شادیوں میں تاخیر کے عبرتناک نتائج



شادیوں میں تاخیر کے عبرتناک نتائج

از : محمد اسلم ساقی
کٹیہار بہار
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

شادی انسانی زندگی کی اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر نہ نسلِ انسانی کی بقا ممکن ہے اور نہ ہی مہذب سماج تشکیل پا سکتا ہے۔ بالفرض اگر شریعت کے اس پاکیزہ نظام کو مرتفع کر دیا جائے تو دو خرابیوں میں سے ایک ضرور لازم آئےگی۔ یا تو ہر شخص اپنی فطرت کے ساتھ نبرد آزما ہو کر نفسانی خواہشات کی تکمیل سے خود کو روکے رکھے گا، جس کے نتیجے میں انسان اپنا وجود کھو کر معدومیت سے دوچار ہو جائے گا۔ یا پھر فطرت سے جنگ ہار کر گناہوں کی تاریک وادیوں میں خیمہ زن ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں تخلیق انسان کا نہ کوئی مقصد باقی رہے گا نہ کوئی حاصل۔ جبکہ تخلیق انسان کا مدّعا ہی محظورات شرعيہ سے اجتناب، اور اللہ ربّ العزت کی عبادت و ریاضت اور اطاعت و فرمانبرداری ہے۔ اور محظورات سے کما حقہ اجتناب اور کامل طور پر عبادت و ریاضت اسی وقت ممکن ہے جب انسان ازدواجی رشتے سے منسلک ہوکر ذہنی اور نفسانی طمانیت حاصل کر لیں۔

شادی ایک معطر اور پاکیزہ رشتے کا نام ہے۔ جس کی قرآن و احادیث میں بڑی فضیلتیں آئی ہیں۔ ساتھ ہی تاکیدی حکم بھی۔ شادی چراغ کی وہ لو ہے جس کی کرنوں سے کئی رشتے وجود میں آتے ہیں۔ اور کئی خاندانوں کے درمیان اتحاد و یگانگت کی شمع روشن ہوتی ہے۔ اگر شادی کو تمام رشتوں کی ماں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ شریعت میں شادی سے متعلق مختلف احکامات موجود ہیں۔ کبھی نکاح فرض ہے تو کبھی حرام۔ کبھی واجب ہے تو کبھی سنت وغیرہ۔

شریعت اسلامی میں بعجلت نکاح کرنے کا تاکیدی حکم موجود ہے۔ لیکن آج کے زمانے میں تاخیر سے نکاح کرنے کا ٹرینڈ چل پڑا ہے۔ وہ افراد جو اپنے دامن میں کوئی عذر خاص رکھتے ہیں اگر وہ ایسا کرے تو عقلاً بات تسلیم کی جا سکتی ہے۔ لیکن حیرت تو اس بات پر ہے کہ بے شمار صاحبِ استطاعت افراد ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی عذر کے شادیوں میں غیر معمولی تاخیر کرتے ہیں۔ نتیجتاً نوجوانوں پر ایسے اثرات مرتب ہوتے ہیں جو اُن کی زندگی کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوتے ہیں۔

شادیوں میں تاخیر کے بڑھتے ہوئے رجحان کا سب سے بڑا ذمّہ دار اہل خانہ کو ٹھہرایا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ با وجود اس کے کہ اس مہم میں خود نوجوانوں کا بھی اہم کردار کارفرما ہے۔ ماں باپ اپنی اولاد و احفاد پر ڈگریاں، تعلیم اور سرکاری نوکری وغیرہ کے حوالے سے اس قدر زور دیتے ہیں کہ نوجوان چاہ کر بھی اپنی خواہشات کا اظہار نہیں کر سکتا۔ جس سے نوجوانوں کا ذہنی سکون اور باطنی جذباتوں کا خون ہوکر رہ جاتا ہے۔ فطری خواہشات کی امنگوں پر قابو نہ پاکر وہ ایسے منفی اقدامات کرتے ہیں جن سے ان کی قیمتی زندگی تباہی کے دہانے پر جا پہنچتی ہے۔شادیوں میں تاخیر کے سبب ویسے تو بے شمار نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ لیکن اُن میں جو سب سے زیادہ مہلک اور تباہ کن ہیں، انہیں کے ذکر پر اکتفا کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ کیوں کہ یہاں سب كا استقصا ممکن نہیں۔
۔ اور مرد و زن کے اس ناجائز اختلاط اور تعلق کو آج معاشقت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور اس غیر مشروع تعلق کے نتیجے میں جو کچھ دیکھنے کو ملتا ہے اُس سے نہ صرف یہ کہ جسم و روح کانپ اٹھتے ہیں، بلکہ سماج میں غلط تاثر بھی پڑتا ہے۔ مزید یہ کہ جہاں اہل خانہ کا سر شرم و حیا سے جھک جاتا ہے وہیں خاندانوں کے بیچ تشتت و اختلاف بھی جنم لے لیتا ہے۔

تاخیر سے نکاح کرنے کا جو دوسرا بڑا نقصان سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایسی شادیاں دیرپا نہیں ہوتی، کچھ ہی عرصے میں ایسی شادیاں اپنا دم توڑ کر معدومیت سے دوچار ہو جاتی ہیں۔ اس کے پیچھے عمروں میں غیر معمولی تفاوت، فکر و خیال میں عدم ہم آہنگی اور بے جا نا اتفاقیاں کارفرما ہوتی ہیں۔ صحیح وقت پر شادی نہ ہونے کا تیسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ زورِ مجامعت و قوتِ باہ کمزور ہو جاتی ہے۔ جس کے سبب پورے طور پر جنسی خواہش کی تکمیل نہیں ہو پاتی ہے۔ اور یہی چیز بعد میں ازدواجی زندگی میں دراڑیں پیدا کر دیتی ہے۔

چوتھا بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ لمبی عمر ہو جانے کے باعث بسا اوقات عمدہ اور موافق رشتے ملنا مشکل ہو جاتے ہیں۔ سالوں سال انتظار اور بڑی بڑی رقمیں دینے پر آمادہ ہو جانے کے با وجود رشتے ملنا جوئے شیریں لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں مایوسی کی آگ سینے میں دہک اٹھتی ہے جس سے سارا وجود بے حس و حرکت ہوکر رہ جاتا ہے۔

پانچواں بڑا نقصان نوجوانوں کی خودکشی کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ بسا اوقات لڑکا لڑکی کی آپسی رضامندی کے با وجود گھر والوں کی نا پسندیدگی کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ جو ایک لمبا عرصہ گزر جانے کے بعد خودکشی کی شکل میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اور بسا اوقات شریف گھرانے کے نوجوان اپنے جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے شادی کی تمنّا ظاہر نہ کر پانے کی وجہ سے ذہنی اور جنسی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور یہی ذہنی کشمکش اور جنسی خلش خودکشی کی صورت میں رونما ہوتے ہیں۔

چھٹا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان جس قدر شادی میں تاخیر کرتا ہے اتنی دیر تک وہ کامل ایمان والا نہیں ہوتا۔ کیوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔ اسی طرح اللہ نے نکاح کو دلی تسکین کا ذریعہ بنایا ہے۔ تو جب تک انسان نکاح نہ کرے اس وقت تک دلی تسکین کی حقیقی لذتوں سے آشنائی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار خرابیاں ہیں جو تاخیر سے نکاح کرنے پر رونما ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے جملہ احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، خصوصاً اُمتِ مسلمہ کو نکاح کے نظام کو آسان اور آباد کرنے کی توفیق بخشے۔

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

محرر کا دوسرا مضمون  "ایک لنگڑا پرندہ مگر بالا کا ہمت والا" اس پڑھنے کے لیے    کلک کریں 

اور  "اگر لڑکی والے از خود بخوشی اپنی بیٹی کو جہیز دیں تو اس کو لینا کیسا ہے؟ اس کو پڑھنے کے لیے۔  کلک کریں 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.