبعض فقہاء رحمۃ اللّٰہ علیھم واین امری محقق ومقرراست نزداہل کشف وکمل ازایشان تاآنکہ بسیاری رافیوض وفتوح ازارواح رسیدہ واین طائفہ را در اصطلاح ایشان اویسی خوانند امام شافعی غزالی گفتہ ہرکہ استمداد کردہ شود بوی درحیات استمدادکردہ میشود بوے بعد ازوفات ویکی ازمشایخ عظام گفتہ است دیدم چہارکس را ازمشایخ کہ تصرف میکنند درقبور خود مانند تصرفہاے ایشان درحیات خود یا بیشتر و شیخ معروف کرخی وشیخ عبد القادر جیلانی ودوکس دیگر را از اولیا شمردہ ومقصود حصرنیست انچہ خود دیدہ یافتہ است گفتہ وسیدی احمد بن مرزوق کہ از اعاظم فقہاو علماومشایخ دیارمغرب ست گفت کہ روزے شیخ ابوالعباس حضرمی از من پرسید کہ امدادحی اقوی است یاامداد میت من بگفتم قوی میگویند کہ امدادحی قوی تراست ومن میگویم کہ امداد میت قوی ترست پس شیخ گفت نعم زیراکہ دی دربساط حق است ود رحضرت اوست نقل درین معنی ازین طائفہ بیشترازان است کہ حصرواحصارکردہ شودویافتہ نمیشود درکتاب وسنت واقوال سلف صالح کہ منافی ومخالف این باشد ورد کند این را وبتحقیق ثابت شدہ است بآیات واحادیث کہ روح باقی است و اورا علم وشعور بزائران واحوال ایشان ثابت است وارواح کاملان را قربے ومکانتے درجناب حق ثابت ست چنانکہ در حیات بود یا بیشتر ازان واولیا را کرامات وتصرف در اکوان حاصل است وآن نیست مگر ارواح ایشان را وارواح باقی ست وتصرف حقیقی نیست مگر خدا عز شانہ وہمہ بقدرت اوست وایشان فانی اند در جلال حق در حیات وبعد از ممات پس اگر دادہ شود مراحدی را چیزے بوساطت یکی از دوستان حق ومکانتی کہ نزد خدا دارد ودر نبا شد چنانکہ در حالت حیات بود ونیست فعل وتصرف در ہر دوحالت مگر حق را جل جلالہ وعم نوالہ ونیست چیزے کہ فرق کند میان ہر دوحالت و یافتہ نشدہ است دلیلی بران در شرح شیخ ابن حجر ہیتمی مکی در شرح حدیث : (( لعن اللّٰہ الیہود والنصاری اتخذوا قبور أنبیائہم مساجد )) [ ’’ صحیح البخاري ‘‘ ، کتاب الصلاۃ، الحدیث : ۴۲۷، ج ۱، ص ۱۶۴] گفتہ است کہ این برتقدیرے ست کہ نماز گزارد بجانب قبر از جہت تعظیم وے کہ آن حرام ست باتفاق واما اتخاذ مسجد در جوار پیغمبرے یاصالحی ونماز گزاردن نزد قبروے نہ بقصد تعظیم قبر وتوجہ بجانب قبر بلکہ بہ نیت حصول مدد از وے تا کامل شود ثواب عبادت ببرکت قبر ومجاورت مرآن روح پاک را حرجے نیست“  

 یعنی:  ’’مشائخ صوفیہ اور بعض فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے اولیاء کرام سے مدد حاصل کرنے کو ثابت اور جائز قرار دیا ہے اور یہ عقیدہ اہل کشف اور ان کے کاملین کے ہاں  محقق اور طے شدہ عقیدہ ہے یہاں  تک کہ بہت سے حضرات کو ان ارواح سے فیوض اور فتوح حاصل ہوئے ہیں  اور اس گروہ صوفیہ کی اصطلاح میں  انھیں  اویسی کہتے ہیں ۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں  : حضرت موسی کاظم کی قبر انور قبولیت دعا کے لیے تریاق مجرب ہے ،حجۃ الاسلام امام محمد غزالی نے فرمایا: جس سے اس کی زندگی میں  مدد لینا جائز ہے ، اس سے بعد وفات بھی مدد طلب کرنا جائز ہے ۔ مشائخ عظام میں سے ایک نے فرمایا :میں  نے چار مشائخ کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی قبور میں  اس طرح تصرف کرتے ہیں  جس طرح اپنی زندگی میں  تصرف کرتے تھے یا اس سے بڑھ کر حضرت شیخ معروف کرخی، حضرت شیخ عبد القادر جیلانی اور دو اور بزرگ شمار کیے اوران چار میں  حصر مقصود نہیں  جو کچھ اس بزرگ نے خود دیکھا اور پایا اس کا بیان کردیا ۔


                سیدی احمد بن مرزوق رضی اللہ عنہ کہ اعاظم فقہا وعلماء اور مشائخ دیار مغرب میں  سے ہیں، فرماتے ہیں : کہ ایک دن شیخ ابو العباس حضرمی نے مجھ سے دریافت کیا :کہ زندہ کی امداد زیادہ قوی ہے یا میت کی ؟میں  نے کہا: ایک قوم کہتی ہے کہ زندہ کی امداد قوی تر ہے اور میں  کہتا ہوں  کہ میت کی امداد قوی تر ہے ۔شیخ نے فرمایا :ہاں  ؛کیونکہ وفات یافتہ بزرگ حق تعالیٰ کی درگاہ میں  اسکے سامنے ہے ۔اس بارے میں  اس گروہ صوفیہ سے اس قدر رویات منقول ہیں  کہ حد شمار سے باہر ہیں۔


                پھر کتاب وسنت واقوال سلف و صالحین میں  ایسی کوئی چیز نہیں  جو ا س عقیدہ کے منافی اور مخالف ہواور اسکی تردید کرتی ہو بلکہ آیات و احادیث سے تحقیقی طور پر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ روح باقی ہے اور اسے زائرین اور انکے حالات کا علم وشعور ہوتاہے اور یہ کہ ارواح کاملین کو جناب حق تعالیٰ میں  قرب ومرتبہ حاصل ہے جس طرح زندگی میں  انھیں  حاصل تھا بلکہ اس سے بڑھ کر ، اور اولیاء کرام کی کرامات بر حق ہیں  اور انھیں  کائنات میں  تصرف کی قوت وطاقت حاصل ہے یہ سب کچھ انکی ارواح کرتی ہیں ،اور وہ باقی ہیں  اور متصرف حقیقی تو اللہ عزشانہ ہے، یہ سب کچھ حقیقۃً اسی کی قدرت کا کرشمہ ہے یہ حضرات اپنی زندگی میں  اور بعداز وصال جلال حق میں  فانی اور مستغرق ہیں  ، لہٰذااگر کسی کو دوستانِ حق کی وساطت سے کوئی چیز اور مرتبہ حاصل ہوجائے تو کوئی بعید نہیں  (اور اس کا انکار درست نہیں )جیساکہ انکی ظاہری زندگی میں  تھا اور حقیقۃً تو فعل و تصرف حق جل جلالہ وعم نوالہ کا ہوتا ہے اور ایسی کوئی دلیل اور وجہ موجود نہیں  جو زندگی اور موت میں  فرق کرے۔ حضرت شیخ ابن حجر ہیتمی مکی رحمہ اللہ تعالیٰ نے حدیث پاک: (( لعن اللّٰہ الیہود والنصاری اتخذوا قبور أنبیائہم مساجد )) [ ’’ صحیح البخاري ‘‘ ، کتاب الصلاۃ، الحدیث :427، جلد:1، صفحہ:164]  (اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاری پر لعنت کی ہے کیونکہ انھوں  نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبور کو سجدہ گاہ بنالیا) کی شرح میں  فرمایاکہ یہ اس صورت میں  ہے کہ انکی تعظیم کی خاطر ان کی قبور کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے کہ ایسا کرنا بالاتفاق حرام ہے لیکن کسی پیغمبر یا ولی کے پڑوس میں  مسجد بنانا اور اسکی تعظیم کے ارادہ اور قبر کی طرف توجہ کیے بغیر نماز ادا کرنا جائز ہے بلکہ حصول مدد کی نیت سے تاکہ اس کی قبر کی برکت سے عبادت کا ثواب کامل ملے اور اسکی روح پاک کا قرب وپڑوس نصیب ہوتو اس میں  کوئی حرج وممانعت نہیں۔ (أشعة اللمعات، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، صفحة:762-763)


صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظَمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:”اِن سے (یعنی اولیاء سے) اِستِمداد و اِستِعانت محبوب ہے، یہ مدد مانگنے والے کی مدد فرماتے ہیں چاہے وہ کسی جائز لفظ کے ساتھ ہو۔ رہا ان کو فاعلِ مستقل جاننا، یہ وہابیہ کا فریب ہے، مسلمان کبھی ایسا خیال نہیں   کرتا، مسلمان کے فعل کو خواہ مخواہ قبیح صورت پر ڈھالنا وہابیت کا خاصہ ہے۔ (بہارِ شریعت، ولایت کا بیان، جلد:1، حصہ:1، صفحہ:274، مجلس المدينة العلمية دعوت اسلامی) 


والله تعالیٰ اعلم بالصواب

=========================================



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.