:جامعہ اشرفیہ حکومت کی بد نیتی اور اپنوں کی سازش کا شکار

 

:جامعہ اشرفیہ حکومت کی بد نیتی اور اپنوں کی سازش کا شکار

:طالب دعا 
ابوالعطر محمد عبدالسلام امجدی برکاتی
10,01, 2026

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

آج جب حسبِ معمول دفتر پہنچا اور موبائل پر واٹس ایپ کھولا تو مختلف گروپس میں ایک ہی جانکاہ خبر گردش کرتی ہوئی نگاہوں سے گزری۔ چند لمحوں کے لیے یقین نہ آیا، مگر جیسے جیسے الفاظ ذہن میں اترتے گئے دل افسردہ ہوتا چلا گیا اور ذہن پر ایک عجیب سی پریشانی طاری ہو گئی۔ یہ کوئی عام خبر نہ تھی، بلکہ ایسی اطلاع تھی جس نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔یہ کوئی عام اطلاع نہ تھی، بلکہ ایسی جانکاہ خبر تھی جس نے دل کے نہاں خانوں میں کہرام برپا کر دیا۔ نگاہیں چند سطروں پر جمی رہ گئیں، دل بیٹھ سا گیا اور ذہن پر ایسی ویرانی چھا گئی جیسے کسی نے یکایک چراغ گل کر دیا ہو۔

آج کا دن کچھ اور ہی ارادوں کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ طے یہ تھا کہ جنوری کی پہلی تاریخ کو جس عظیم فکری اور ملی منصوبے کا آغاز کیا تھا، اس پر کام کے تسلسل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ وہ منصوبہ جو پچھلے ہفتے نیپال میں مساجد پر ہونے والے حملوں اور قرآنِ مقدس کی بے حرمتی جیسے روح فرسا واقعات کے باعث ویسے ہی تعطل کا شکار ہو چکا تھا۔ 

ابھی دل نے سنبھلنے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ یہ منحوس خبر سامنے آ گئی۔ ایسی خبر جس نے وجود کو ہلا کر رکھ دیا اور یوں محسوس ہوا جیسے ذہن اچانک منجمد ہو گیا ہو۔ ہاتھ کمپیوٹر کے ماوس اور کیبورڈ پر  تھا مگر خیالات بکھر چکے تھے، الفاظ ساتھ چھوڑ گئے تھے اور دل کسی گہرے نوحے میں ڈوبا ہوا تھا۔ یہ محض ایک ادارے سے متعلق اطلاع نہ تھی، بلکہ اہلِ سنت کی علمی تاریخ، فکری وراثت اور روحانی تشخص پر ایک کاری ضرب تھی۔

جامعہ  اشرفیہ مبارکپور (اعظم گڑھ) کی عالیہ سطح کی منظوری کی معطلی کی خبر کسی سادہ انتظامی کارروائی کا نام نہیں، بلکہ ملتِ اسلامیہ بالخصوص اہلِ سنت کے علمی، فکری اور روحانی وجود کے لیے ایک شدید صدمہ ہے۔جامعہ اشرفیہ کوئی نو آموز یا غیر معروف ادارہ نہیں، بلکہ وہ عظیم علمی و روحانی مرکز ہے جس نے دہائیوں تک علم و حکمت کے چراغ روشن کیے، جہاں سے نکلنے والے علماء نے ملک و بیرونِ ملک دین کی شمع جلائی،ملک کی مختلف میدانوں میں خدمت و آبیاری کی اور جس کی فضاؤں میں اخلاص، تقویٰ اور علمی وقار کی خوشبو رچی بسی رہی۔ ایسے ادارے کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک صرف ایک مدرسے کو نہیں، بلکہ پوری علمی روایت کو لہولہان کرنے کے مترادف ہے۔

یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ ضابطے، قوانین اور نگرانی ہر ادارے کے لیے ضروری ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان قوانین کا اطلاق ہر جگہ یکساں ہے؟ کیا ایک تاریخی، معتبر اور ملت کے اعتماد کا حامل دینی ادارہ اس بات کا مستحق تھا کہ محض زیرِ تفتیش امور اور غیر حتمی الزامات کی بنیاد پر اس کی بنیادی منظوری معطل کر دی جائے؟ یا پھر یہ فیصلہ بھی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت دینی اداروں کو مسلسل شک و شبہے کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے؟

افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ معاملہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، الزامات ثابت نہیں ہوئے، عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا، اس کے باوجود عالیہ سطح جیسی اہم اور بنیادی منظوری کو معطل کر دینا ادارے کی ساکھ، طلبہ کے مستقبل اور عوامی اعتماد پر براہِ راست ضرب ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات انصاف کے بجائے خوف، بدگمانی اور انتشار کو جنم دیتے ہیں۔

یہاں یہ تلخ حقیقت بھی پوری دیانت داری کے ساتھ تسلیم کرنا ہوگی کہ اگر اس پوری کارروائی میں ایک طرف حکومتی بد نیتی، جانبدارانہ طرزِ عمل اور مخصوص ایجنڈے کی بو محسوس ہوتی ہے، تو دوسری طرف اس سانحے میں کسی اپنے کی سازش کی کرامت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملت کے کسی عظیم علمی یا روحانی مرکز کو نقصان پہنچا، تو دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے میں اندرونی کمزوریاں، ذاتی مفادات اور باہمی اختلافات نے بھی فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

جامعہ اشرفیہ جیسے ادارے محض عمارتیں یا انتظامی یونٹ نہیں ہوتے، بلکہ یہ ملت کی اجتماعی امانت، فکری شناخت اور روحانی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر کہیں اصلاح کی ضرورت ہو تو اس کا راستہ مکالمہ، رہنمائی اور عدل ہے نہ کہ اچانک پابندیاں، معطلیاں اور تادیبی اقدامات۔ایسے نازک اور فیصلہ کن وقت میں یہ بھی ناگزیر ہے کہ ملک کے تمام مشائخِ عظام، بااثر دینی و سماجی شخصیات اور مسلم سیاسی قیادت جامعہ اشرفیہ کے درد میں شریک ہوں، اس کے خلاف جاری تفتیش اور پابندیوں کے سلسلے میں متحد ہو کر آواز بلند کریں اور قانونی چارہ جوئی میں جامعہ اشرفیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ 

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلِ علم، دینی قیادت، دانشورانِ ملت اور انصاف پسند حلقے خوابِ غفلت سے بیدار ہوں، جذبات کے بجائے شعور کے ساتھ اس مسئلے کو دیکھیں اور یہ مطالبہ کریں کہ جامعہ اشرفیہ کے ساتھ مکمل انصاف کیا جائے۔ شفاف تحقیقات، غیر جانبدارانہ رویہ اور قانونی توازن ہی اس اندوہناک صورتِ حال کا واحد باوقار حل ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جامعہ اشرفیہ کو اس سخت آزمائش سے سرخرو فرمائے، باطل سازشوں کو بے نقاب کرے، حق کو غالب اور ناانصافی کو مغلوب فرمائے اور اہلِ اقتدار کو عدل، دیانت اور خوفِ خدا کی توفیق عطا کرے۔اے ربِ کریم! علم کے ان چراغوں کی حفاظت فرما، ملت کو باہمی اتحاد نصیب فرما اور ہمیں حق کہنے، حق پر ڈٹ جانے اور حق کے لیے قربانی دینے کی ہمت عطا فرما۔ آمین۔


----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

جامعہ اشرفیہ کے نظامِ تعلیم میں حافظِ ملت کی اجتہادی بصیرت اس مضمون کو بھی ضرور پڑھیں پڑھنے کے لیے 

کلک کریں 👈 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.