بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

بیت الخلاء میں تھوکنا کیسا ہے؟


بیت الخلاء میں تھوکنا کیسا ہے؟

بیت الخلاء میں تھوکنا کیسا ہے؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

نجاست میں تھوکنا منع ہے کیونکہ مسلمان کا منہ قرآن عظیم کا راستہ ہے اور اسی سے ذکر اللہ کرتا ہے تو اس کا لُعاب ناپاک جگہ پر ڈالنا بیجا اور نامُناسِب ہے۔ لہذا صورتِ مسؤولہ میں بیت الخلاء میں پیشاب یا پاخانہ میں تھوکنا منع ہے، ہاں دیوار پر تھوک سکتا ہے۔

علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1252ھ) لکھتے ہیں:”لا یبزق فی البول“ یعنی پیشاب میں نہ تھوکا جائے۔ (رد المحتار، کتاب الطهارة، باب الأنجاس، مطلب:في الفرق بين الإستبراء والإستسقاء والإستنجاء، الجزء الأول، صفحة:559، دار عالم الكتب، رياض)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1340ھ) فرماتے ہیں:”پاخانے میں تھوکنے کی ممانعت ہے کہ مسلمان کا مُنہ قرآن عظیم کا راستہ ہے وہ اس سے ذکرِ الٰہی کرتا ہے تو اس لعاب ناپاك جگہ پر ڈالنا بیجا ہے،
 ردالمحتار میں ہے: لایبزق فی البول اھ قلت والدلیل اعم کما علمت۔ پیشاب میں نہ تھوکا جائے اھ میں کہتا ہوں اور دلیل عام ہے جیسا کہ تم جانتے ہو۔(ت) البتہ وہاں کی دیوار وغیرہ جہاں نجاست نہ ہو اس پر تھوکنے میں حرج نہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:4، صفحہ:605، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اَعظَمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1367ھ) نے ناقابلِ مسواک کے متعلق فرمایا: کہ دفن کر دیں یا کسی احتیاط کی جگہ رکھ دیں، اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”ایک تو وہ آلۂ ادائے سنت ہے اس کی تعظیم چاہیئے، دوسرے آبِ دَہنِ مسلِم ناپاک جگہ ڈالنے سے خود محفوظ رکھنا چاہیئے، اسی لیے پاخانہ میں تُھوکنے کو علما نے نامناسب لکھا ہے۔“ (بہارِ شریعت، وضو کا بیان، جلد:1، حصہ:2، صفحہ:294، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

کال گیٹ کرنا کیسا ہے؟ اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے    کلک کریں 


0 Response to "بیت الخلاء میں تھوکنا کیسا ہے؟"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->