اگر کوئی شخص کہے کہ اگر جلسہ کروائیے گا تو ایک روپیے بھی نہیں دوں گا، اور اگر قوالی کرواؤ گے تو تیس ہزار میرے طرف سے رہے گا، لہٰذا مذکورہ مسؤلہ میں اس شخص پر کیا حکم ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
دینی تقریبات میں صدقات کارِ ثواب ومستحسن ہے کہ نیکی پر مُعاوَنت ہے اور غیر شرعی تقریبات و مَحافِل میں مالی یا بَدَنی مدد کرنا، ناجائز وگُناہ ہے کہ گناہ پر مُعاوَنت ہے۔ لہذا صورتِ مسؤولہ میں جو شخص یہ کہے کہ میں دِینی جَلسہ میں ایک روپیہ بھی نہیں دوں گا، اس پر کوئی گُناہ تو نہیں ہے کہ مستحبات میں جبر نہیں جبکہ اسے غلط نہ سمجھے۔ اور یہ کہنا کہ ”قوالی کراؤگے تو 30 ہزار میری طرف سے رہیں گے“ گُناہ پر مُعاوَنت کے سَبَب ضرور وہ شخص گناہ گار ہوگا، کہ مُروَّجہ قوَّالی ناجائز وحرام ہیں۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:﴿ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِٛ﴾ترجمۂ کنز الایمان:اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ (القرآن الکریم، سورة الْمَآئِدَة، آیت:2)
اس آیت کے تحت تفسیرِ طِبری میں ہے:”قال أبو جعفر: يعني جل ثناؤه بقوله:"وتعاونوا على البر والتقوى"، وليعن بعضكم، أيها المؤمنون، بعضًا "على البر" ، وهو العمل بما أمر الله بالعمل به "والتقوى"، هو اتقاء ما أمر الله باتقائه واجتنابه من معاصيه.
”وقوله:"ولا تعاونوا على الإثم والعدوان"، يعني: ولا يعن بعضكم بعضًا "على الإثم"، يعني:على ترك ما أمركم الله بفعله "والعدوان"، يقول:ولا على أن تتجاوزوا ما حدَّ الله لكم في دينكم، وفرض لكم في أنفسكم وفي غيركم“ ترجمہ:انو جعفر نے فرمایا اللہ جل وثناء کا قول (وتعاونوا على البر والتقوى) یعنی اے مسلمانو! نیکی پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور بِرٌ وہ عمل ہے جس کے کرنے کا اللہ پاک نے حکم عطا فرمایا اور جس سے بچنے کا حکم ہے اس سے بچنا اور معاصی سے اجتناب کرنا تقوی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کا قول (ولا تعاونوا على الإثم والعدوان) یعنی گُناہ پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو یعنی اس ترک پر جس کو کرنے کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حُکم دیا ہے، اور ”عدوان“ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو تمہارے لیے حد مقرر فرمائی ہے اس سے تجاوُز نہ کرو اور نہ اس پر جو تمہاری جانوں اور اس کے علاوہ تم فرض کیا ہے۔ (تفسیر طبری، سورۃ المآَئدہ، تحت الآية:2)
صراط الجِنان میں ہے:”یہ انتہائی جامع آیتِ مبارکہ ہے، نیکی اور تقویٰ میں ان کی تمام اَنواع واَقسام داخل ہیں اور اِثْم اور عُدْوَان میں ہر وہ چیز شامل ہے جو گناہ اور زیادتی کے زُمرے میں آتی ہو۔ علمِ دین کی اشاعت میں وقت ،مال ، درس و تدریس اور تحریر وغیرہ سے ایک دوسرے کی مدد کرنا، دینِ اسلام کی دعوت اور اس کی تعلیمات دنیا کے ہر گوشے میں پہنچانے کے لئے باہمی تعاون کرنا، اپنی اور دوسروں کی عملی حالت سدھارنے میں کوشش کرنا ،نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا، ملک و ملت کے اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا، سوشل ورک اور سماجی خدمات سب اس میں داخل ہے۔ گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم ہے ۔ کسی کا حق مارنے میں دوسروں سے تعاون کرنا، رشوتیں لے کر فیصلے بدل دینا، جھوٹی گواہیاں دینا، بلا وجہ کسی مسلمان کو پھنسا دینا، ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ دینا، حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا، بدی کے اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائز ہے۔“ (صراط الجنان، سورۃ المآَئدہ، تحت الآية:2)
مُروَّجہ قوَّالی ناجائز وحرام ہیں، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”مزامیرحرام ہیں،صیح بخاری شریف کی حدیث صحیح میں حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایك قوم کاذکرفرمایا:” یستحلون الحر والحریر والمعازف“ زنا اور ریشمی کپڑوں اور باجوں کو حلال سمجھیں گے۔اور فرمایا:وہ بندراور سورہوجائیں گے۔
ہدایہ وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ مزامیر حرام ہیں۔حضرت سلطان الاولیاء محبوب الٰہی نظام الحق والدّین رضی اﷲ تعالٰی عنہ فوائد الفوادشریف میں فرماتے ہیں:مزامیر حرام ست (گانے بجانے کے آلات حرام ہیں۔ت)
حضرت شرف الدین یحٰیی منیری قدس سرہ نے اپنے مکتوبات شریفہ میں مزامیر کو زنا کے ساتھ شمارفرمایا۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:24، صفحہ:139، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
والله تعالیٰ اعلم بالصواباز قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

