نماز میں رفع یدین کرنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
احناف کے نزدیک صرف تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھائے جائیں گے اس کے علاوہ (یعنی رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت) کہیں نہیں اٹھائے جائیں گے۔ حضور سیدِ عالم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، حضرت، ابوبکر صدیق، فاروقِ اعظم، حضرت علی، حضرت عبداللّٰہ بن مسعود ، حضرت ابن عمر اور صحابہ و تابعین کے دیگر جلیل القدر علماء رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین صرف تکبیر تحریمہ کے لیے رفع یدین کرتے تھے پھرآخر نماز تک ایسا نہیں کر تے تھے ۔ اور بعض روایتوں سے جو رکوع کے پہلے اور بعد میں رفع یدین ثابت ہے تو وہ حکم پہلے تھا۔ بعد میں منسوخ ہوگیا۔
سنن ابو داؤد شریف میں ہے:”عن علقمة قال قال عبد الله بن مسعود:«ألا أصلي بكم صلاة رسول الله ﷺ؟ قال:فصلى فلم يرفع يديه إلا مرة قال ابو عیسیٰ:حدیث ابن مسعود حدیث حسن“ یعنی حضرت علقمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:کیا تمہیں وہ نماز نہ پڑھاؤں ، جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نماز تھی؟، پھر نماز پڑھی اور ہاتھ نہ اٹھائے، مگر پہلی بار یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے پھر نہیں۔ ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے۔ (سنن أبي داود ‘‘ ، کتاب الصلاۃ، باب من لم یذکر الرفع عند الرکوع، الحدیث:744، جلد:1، صفحہ: 140، ’’سنن الترمذي ‘‘ ، أبواب الصلاۃ، باب ماجاء ان النبی صلّی اﷲ علیہ وسلم لم یرفع الا في أوّل مرّۃ، الحدیث:257، جلد:1، صفحہ:82)
سنن دار قطنی کی حدیث پاک ہے:”عن عبد اللہ قال :«صلیت مع النبی ﷺ، ومع أبي بكر، ومع عمر رضي الله عنهما، فلم يرفعوا أيديهم إلا عند التكبيرة الأولى في إفتتاح الصلاة“ یعنی حضرت عبداﷲ بن مسعو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی، تو ان حضرات نے ہاتھ نہ اٹھائے، مگر نماز شروع کرتے وقت۔ (سنن الدارقطني، کتاب الصلاۃ، باب ذکر التکبیر و رفع الیدین، الحدیث:1120، جلد:1، صفحہ:295)
حضرت اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:”رأیت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ یرفع یدیه في أول تکبیرة، ثم لایعود“ یعنی: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز میں صرف شروع کی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے تھے اس کے بعد کسی اور تکبیر میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ (شرح معانی الآثار، باب التکبیر للرکوع والتکبیر للسجود، جلد 1، صفحہ 227، مطبوعہ عالم الکتب)
مؤطا امام محمد رحمہ اللہ میں ہے: حضرت عاصم بن کلیب جرمی رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت کلیب جرمی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:” رأیت علی بن أبي طالب رفع یدیه في التکبیرة الأولی من الصلاة المکتوبة و لم یرفعهما سوی ذلك“ یعنی: میں نے حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم کو دیکھا کہ فرض نماز کی تکبیرِ اولیٰ (یعنی تکبیرِ تحریمہ) میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے، اور اس کے سوا (کسی اور تکبیر میں) ہاتھوں کو نہیں اٹھاتے تھے۔ (مؤطا إمام محمد، صفحہ 84،مطبوعہ لاہور
امام ابو جعفر طحطاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حضرت مغیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کی کہ میں نے ابراہیم نخعی سے عرض کیا کہ حضرت وائل نے حضور ﷺ کو دیکھا کہ آپ شروع نماز میں اور رکوع کے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے تو آپ نے جواب دیا:”إن كان وائل راٰه مرة يفعل ذلك فقد راٰه عبد الله خمسين مرة لا يفعل ذلك“ یعنی اگر حضرت وائل رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضور ﷺ کو ایک مرتبہ دفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے تو حضرت عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور ﷺ کو پچاس مرتبہ رفع یدین نہ کرتے دیکھا۔ (شرح معاني الآثار، باب التكبير للركوع والتكبير للسجود...إلخ، الجزء الأول، صفحة:162)
یہ پانچ احادیث کریمہ
رفع الیدین کا حکم منسوخ ہے،چنانچہ علامہ بدر الدین عینی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:) لکھتے ہیں:”أَنَّہُ رَای رَجُلًا یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی الصَّلَوۃِ عِنْدَ الرَّکُوعِ وَعِنْدَ رَفْعِ رَأْسِہِ مِنَ الرَّکُوعِ فَقَالَ لَہُ لَا تَفْعلْ فَاِنَّہُ شَیئٌ فَعَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَرَکَہَ‘‘ یعنی حضرت عبداللّٰہ بن زبیررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک شخص کو رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس سے فرمایا کہ ایسا نہ کرو اس لیے کہ یہ ایسی چیز ہے کہ جس کو حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے پہلے کیا تھا پھر بعد میں چھوڑ دیا۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد:4، صفحہ:380)
رفع یدین کی ممانعت کے متعلق اور بہت سی احادیث ہیں، فقیر نے بطورِ نمونہ صرف پانچ احادیث پر اختصار کیا۔ حکمِ شرعی ماننے اور اس پر عمل کرنے والے کے لئے ایک ہی حدیث کافی ہے اور نہ ماننے والے کے لئے اگر پورا ذخیرہ بھی نقل کردیا جائے تو ناکافی ہے۔ تفصیل کے لیے مؤطا امام محمد، طحطاوی شریف کا مطالعہ کریں۔ اللہ تعالیٰ حکم شرعی پر عمل کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین
والله تعالیٰ أعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

