اگر کوئی ثقہ شیعہ (راوی) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل میں حدیث روایت کرے تو کیا اس کی روایت قبول کی جائے گی؟
از قلم: محمد ذیشان رضوی برکاتی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اہل حدیث (محدثین) نے کئی بدعتی رواۃ کو ثقہ قرار دیا ہے، اور ان کی روایت کردہ احادیث کو بطورِ حجت قبول کیا ہے، بلکہ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) جیسی کتبِ حدیث میں بھی ان کی روایتیں موجود ہیں۔ اور جو شخص ان کی روایتوں کا تتبع کرے، وہ دیکھے گا کہ ان میں سے کئی احادیث بظاہر ان کی بدعت کے موافق معلوم ہوتی ہیں۔ تاہم اہلِ علم ان احادیث کی تاویل کرتے ہیں، نہ ان احادیث کو راوی کی بدعت کی وجہ سے مردود سمجھتے ہیں، اور نہ راوی کو صرف ان روایات کے بیان کرنے کی وجہ سے مطعون قرار دیتے ہیں۔ بلکہ بعض ان میں سے ایسے رواۃ بھی ہیں جنہوں نے ایسی احادیث روایت کی ہیں جو بظاہر بہت واضح طور پر ان کی بدعت سے مطابقت رکھتی ہیں، بلکہ کبھی تو صراحتاً اس کے موافق معلوم ہوتی ہیں، لیکن دراصل ان میں دیگر علتیں ہوتی ہیں۔
: اس سلسلے میں عرب محقق شیخ ابو الحسن مصطفیٰ بن اسماعیل السليمانی لکھتے ہیں
هذه مسألة تتعلق بقولهم : إذا روى المبتدع حديثاً يشد بدعته لم يُقبل منه، وقد تكلم الشيخ المعلمي - رحمه الله تعالى - في كتابه «التنكيل على ذلك، وذكر أنهم قبلوا بعض الأحاديث التي ظاهرها أنها تقوي قول أهل البدع (۱) ، لكن هناك فرق بين قولهم: «فلان الشيعي روى ما يشد بدعته، وبين قولهم: فلان الشيعي روى حديثاً في فضل علي؛ لأن فضل علي رضي الله عنه ثابت عند أهل السنة والجماعة، بالأحاديث الثابتة الصحيحة، لكن الأحاديث التي رواها أهل السنة في فضل علي، ليس فيها ما ينقص من الشيخين.
یہ مسئلہ دراصل اس اصول سے متعلق ہے کہ اگر کوئی بدعتی ایسی حدیث روایت کرے جو اس کی بدعت کو تقویت دیتی ہو تو اس کی روایت قبول نہیں کی جاتی۔ شیخ المعلمی نے اپنی کتاب التنكيل میں اس قاعدے پر گفتگو کی ہے، اور بیان کیا ہے کہ محدثین نے بعض ایسی احادیث بھی قبول کی ہیں جن کا ظاہر بظاہر اہلِ بدعت کے قول کی تائید کرتا ہے۔ لیکن یہاں فرق کرنا ضروری ہے کہ یہ کہنا کہ (فلاں شیعی نے اپنی بدعت کو تقویت دینے والی حدیث روایت کی) کچھ اور بات ہے، اور یہ کہنا کہ (فلاں شیعی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں حدیث روایت کی) ایک الگ بات ہے۔ کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک بھی صحیح اور ثابت شدہ احادیث سے ثابت ہیں، البتہ جو احادیث اہلِ سنت نے ان کے فضائل میں روایت کی ہیں، ان میں ایسی کوئی بات نہیں پائی جاتی جو شیخین (حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما) کی شان میں کمی یا تنقیص کا سبب بنے۔
وليس فيها علو في فضل أمير المؤمنين علي رضي الله عنه، وليس فيها ركة في الألفاظ، ولا ضعف في المعاني، أما أحاديث الشيعة في فضل علي فهي في الغالب تدل على الغلو في فضله مع التنقص من كثير من الصحابة، وقد تكون ركيكة الألفاظ، ضعيفة المعاني، فالمتشيعة الذين رووا أحاديث صحيحة في فضل علي قبلها أهل السنة منهم؛ لأنها موافقة للقواعد التي عليها أهل السنة، وذلك أن لعلي فضلاً عظيماً، دون أي تنقص من غيره، فإذا جاء المتشيعة والروافض، وأتوا بخلاف هذا قلنا: إنهم رووا ما يشد بدعتهم، أما إذا جاءوا لنا بما يوافق هذا الأصل مع الشروط الأخرى للرواية، قبلنا حديثهم، ولا نقول في هذه الحالة : إنهم رووا ما يؤيد بدعتهم؛ لأن اعتقاد فضائل علي - رضي الله عنه ـ ليس ببدعة، والله أعلم.
اور ان (اہلِ سنت کی) روایت کردہ احادیث میں نہ تو امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں کوئی غلو پایا جاتا ہے، نہ ہی ان کے الفاظ میں کمزوری ہے، اور نہ ہی ان کے معانی میں کوئی ضعف۔ برخلاف اس کے، شیعہ حضرات کی روایت کردہ احادیثِ فضائلِ علی میں عموماً ان کے فضائل میں حد سے زیادہ غلو اور دوسرے صحابہ کرام کی تنقیص پائی جاتی ہے، نیز ان کے الفاظ عام طور پر کمزور اور رکیک ہوتے ہیں۔ پس جن متشیع راویوں (شیعہ راویوں) نے حضرت علی کے بارے میں صحیح اور متوازن احادیث روایت کیں، اہلِ سنت نے ان کی وہ احادیث قبول کیں، کیونکہ وہ اہلِ سنت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق تھیں۔ اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بے شمار فضائل ہیں، لیکن ان میں کسی دوسرے صحابی کی شان گھٹانے یا تنقیص کا کوئی پہلو نہیں۔
لہٰذا جب شیعہ یا روافض اس کے خلاف کوئی روایت پیش کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی بدعت کو تقویت دینے والی روایت بیان کی ہے۔ مگر اگر وہ ایسی روایت لائیں جو ان اصولوں کے مطابق ہو، اور باقی شرائطِ روایت بھی پوری ہوں، تو ہم ان کی روایت قبول کرتے ہیں، اور یہ نہیں کہتے کہ انہوں نے اپنی بدعت کے حق میں روایت کی ہے، کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا عقیدہ رکھنا بدعت نہیں ہے۔ واللہ اعلم، [اتحاف النبيل 347،348]
خلاصہ یہ کہ شیعہ راوی ایسی احادیث (فضائل اہلبیت و سیدنا علی) بیان کرے جس میں نہ تو (شیخین) کی تنقیص ہو اور نہ ہی دیگر صحابہ کرام کی تو ایسی روایت قبول ہوگی۔ اور وہ روایت اہل سنت کے اصولوں کے خلاف بھی نہ ہو تو ایسے بدعتی راوی کی روایت مقبول ہوگی ورنہ نہیں۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

