بغیر وضو کے موبائل میں قرآن مجید پڑھنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
قرآن پاک چھونے کے لیے وضو کرنا فرض ہے اور آداب تلاوت سے ہے۔ لیکن اگر قرآن پاک موبائل میں ہو تو اسے چھونے کے متعلق علماء کی دو آراء ہیں، بعض عُلماء اسے اصل قرآن مان کر منع کرتے ہیں اور بعض عُلماء فرماتے ہیں کہ جو موبائل یا آئی پیڈ وغیرہ کی اسکرین پر قرآن پاک نظر آتا ہے وہ اصل قرآن پاک نہیں بلکہ اس کا عکس نظر آتا ہے۔ اسی بناء پر عُلماء نے ویڈیو کو جائز قرار دیا۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ باوضو ہو کر کے پڑھا موبائل میں ٹچ کیا جائے اور بغیر وضو کے چھونا بھی جائز ہے، گناہ نہیں۔ بہرِ حال فتویٰ جواز اور تقوٰی احتراز۔ اور بغیر وضو کے چھوئے بغیر قرآن پاک پڑھنا جائز ہے۔
نورُ الایضاح میں ہے:”فرض على المحدث۔۔۔ لمس القرآن“ یعنی بے وضو پر قرآن پاک کو چھونے کے لیے وضو کرنا فرض ہے۔ (نور الإيضاح، کتاب الطهارۃ، فصل في أوصاف الوضوء، صفحة:59)
بہارِ شریعت میں ہے:”مستحب یہ ہے کہ باوضو قبلہ رو اچھے کپڑے پہن کر تلاوت کرے۔ (بہارِ شریعت، جلد:1، حصہ سوم، صفحہ:550، مجلس المدينة العملية دعوت اسلامی)
شعاعوں سے بننے والے عکوس تصویر نہیں،چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ ارشاد فرماتے ہیں:”سئلت عمن صلى وإمامه مرآة فأجبت بالجواز آخذا مما ههنا إذ المرآة لم تعبد ولا الشبح المنطبع فيها ولا هو من صنيع الكفار نعم إن كان بحيث يبدو له فيه صورته واقعاً له ركوعاً وسجوداً وقياماً وقعوداً وظن أن ذلك يشغله فاذن لا ينبغي قطعاً“ یعنی مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جس نے آئنے کے سامنے نماز پڑھی تو میں نے یہاں بیان کردہ (شرح منیہ کے) قول سے اخذ کرتے ہوئے جواز کا فتویٰ دیا۔ کیونکہ نہ تو آئنے کی عبادت کی جاتی ہے اور نہ اس میں کوئی صورت چھپی ہوتی ہے اور نہ یہ کُفار کی مصنوعات(یعنی کفار کے شعائر) سے ہے۔ ہاں اگر نماز پڑھنے کے دوران اسے اپنی حرکات مثل رکوع وسجود وقیام وقعود نظر آتی ہو اور یہ خیال کرتا ہے کہ یہ اسے نماز سے مشغول اور غافل کر دیں گے تو اسے آئنے کے سامنے ہرگز نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔ (جد الممتار، جلد:1، صفحہ:311-312)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

