معصوم کون کون ہوتے ہیں، کیا بچوں کو کہہ سکتے ہیں ان سب کا شرعی حکم کیا ہے




معصوم لفظ جو کسی فرد کے لیے استعمال کرتے ہیں ویسے ہی عموماً بچے کو بھی کہتے ہیں، لہذا اس لفظ کا استعمال کرنا کیسا ہے؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

معصوم ہونا انبیاء اور ملائکہ کا خاصہ ہے، اور اصطلاحِ شرع میں معصوم کہتے ہیں جو اللہ پاک کی حفاظت میں ہو اور اس وجہ سے اس کا گُناہ کرنا ناممکن ہو۔ ان حضرات کے علاوہ کسی دوسرے کو یہ لفظ استعمال کرنا جائز نہیں جو کرے وہ اہلِ سنت سے خارج ہے۔ البتہ عُرفِ عام میں بچوں کو بھی معصوم کہ دیا جاتا ہے اس سے مُراد شرعی معنیٰ نہیں ہوتے ہیں بلکہ لُغوی معنیٰ یعنی بھولا، سادہ دِل، سیدھا سادہ، چھوٹا بچہ، ناسمجھ بچہ، کم سِن مراد ہوتے ہیں۔ اس لیے اس معنیٰ میں بچوں کو مَعصوم کہنے پر کوئی گرفت نہیں اسے ناجائز بھی نہیں کہ سکتے

انبیاء معصوم ہوتے ہیں، چنانچہ علامہ شرف الدین نووی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (متوفی:ھ) فرماتے ہیں:”ذہب جماعۃ من أہل التحقیق والنظر من الفقہاء والمتکلمین من أئمتنا إلی عصمتہم من الصغائر کعصمتہم من الکبائر“ (شرح النووي، جلد:1، صفحہ:108)


ملا علی قاری رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (متوفی:1014ھ) فرماتے ہیں:”الأنبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کلّہم منزہون أي: معصومون، ملتقطاً“ (منح الروض الأزهر شرح الفقه الأكبر، صفحہ:56)


فرشتے بھی معصوم ہوتے ہیں، چنانچہ نبراس میں ہے:”والملائکۃ عباد اللّٰہ تعالَی العاملون بأمرہ ) یرید أنّہم معصومون وقد اختلف في عصمتہم فالمختار أنّہم معصومون عن کل معصیۃ“ (النبراس، صفحہ:287)


اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (1340ھ) فرماتے ہیں:”اجماعِ اہلسنت ہے کہ بشر میں انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے سوا کوئی معصوم نہیں،جو دوسرےکو معصوم مانے اہلسنت سے خارج ہے،پھر عرف حادث میں بچوں کو بھی معصوم کہتے ہیں یہ خارج ازبحث ہے جیسے لڑکوں کے معلم تك کو خلیفہ کہتے ہیں،یہ مبحث واجب الحفظ ہے کہ دھوکا نہ ہو۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:14، صفحہ:188، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)


صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظَمی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ (متوفى:1367ھ) رقمطراز ہیں:”نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عصمت نبی اور مَلَک کا خاصہ ہے، کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ اماموں کو انبیا کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔ عصمتِ انبیا کے یہ معنی ہیں کہ اُن کے لیے حفظِ الٰہی کا وعدہ ہو لیا، جس کے سبب اُن سے صدورِ گناہ شرعاً محال ہے بخلاف ائمہ و اکابر اولیا، کہ اﷲ عزوجل اُنھیں محفوظ رکھتا ہے، اُن سے گناہ ہوتا نہیں، مگر ہو تو شرعاً محال بھی نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد:1، حصہ أوّل، صفحہ:38-39، مجلس المدينة العلمية دعوت اسلامی)

معصوم کے معنیٰ ”فیروز اللغات“ میں درجِ ذیل لکھے ہیں:”بے گناہ، بے قصور، پاک دامن ننھا کمسن، بچ، بھولا سیدھا سادہ۔ (فیروز اللغات، صفحہ:1264)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

  اگر کوئی میسیج پر خود کو معصوم کہے تو اس پر کیا حکم شرع ہے؟ اس مسئلہ کو مفصل پڑھنے کے لیے کلک کریں 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.