بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

خطبہ کی اذان کا جواب دینا کیسا ہے؟





خطبہ کی اذان کا جواب دینا کیسا ہے؟



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

مُقتدیوں کو خطبہ کی اذان کا جواب زبان سے نہیں دینا چاہئے، یہی احوط ہے۔ ہاں اگر یہ جوابِ اذان، اگر دل سے کریں، زبان سے تَلَفُّظ اصلاً نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ اور امام یعنی خطیب اگر زبان سے بھی جوابِ اذان دے، بلاشبہ جائز ہے۔

علامہ علاؤ الدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:” یَنْبَغِی أَنْ لَا یُجِیبَ بِلِسَانِه اتِّفَاقًا فِی الْأَذَانِ بَیْنَ یَدَيْ الْخَطِیبِ‘‘ یعنی اس بات پر اتفاق ہے کہ خطیب کے سامنے کی اذان کا جواب زبانی نہیں دینا چاہئے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب الأذان، الجزء الأول، صفحة:72)

علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:”إِجَابَةُ الْأَذَانِ حِینَءِذٍ مَکْرُوہَةٌ‘‘ یعنی اذان کا جواب اُس وقت مکروہ ہے۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ،باب الجمعة، مطلب فی حکم المرقی بین یدی الخطیب، الجزء الرابع، صفحة:41)

مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:’’(مقتدیوں کو خطبے کی اذان کا جواب) ہرگز نہیں دینا چاہیے یہی احوط ہے۔ ہاں اگر یہ جوابِ اذان یا (دو خطبوں کے درمیان) دُعا، اگر دل سے کریں، زبان سے تَلَفُّظ اصلاً نہ ہو توحرج کوئی نہیں۔ اور امام یعنی خطیب اگر زبان سے بھی جوابِ اذان دے یا دعا کرے، بلاشبہ جائز ہے۔“ (فتاویٰ رضوی، جلد:5، صفحہ:374-375، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی، ملتقطاً)


والله تعالیٰ اعلم بالصواب
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

اقامت میں کب کھڑے ہوں  اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں 

0 Response to "خطبہ کی اذان کا جواب دینا کیسا ہے؟"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->