تقدیر کسے کہتے ہیں |





تقدیر کا بیان




بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆


تقدیر کا بیان: دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی، بدی وہ سب اللہ پاک کی علمِ اَزَلی کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللہ پاک کے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے، اسی کو *”تقدیر“* کہتے ہیں۔ تقدیر حق ہے اس کا انکار کرنے والا گمراہ، بدمذہب، اہلِ سنّت و جماعت سے خارج ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان لائے، تقدیر کے انکار کرنے والوں کو نبی کریم ﷺ نے اس اُمت کا مجوس بتایا۔ یاد رہے کہ تقدیر کے بارے میں بحث نہ کرے کہ یہ ایمان کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔ تقدیر کا ثبوت قرآن وحدیث میں موجود ہے۔
قرآن پاک میں ہے، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِنَّا كُلَّ شَیْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ﴾ 
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔ (القرآن الکریم، سورۃ القَمَر، آیت:49)

حضور ﷺ نے اِیمان کے متعلق پوچھنے والے کے جواب میں چھ چیزیں ارشاد فرمائیں، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:”قال: فاخبرني عن الايمان. قال: «ان تومن بالله وملاىكته وكتبه ورسله واليوم الاخر وتومن بالقدر خيره وشره» یعنی عرض کیا کہ مجھے ایمان کے متعلق بتائیے فرمایا کہ (1) اللہ (2) فرشتوں (3) اللہ کی نازل کردہ کتابوں (4) رسولوں (5) قیامت کے دن کو مانو اور (6) اچھی یا بری تقدیر کا اللہ پاک کہ طرف سے ہونے پر ایمان لاؤ۔ (مسلم، حدیث:93)

دوسری حدیث پاک میں ہے:”عن عبداللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کتب اللہ مقادیر الخلاءق قبل أن یخلق السموت والأرض بخمسین ألف سنة“ یعنی حضرت عبداللّٰہ بن عمر ورَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصّلَاۃ وَ التسْلیم نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس قبل مخلوقات کی تقدیروں کو لکھا ( لوحِ محفوظ میں ثبت فرمادیا)۔ (مشکوۃ المصابیح، جلد:1،حدیث:79)

تیسری حدیث شریف میں ہے:’’عن عبادۃ بن الصامت قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ان أول ما خلق اللہ القلم فقال له أکتب قال ما أکتب؟ قال أکتب القدر فکتب ما کان وما ھو کاءن الی الأبد“ یعنی حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ سر کارِ اقدس صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ (حقیقت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃوالتحیۃ کے بعد) سب سے پہلے جو چیز خدا نے پیدا کی وہ قلم ہے ۔ خدائے تعالیٰ نے اس سے فرمایا لکھ۔ قلم نے عر ض کیا، کیا لکھوں؟ فر مایا تقدیر ۔ تو قلم نے لکھا جو کچھ ہوچکا تھا اور جو اَبدتک ہونے والا تھا۔ (مشکوۃ المصابیح،جلد:1،حدیث:94)
مُلّا علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ:’’فالأولِیۃ إضافیۃ والأول الْحقیقی ھو النور المحمدی‘‘ یعنی قلم کی اولیت اضافی ہے اور اوّلِ حقیقی نورِ محمدی ہے۔ (مرقاۃ شرح مشکوۃ، جلد:1، صفحہ:139)


:امام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تقدیر کے متعلق فرماتے ہیں:
”وکان اللّٰہ تعالی عالماً في الأزل بالأشیاء قبل کونها، وهو الذي قدّر الأشیاء وقضاہا“ یعنی اللہ پاک تمام اشیاء کو اَزل ہی سے جاننے والا ہے، اور اسی نے تمام چیزوں کو مقدر فرمایا۔ (الفقه الأكبر، القول قي القدر، صفحة:68)

:کیا اللّٰہ پاک نے جو لکھ دیا ہم اس پر مجبور ہیں
یاد رہے کہ بندہ جیسا کرنے والا ہوتا ہے اللہ پاک ویسا ہی اپنے علم کے مطابق لکھ دیتا ہے یہ نہیں کہ اُس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور کر دیا، چنانچہ حضرت مُلّا علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: کتب الله فی حق کل شیئ بأنه سیکون کذا و کذا لم یکتب بأنه لیکن کذا و کذا“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے بارے میں ایسا ہی لکھ لیا جیسا ہونے والی تھی اور نہیں لکھا جو نہیں ہونے والی تھی۔ (منح الروض الأزھر شرح الفقه الأكبر، صفحة:71، مجلس المدينة العملية الدعوة الإسلامية)

بہارِ شریعت میں ہے:”ہر بھلائی، بُرائی اُس نے اپنے علمِ اَزلی کے موافق مقدّر فرما دی ہے، جیسا ہونے والا تھا اورجو جیسا کرنے والا تھا، اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اُس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے، بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اُس نے لکھ دیا۔ زید کے ذمہ برائی لکھی اس لیے کہ زید برائی کرنے والا تھا، اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا وہ اُس کے لیے بھلائی لکھتا تو اُس کے علم یا اُس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کر دیا۔“ (بہارِ شریعت، 1/12)

:تقدیر کا انکار کرنے والا
تقدیر کے انکار کرنے والوں کو نبی کریم ﷺ نے اس اُمت کا مجوس بتایا۔ چنانچہ حدیث پاک میں ہے:”عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:لکلّ أمة مجوس ومجوس هذہ الأمّة الذین یقولون لا قدرَ“ یعنی تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ہر امت میں مجوسی ہوتے تھے اور اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو کہیں گے کہ تقدیر کوئی چیز نہیں۔ (ابو داؤد، کتاب السنة، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانه، 4/294، الحدیث: 4692)

تقدیر کے متعلق بحث کرنا جائز ہے؟

تقدیر کے بارے میں بحث نہ کرے کہ یہ ایمان کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے چنانچہ حدیث پاک میں ہے:”عن جابر ابن عبد الله قال، قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: لا يؤمن عبد حتى يؤمن بالقدر خيره وشره حتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطءه وأن ما اخطاه لم يكن ليصيبه“ يعنى حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ تقدیر کی اچھائی اور برائی پر ایمان نہ لائے،اسی طرح جب تک وہ یہ نہ جان لے کہ جو مصیبت اسے پہنچی ہے وہ اس سے ٹلنے والی نہ تھی اور جو مصیبت اس سے ٹل گئی وہ اسے پہنچنے والی نہ تھی۔( ترمذی، کتاب القدر، باب ماجاء انّ الایمان بالقدر خیرہ وشرّہ، 4/57، الحدیث: 2151)

دوسری حدیث شریف میں ہے:”عن أبي ہریرۃ قال : خرج علینا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ونحن نتنازع في القدر، فغضب حتی احمرّ وجهه حتی کأنّما فُقِیء في وجنتَیْه الرمّانُ، فقال:(( أبهذا أمرتم أم بهذا أرسلت إلیکم ؟ إنّما ہلک من کان قبلکم حین تنازعوا في هذا الأمر، عزمت علیکم ألّا تنازعوا فیه))“ یعنی حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم تقدیر کے بارے میں ایک دوسرے سے بحث کر رہے تھے (یہ دیکھ کر) آپ کو اتنا جلال آیا کہ چہرۂ اَقدس ایسے سرخ ہو گیا جیسے آپ کے مبارک رخساروں پر انار نچوڑ دیا گیا ہو۔آپ نے فرمایا ’’کیا تمہیں اس بات کا حکم دیاگیا ہے یا اسی بات کے لئے میں تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں؟تم سے پہلے لوگوں نے جب اس (تقدیر کے) بارے میں اختلاف کیا تو وہ ہلاک ہو گئے،میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں کہ اس کے بارے میں مت جھگڑو۔ ( ترمذی، کتاب القدر، باب ماجاء من التشدید فی الخوض فی القدر، 4/51، الحدیث:2140)

بہارِ شریعت میں ہے:”قضا و قدر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آ سکتے، ان میں زیادہ غور و فکر کرنا سببِ ہلاکت ہے، صدیق وفاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہما اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے۔ ما و شما کس گنتی میں ۔۔۔! اتنا سمجھ لو کہ اﷲ تعالیٰ نے آدمی کو مثلِ پتھر اور دیگر جمادات کے بے حس و حرکت نہیں پیدا کیا، بلکہ اس کو ایک نوعِ اختیار دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے، چاہے نہ کرے اور اس کے ساتھ ہی عقل بھی دی ہے کہ بھلے، بُرے، نفع، نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیا کر دیے ہیں، کہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے اُسی قسم کے سامان مہیّا ہو جاتے ہیں اور اسی بنا پر اُس پر مؤاخذہ ہے۔ اپنے آپ کو بالکل مجبور یا بالکل مختار سمجھنا، دونوں گمراہی ہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد:1، حصہ:1، صفحہ:18-19)

قضا کی کتنی قسمیں ہیں؟

قضاء کی تین قسمیں ہیں:قضائے مُبْرَمِ حقیقی، قضائے مُعلّقِ محض اور قضائے معلقِ شبیہ بہ مُبْرَم۔
(1) قضائے مبرم حقیقی: وہ قضاہے کہ علمِ الہٰی میں بھی کسی چیز پر معلق نہیں۔ اس قضا کی تبدیلی ناممکن ہے اولیاء کی اس قضا تک رسائی نہیں بلکہ انبیائے کرام ورُسل عظام بھی اگر اتفاقاً اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہیں تو انہیں اس خیال سے روک دیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم خلیل للّٰہ علٰی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب روکنے کے لیے بہت کوشش فرمائی یہاں تک کہ اپنے رب سے جھگڑنے لگے جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا:{یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ(۷۴)} (پارہ۱۲ رکوع۷) یعنی ابراہیم قوم لوط کے بارے میں ہم سے جھگڑنے لگے۔ لیکن چونکہ قوم لوط پر عذاب ہونا قضائے مبرم حقیقی تھا اس لیے حکم ہوا :{یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاۚ-اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَۚ-وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ(۷۶)}(پارہ۱۲ رکوع۷)
یعنی اے ابراہیم! اس خیال میں نہ پڑو بے شک تیرے رب کا حکم آچکا اور بے شک ان پر عذاب آئے گا۔ پھیرا نہ جائے گا۔
(2) قضائے معلّق محض: و ہ قضا ہے کہ فرشتوں کے صحیفوں میں کسی چیز مثلاً صدقہ یا دَوا وغیرہ پر معلق ہونا ظاہر کردیا گیا ہو۔ اس قضاء تک اکثر اولیائے کرام کی رسائی ہوتی ہے ان کی دعا اور توجہ سے یہ قضا ٹل جاتی ہے۔
(3) قضائے معلق شبیہ بہ مبرم: وہ قضا ہے کہ علم الہٰی میں وہ کسی چیز پر معلق ہے لیکن فرشتوں کے صحیفوں میں اس کا معلق ہونا مذکور نہیں۔ اس قضا تک خاص اکابر کی رسائی ہوتی ہے ۔ حضرت سیدنا غوث اعظم رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ اسی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں قضائے مبرم کو رد کر دیتا ہوں اور اسی قضا کے بارے میں حدیث شریف میں ارشاد ہوا کہ:’’إِنَّ الدُّعَاء یَرُدُّ الْقضَاء بَعْدَ مَا أُبْرِ مَ‘‘ (مسند الفردوس، 5/364، حدیث:8448 بتغیر) یعنی بے شک دعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے۔ (مکتوبات امام ربانی،، دفتر اول، حصہ:سوم، مکتوب:1/217، 123-124 ملخصا، بہارِ شریعت 1/12 مأخوذا)

اللہ عَزَّوَجَل سے دعا ہے کہ ہمیں ہمیشہ اہلِ سنّت و جماعت کے عقائدِ حَقَّہ اختیار کرنے کی توفیق اور ان ہی پر موت عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

طالبِ دُعا:محمد اُویس العطاری عُفِیَ عَنْهُ

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

              تقدیر کے بارے میں ہندی میں لکھا گیا مسئلہ پڑھنے کے لیے کلک کریں 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.