بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

جانور کی کھال کھانا کیسا ہے؟



جانور کی کھال کھانا کیسا ہے؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

حلال جانور کو جب ذبح کر دیا جائے تو ممنوع اَجزاء کو چھوڑ کر جانور کا کُل گوشت کھانا، شرعاً جائز وحلال ہوتا ہے۔ لہذا حلال مَذبوح جانور کی کھال کھانا شرعاً جائز ہے کوئی گُناہ نہیں۔ اگرچہ گائے،بھینس بکری کی کھال کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔

دُرِّ مُختار میں ہے:”اذا ما ذکیت شاۃ فکلها سوی سبع ففیهن الوبال“ یعنی جب بکری ذبح کی گئی تو سات اَجزاء جن میں وبال ہے کے ماسوا کو کھاؤ۔ (درِ مختار مع ردالمحتار، مسائل شتی، ج:10، صفحہ:513)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ تحریر فرماتے ہیں:”مذبوح حلال جانور کی کھال بیشك حلال ہے۔شرعا اس کا کھانا ممنوع نہیں اگر چہ گائے،بھینس بکری کی کھال کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:20، صفحہ:233، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

كتبه:محمد اُویس العطاری المصباحی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
👇🏻مزید پڑھیں 
نیز 

0 Response to "جانور کی کھال کھانا کیسا ہے؟"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->