تصویر والے لباس کو پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟


تصویر والے لباس کو پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟



کس تصویر کو پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے اور کس کو نہیں؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

ایسا لباس جس پر جاندار کی تصویر ہو اور اتنی بڑی ہو کہ اگر زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو اعضا کی تفصیل ظاہر ہو اسے پہننا جائز نہیں اور اس کو پہن کر نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے جس کو دوبارہ پڑھنا واجب۔ اور اگر اتنی چھوٹی ہو کہ زمین پر رکھ کر دیکھیں تو چہرہ کی تفصیل ظاہر نہ ہو یا اس سر کاٹ دیا جائے یا چہرے کو مسخ کر دیا تب کراہت نہیں، یا اُس تصویر والے لباس پر کوئی دوسرا کپڑا پہن یا اوڑھ لیا جائےجس سے وہ تصویر چھپ جائے تو مکروہ نہیں۔

تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:’’(ولبس ثوب فیہ تماثیل)ذی روح۔۔۔لا یکرہ(لو فی یدہ)عبارۃ الشمنی بدنہ ؛لانھا مستورۃ بثیابہ (أو علی خاتمہ)بنقش غیر مستبین ۔قال فی البحر ومفادہ کراھۃ المستبین لا المستتر بکیس أو صرۃ أو ثوب آخر(أو کانت صغیرۃ)لا تتبین تفاصیل اعضائھا للناظر قائما،وھی علی الارض(أو مقطوعۃ الرأس أو الوجہ)‘‘ملتقطاً۔ ترجمہ:اور ایسا کپڑا پہن کر نماز پڑھنا، مکروہ تحریمی ہے جس میں جاندار کی تصویر ہو۔۔۔اور اگر نمازی کے ہاتھ پر تصویر ہو،شمنی کی عبارت میں ہے نمازی کے بدن پر ہو تو نماز مکروہ نہ ہوگی کیونکہ یہ کپڑوں سے چھپی ہوئی ہے ۔یا تصویر انگوٹھی پر ہو ایسے نقش کے ساتھ جو واضح نہ ہو۔بحر میں فرمایا کہ اس (یعنی تصویر کے چھپ جانے والی) علت کا مفاد یہ ہے کہ کراہت نظر آنے والی تصویر میں ہے، نہ کہ اُس تصویر میں جو بٹوے یا تھیلی یا دوسرے کپڑے سے چھپی ہو۔(یونہی نماز مکروہ نہ ہوگی اس صورت میں کہ) وہ تصویر چھوٹی ہو کہ جس کے اعضاء کی تفصیل کھڑے ہوکر دیکھنے والے پر ظاہر نہ ہو،اس حال میں کہ تصویر زمین پر ہو۔یا وہ تصویر ایسی ہو کہ اُس کا سر یا چہرہ کاٹ دیا گیا ہو ۔(تنویر الابصار مع در مختار،جلد1،صفحہ504-502،مطبوعہ :کوئٹہ)

اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَيْهِ فرماتے ہیں:”کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کا چہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے سے دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل ظاہر ہو ، اس طرح کی تصویر جس کپڑے پر ہو اس کا پہننا ، پہنانا یا بیچنا ، خیرات کرنا سب ناجائز ہے اور اسے پہن کر نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے ۔ ایسے کپڑے پر سے تصویر مٹادی جائے یا اس کا سر یا چہرہ بالکل محو کردیا جائے ، اس کے بعد اس کا پہننا، پہنانا، بیچنا، خیرات کرنا، اس سے نماز ، سب جائز ہوجائے گا۔ اگر وہ ایسے پکے رنگ کی ہو کہ مٹ نہ سکے دھل نہ سکے تو ایسے ہی پکے رنگ کی سیاہی اس کے سر یا چہرے پر اس طرح لگادی جائے کہ تصویر کا اتنا عضو محو ہوجائے صرف یہ نہ ہو کہ اتنے عضو کا رنگ سیاہ معلوم ہو کہ یہ محو ومنافیِ صورت نہ ہوگا۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:24، صفحہ:567، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

چہرہ ہی اصل تصویر ہے، چنانچہ السنن الکبری للبیہقی میں ہے:”عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: الصورة الرأس فإذا قطع الرأس فليس بصورة“ ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: تصویر، چہرہ کا نام ہے، جب چہرہ کاٹ دیا جائے تو تصویر نہیں رہتی۔ (السنن الکبری للبیهقی، رقم الحدیث 14580، جلد:7، صفحہ:441، دار الکتب العلمیة، بیروت)


امام اجل ابوجعفر طحاوی حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:”قال الصورۃ الرأس فکل شیئ لیس له رأس فلیس بصورۃ“ یعنی فرمایا:تصویر ”سر“ کانام ہے لہٰذا جس چیزکاسرنہ ہو وہ تصویر نہیں۔ (شرح معاني الآثار، كتاب الكراهية، باب الصورة تكون في الثياب، 2/403)


اگر تصویر اتنی چھوٹی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھنے میں اعضاء کی تفصیل واضح نہ ہو تو مکروہ نہیں، چنانچہ ہدایہ میں ہے:”لوکانت الصورۃ صغیرۃ بحیث لاتبدو للناظر لاتکرہ لان الصغار جدالاتعبد“ ترجمہ: اگر تصویر اتنی چھوٹی ہو کہ دیکھنے والے کے لیے واضح نہ ہو تو مکروہ نہیں اس لئے کہ اتنی چھوٹی تصویروں کی پوجا نہیں کی جاتی۔

اس کے تحت فتح القدیر میں ہے:”(قوله بحيث لا تبدو للناظر) أي على بعد ما۔۔۔ فليس لها حكم الوثن فلا يكره في البيت یعنی کچھ دور سے دیکھنے میں دیکھنے والے کے لیے واضح نہ ہو، تو ایسی تصویربت کے حکم میں نہیں لہذا گھرمیں اس کا رکھنا مکروہ نہیں ہوگا۔ (فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ و ما یکرہ فیھا، ج:1، صفحة:428، مطبوعہ: کوئٹہ)

تبيين الحقائق میں ہے:”لاتعبد إذا کانت صغیرۃ بحیث لاتبدو للناظر و الکراھة باعتبار العبادۃ فاذا لم یعبد مثلها لایکرہ“ یعنی جب تصویر چھوٹی ہو کہ دیکھنے والے کے لئے واضح نہ ہو تو اس کی عبادت نہیں کی جاتی اور کراہت بلحاظ عبادت ہے، پھرجب اس قسم کی تصویر کی عبادت نہ کی گئی تو کراہت نہیں۔ (تبيين الحقائق، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، 1/166)

اگر صورت مٹا دی جائے تو صورت نہیں رہتی، چنانچہ ہدایہ میں ہے:”ممحو الرأس لیس بتمثال لأنه لایعبد بدون الراسؤ“ یعنی اگرسرمحوکردیاجائے یعنی مٹادیاجائے تووہ تصویر اورمورتی نہ رہے گی کیونکہ بغیرسراس کی عبادت نہیں کی جاتی۔ (الهداية، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة... إلخ، 1/122)


عنایہ میں ہے:انه لایعبد بلا رأس فکان کالجمادات“ یعنی اگر سر نہ ہو تو اس کی عبادت نہ ہوگی کیونکہ وہ محض بے جان چیزوں کی طرح ہے۔ (العناية شرح الهداية،على هامش فتح القدىر، باب ما يفسد الصلاة، 1/363)


از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

والله تعالى أعلم بالصواب

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

جیکٹ کے پیچھے جو ٹوپا ہوتا ہے اگر وہ پیچھے لٹکا رہا تو نماز کا کیا حکم ہے؟ اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے  کلک کریں 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.