حضور ﷺ کی صحابہ کے ساتھ مشاورت| محمد علاء الدین قادری مصباحی





عنوان: حضور ﷺ کی صحابہ کے ساتھ مشاورت

تحریر: محمد علاءالدین قادری مصباحی بلرام پور

-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کی ایک خوبی یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ جب انھیں کوئی اہم معاملہ درپیش ہو تو وہ اسے باہمی مشورے سے حل کرتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ۪-وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ۪-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ" (شعوریٰ، آیت:۲۸)
ترجمہ: اور وہ جنھوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز قائم رکھی اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے اور ہمارے دئیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
 باہمی مشاورت کی مزید اہمیت و افادیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ حضور نبیِ اکرم صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اجتہادی امور میں صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے مشورہ کرنے کا حکم دیتا ہے: ’’وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ‘‘ (اٰل عمران:۱۵۹)
ترجمہ: اور کاموں میں ان سے مشورہ لو۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ حکم صحابہ کرام کی دل جوئی اور خوش دلی کے پیشِ نظر ہے۔
سیرتِ نبویہ کا مطالعہ کرنے والوں پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ حضور ﷺ نے صحابۂ کرام اور امھات المومنین رضی اللہ عنہم اجمعین سے متعدد مقامات پر اہم ترین معاملات میں مشورہ فرمایا ہے۔ بر حکمِ امتثال چند واقعات احادیث مبارکہ کی روشنی میں پیش کرتا ہوں۔ ملاحظہ فرمائیں۔ ہمیں بھی آپ کی اس سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے کاموں میں جہاں دیدہ، تجربہ کار، خیرخواہ اور صاحبِ عقل و دانش حضرات سے مشورہ کرنا چاہیے۔

: اسلامی فوج کا میدانِ بدر میں پڑاؤ کا مسئلہ

غزوہ بدر سے کون واقف نہیں ہے، تاریخ اسلام کا یہ پہلا فیصلہ کن معرکہ میدان بدر وقوع پذیر ہوا جس نے حق و باطل کے درمیان خط امتیاز کھینچ دیا۔ اس کے پس منظر اور پیش منظر کا یہ موقع نہیں ہے، بایں سبب ہم پیش نظر عنوان کی طرف آتے ہیں۔ جب حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے جانثار صحابہ کے ساتھ میدان بدر کو اپنے قدومِ میمنت سے شرفیاب فرمایا تو وہاں ایک اہم مسئلہ درپیش تھا کہ پڑاؤ کس جگہ کیا جائے، آپ ایک جگہ پڑاؤ کرنے لگے، تو حضرت حُباب بن مُنذِر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی اس جگہ کے بارے میں کیا رائے ہے؟ کیا یہ وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو نزول کرنے کا حکم دیا ہے، اور ہمیں اس سے آگے یا پیچھے ہونے کی اجازت نہیں ہے؛ یا یہ رائے، جنگ اور تدبیر ہے۔ آپ نے فرمایا: بلکہ یہ رائے، جنگ اور تدبیر ہے۔ تو حضرت حباب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو یہ ہمارے لیے مناسب جگہ نہیں ہے۔ آپ لوگوں کو لے کر تشریف لے چلیے کہ ہم اس چشمے تک پہنچ کر اتر پڑیں جو ان لوگوں سے بہت قریب ہے اور اس کے پیچھے جتنے چشمے یا گڑھے ہیں انھیں ناکارہ کر دیں اور وہاں ایک حوض بنا کر اسے پانی سے بھر لیں اور ان لوگوں سے جنگ کریں تاکہ ہمیں پینے کو پانی ملتا رہے اور انھیں نہ ملے، تو رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے صحیح رائے دی۔ پھر رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے سب ساتھ والے اٹھ کر چلے یہاں تک کہ جب ان لوگوں سے قریب ترین چشمے کے پاس پہنچے تو وہاں اتر پڑے پھر دوسرے چشموں کے متعلق حکم فرمایا تو وہ ناکارہ کر دیے گئے اور جس چشمے پر آپ اترے تھے اس پر حوض بنا کر پانی بھر لیا گیا اور اس میں(پانی بھرنے کے) برتن ڈال دیئے۔(سیرت النبی ابن ہشام مترجم، ح: ۲، ص: ۲۷۲-۲۷۳، اسلامی کتب خانہ، پاکستان لاہور)

: بدر کے قیدیوں کا مسئلہ

اللہ تعالیٰ نے حبیب رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے طفیل صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو فتح مبین عطا فرمایا اور کفار مکہ کو ذلیل و رسوا کیا، مشرکین مکہ کے ۷۰/ آدمی قتل کیے گئے اور ۷۰ ہی قید ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن جب قیدیوں کو لایا گیا تو رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟ (جامع ترمذی، ابواب التفسیر، ص: ۱۳۴، مجلسِ برکات)
صحاحِ ستہ اور سیرت کی دیگر کتب میں یہ واقعہ قدر تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قتل کا مشورہ دیا اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فدیہ لینے کا مشورہ دیا۔ حضور صلیٰ اللہ تعالیٰ عنہ نے فدیہ ادا کر کے کرنا کا حکم دیا اور جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے، ان کا فدیہ آپ نے یہ مقرر کیا کہ بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ یہ انوکھا فدیہ اسلام نے مقرر کیا ہے۔

: صلحِ حدیبیہ کے موقع پر ایک نازک ترین مسئلہ

صلحِ حدیبیہ کا واقعہ بخاری و مسلم کے علاوہ حدیث اور سیرت کی دوسری کتابوں میں مفصل بیان کیا گیا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ صلح حدیبیہ کئی وجوہات کی بنا پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر گراں گزر رہی تھی۔ ایک ایک لمحہ انتہائی صبر آزما تھا۔ لیکن سب سے نازک موڑ اس وقت آیا، جب رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم صلح نامہ سے فارغ ہوئے، تو آپ نے صحابہ سے ارشاد فرمایا کہ اٹھو اور قربانی کرو پھر حلق کرو تو کوئی بھی شخص نہیں اٹھا یہاں تک کہ آپ نے تین مر تبہ فرمایا۔ تو جب ان میں سے کوئی بھی نہیں اٹھا تو آپ ﷺ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس تشریف لائے اور ام المومنین سے پورا معاملہ ذکر فرمایا۔ تو آپ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ باہر تشریف لے جائیں اور ان میں سے کسی سے کوئی گفتگو نہ فرمائیں اور آپ اپنی قربانی پیش کریں اور اپنے حجام کو بلا کر آپ اپنا حلق فرما لیں۔ تو آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور کسی سے کوئی گفتگو نہیں فرمائی۔ آپ نے ویسا ہی کیا۔ اپنی قربانی پیش کی اور حلق فرمایا۔ تو جب صحابہ نے دیکھا تو اٹھے اور اپنی اپنی قربانی پیش کی، ایک دوسرے کا حلق کرنے لگے اور رنج و غم کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کر ڈالیں گے۔ (صحیح بخاری،ج: ۲، ص: ۳۸۰، مجلسِ برکات)

یاد رہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس امید میں توقف کیا تھا کہ ممکن ہے حضور ﷺ حکم تبدیل فرمادیں، ان کی نیت انکار کی نہ تھی؛ کیوں کہ جب انھیں جزم و یقین ہو گیا کہ اب تبدیلِ حکم ممکن نہیں ہے تو اس صورت میں اسی پر عمل کیا جو آپ کا ارشاد گرامی تھا۔ اور قربان جائیے! ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی فہم وفراست پر کہ آپ نے اپنی مومنانہ بصیرت سے ایک بڑی مصیبت سے بچا لیا۔

دعاگو ہوں کہ مولیٰ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے اہم ترین معاملات میں باہم مشورے سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین و دنیا کی بھلائیوں سے سرفراز فرمائے اپنی زندگی کو اسوۂ حسنہ کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

تجارت تعلیمات نبوی کی روشنی میں اس موضوع پر ایک زبردست مضمون ایک ضرور پڑھیں پڑھنے کے لیے 

👉 کلک کریں 👈 





Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.