جیکٹ کے پیچھے جو ٹوپا ہوتا ہے اگر وہ پیچھے لٹکا رہا تو نماز کا کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جیکٹ میں متصل جو ٹوپا آتا ہے اگر ممکن ہو تو اتار کر نماز پڑھنا بہتر ہے ورنہ ٹوپے کے ساتھ پڑھ لیں نماز بلا کراہت ہو جائے گی لِعَدَمِ المَنِعِ الشَرَعِی (اس لیے کہ کوئی شرعی ممانعت نہیں)، اعادہ کی حاجت نہیں۔ کیونکہ یہ نہ ہی تو سدل کی صورت ہے کہ سدل کہتے ہیں ایسا کپڑا جسے پہنا جاتا ہے، اسے بے پہنا لٹکا لینا۔ اور نہ ہی خلافِ مُعتاد ہے اور نہ اسے معیوب سمجھا جاتا ہے۔
علامہ ملا علی قاری حَنَفی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ سدل کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”وفي الفائق: السدل إرسال الثوب من غير أن يضم جانبيه، ۔۔۔في شرح المنية: السدل أن يضع الثوب على كتفه ويرسل أطرافه على عضديه أو صدره، وقيل: أن يجعله على رأسه أو كتفه ويرسل أطرافه من جوانبه، وفي فتاوى قاضي خان: هو أن يجعل الثوب على رأسه أو على عاتقه ويرسل جانبيه أمامه على صدره والكل سدل ۔۔ وحكمته والله أعلم اشتغال القلب، بمحافظته والاحتياج بمعالجته‘‘ ترجمہ: سدل کپڑے کی دونوں جانب کو ملائے بغیر لٹکانا ہے۔۔ اور شرح منیہ میں ہے کہ سدل یہ ہے کہ کپڑا اپنے کندھے پر رکھے اور اس کے کنارے اپنے کندھوں یا سینے پر لٹکا دےاور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سدل یہ ہے کہ اپنے سر یا کندھے پر کپڑا یوں رکھے کہ اس کے جوانب سے کنارے لٹکا دے اور فتاوی قاضی خان میں ہے کہ سدل یہ ہے کہ کپڑا اپنے سر یا کندھے پر رکھے اوراس کے دونوں کنارے اپنے سینے پرلٹکا دے۔ اور یہ تمام صورتیں ہی سدل کی ہیں۔اور اس کی حکمت(اللہ ہی بہتر جانتا ہے، شاید) قلب کا اس کپڑے کی حفاظت اور اسے درست کرنے میں مشغول ہونا ہے۔(مرقاۃ المفاتیح، جلد:2، صفحہ:635، 636، مطبوعہ بیروت)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جیکٹ کی چین کھول کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے کلک کریں

