"Happy New year" kahna kaisa hai aur celebration manana kaisa hai?
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
شریعت کے دائرے میں رہ کر نئے سال کی خوشی منانا شرعاً جائز ہے کہ اس نے نیا سال دیکھنا نصیب فرمایا اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے۔ اسی طرح نئے سال کی مبارک باد دینا، مثلاً یوں کہنا ”Happy new year“ کہ اس کا مطلب ہوتا ہے یہ سال آپ کے لیے مُبارک رہے، خیر سے گُزرے۔ یہ جائز ہے کہ دُعائے خیر ہے۔ اور مسلمان کو دُعا دینا یہ تو مستحسن عمل ہے۔
لیکن مَعَاذَ اللہ شراب اورمختلف طرح کے نشوں اورجُوئے کا انتظام ہوتا ہے ، رات کے 12 بجتے ہی کروڑوں روپے آتش بازی میں جھونک دئیے جاتے ہیں ،ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے، منچلے نوجوان موٹر سائیکلوں سے سائلنسر نکال کر، کاروں میں لگے ہوئے ڈیک پر کان پھاڑ آواز میں گانے چلا کر ٹولیوں کی صورت میں سڑکوں پراُودَھم مچاتے اور لوگوں کا سکون برباد کرتے ہیں،کئی نوجوان وَن ویلنگ(One Wheeling) کرتے ہوئے لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔افسوس !اس اُمّت کے کروڑوں روپے صِرف ایک رات میں ضائع ہوجاتے ہیں،خوشیاں منانے کے نام پر اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کرکے اپنے کندھوں پر گناہوں کا بوجھ مزید بھاری کیا جاتا ہے ۔اس رات میں کئی لوگ زہریلی شراب، ہوائی فائرنگ، ایکسیڈنٹ اور آگ میں جُھلس کر ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ گناہوں کے نام اور خُرافات نئے سال کے موقع پر ہوں خواہ دوسرے مواقع پر بہر حال ناجائز وحرام ہیں۔
نیز یہ بھی یاد رہے کہ اسلام میں نئے سال کا آغاز محرم سے ہوتا ہے نہ کہ جنوری سے۔
حدیث شریف سے ثابت ہے کہ اصحاب رسول اللہﷺ کا معمول تھا کہ نئے سال یا مہینے کی آمد پر وہ ایک دوسرے کو درجِ ذیل دُعا سکھاتے تھے:”اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة والإسلام ، ورضوان من الرحمن وجواز من الشيطان“ يعنی اے اللہ ! اس (نئے مہینے یا نئے سال) کو ہمارے اوپر امن و ایمان سلامتی و اسلام اور اپنی رضامندی، نیز شیطان سے پناہ کے ساتھ داخل فرما۔ (المعجم الاوسط حدیث:6241)
قمری چاند دیکھ کر حضورﷺ دیکھ کر دعا مانگنے کے متعلق مشکوۃ شریف میں ہے:”عن طلحة بن عبيد الله ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا راى الهلال قال: «اللهم اهله علينا بالامن والايمان والسلامة والاسلام ربي وربك الله»“ یعنی وایت ہے حضرت طلحہ ابن عبید اللّٰه سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جب چاند دیکھتے تو کہتے اے اللّٰه اسے ہم پر امن و امان، سلامتی اورا سلام کا چاند بنا کر چمکا اے چاند میرا اور تیرا رب اللّٰہ ہے۔
اس حدیث پاک تحت مرآۃ المناجیح میں ہے:”اس طرح کہ یہ چاند ہمارے لیے تیری یہ نعمتیں لایا ہو اور اس مہینہ میں ہمیں تیری یہ نعمتیں ملیں۔خیال رہے کہ اوقات راحات و آفات کا ظرف تو ہیں مگر کبھی سبب بھی ہوتے ہیں جیسے گرمی اور سردی کا سبب وقت ہے،نمازوں کے وجوب کا سبب وقت ہے،ایسے ہی کبھی روحانی حالات کا سبب بھی وقت بن جاتے ہیں لہذا یہ دعا اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4، حدیث نمبر:2428)
امام اَجَل علامہ جلال الدین سیوطی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”امام حسن مقدسی رحمۃ اللہ علیہ سے اس کے تعلق سوال ہوا تو فرمایا:”آراہ اينه مباح“ یعنی میری رائے مبارک باد دینا جائز ہے۔ (الحاوی للفتاوی)
بلکہ علامہ جمل رحمۃ اللہ علیہ نے تو اسے امر مستحسن قرار دیا، چنانچہ فتوحات الوہاب میں ہے:”التهنئة بالأعياد والشهور والأعوام مستحبة“ یعنی تہواروں، مہینوں اور سالوں کی مبارک باد دینا مستحب ہے۔
تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”اگر اس کے اندر ناجائز حرکات کا ارتکاب ہوتا ہو اور نصرانیوں کے طور پر ان کے خاص وہ کام جو عیسائیوں کی علامات ہیں وہ انجام پاتے ہیں، تو اس سے پر ہیز ضروری ہے اور یوں ہی ” نیا سال مبارک ہو“ بغرض دعا کہنے میں حرج نہیں، جب کہ غیروں سے تشبہ نہ ہو اور نہ تشبہ مقصود ہو۔“ (تاج الشریعہ کی عِلمی مَجَالِس، کتاب الحظر والإباحة، صفحة:237)
سراج الفقہاء مفتی محمد نظام الدین مصباحی مُدَّ ظِلُّهُ الْعَالِى فرماتے ہیں:”نئے سال کی مبارک باد دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ سال آپ کے لیے مُبارک رہے، خیر سے گُزرے۔ یہ جائز ہے کہ دُعائے خیر ہے۔ ہاں اگر کوئی انگریزوں کے بنائے ہوئے ماہ وسال کی تعظیم کے لیے کہے تو مکروہ ہے مگر عام طور پہ مسلمان یہ نیَّت نہیں رکھتے بلکہ ان کا مَقصد دُعائے خیر ہوتا ہے اور اس میں کوئی مُضائقہ نہیں۔“ (سِراج الفُقَہَاء کی دِینی مَجالس، كتاب الحظر والإباحة، صفحة:144)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

