خطبہ کی اذان کا جواب دینا کیسا ہے؟





خطبہ کی اذان کا جواب دینا کیسا ہے؟



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مُقتدیوں کو خطبہ کی اذان کا جواب زبان سے نہیں دینا چاہئے، یہی احوط ہے۔ ہاں اگر یہ جوابِ اذان، اگر دل سے کریں، زبان سے تَلَفُّظ اصلاً نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ اور امام یعنی خطیب اگر زبان سے بھی جوابِ اذان دے، بلاشبہ جائز ہے۔

علامہ علاؤ الدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:” یَنْبَغِی أَنْ لَا یُجِیبَ بِلِسَانِه اتِّفَاقًا فِی الْأَذَانِ بَیْنَ یَدَيْ الْخَطِیبِ‘‘ یعنی اس بات پر اتفاق ہے کہ خطیب کے سامنے کی اذان کا جواب زبانی نہیں دینا چاہئے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، الجزء الأول، صفحة:72)

علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:”إِجَابَةُ الْأَذَانِ حِینَءِذٍ مَکْرُوہَةٌ‘‘ یعنی اذان کا جواب اُس وقت مکروہ ہے۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ،باب الجمعة، مطلب فی حکم المرقی بین یدی الخطیب، الجزء الرابع، صفحة:41)

مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:’’(مقتدیوں کو خطبے کی اذان کا جواب) ہرگز نہیں دینا چاہیے یہی احوط ہے۔ ہاں اگر یہ جوابِ اذان یا (دو خطبوں کے درمیان) دُعا، اگر دل سے کریں، زبان سے تَلَفُّظ اصلاً نہ ہو توحرج کوئی نہیں۔ اور امام یعنی خطیب اگر زبان سے بھی جوابِ اذان دے یا دعا کرے، بلاشبہ جائز ہے۔“ (فتاویٰ رضوی، جلد:5، صفحہ:374-375، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی، ملتقطاً)


والله تعالیٰ اعلم بالصواب
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

اقامت میں کب کھڑے ہوں  اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.