جانور کی کھال کھانا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِاَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حلال جانور کو جب ذبح کر دیا جائے تو ممنوع اَجزاء کو چھوڑ کر جانور کا کُل گوشت کھانا، شرعاً جائز وحلال ہوتا ہے۔ لہذا حلال مَذبوح جانور کی کھال کھانا شرعاً جائز ہے کوئی گُناہ نہیں۔ اگرچہ گائے،بھینس بکری کی کھال کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔
دُرِّ مُختار میں ہے:”اذا ما ذکیت شاۃ فکلها سوی سبع ففیهن الوبال“ یعنی جب بکری ذبح کی گئی تو سات اَجزاء جن میں وبال ہے کے ماسوا کو کھاؤ۔ (درِ مختار مع ردالمحتار، مسائل شتی، ج:10، صفحہ:513)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ تحریر فرماتے ہیں:”مذبوح حلال جانور کی کھال بیشك حلال ہے۔شرعا اس کا کھانا ممنوع نہیں اگر چہ گائے،بھینس بکری کی کھال کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:20، صفحہ:233، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
👇🏻مزید پڑھیں
نیز

