کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تابعی نہیں؟

کیا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللّٰہ تابعی نہیں ہیں،



امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تابعی نہیں؟

از قلم: محمد ذیشان برکاتی رضوی 
--------------------------------------------------------------------------------------------------------

بعض متعصب لوگوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ (م 150ھ) کے تابعین ہونے کا انکار کیا جب کی آپ کا تابعین ہونا ثابت ہے۔ امام ابنِ سعد رحمہ اللہ، خطیب بغدادی رحمہ اللہ، ذہبی رحمہ ابنِ جوزی رحمہ اللہ و دیگر ائمہ نے آپ کے تابعین ہونے پر صراحت کی ہے۔
اس سلسلے میں امام دار قطنی رحمہ اللہ (م 385ھ) کا ایک قول پیش کیا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تابعی نہیں ہے۔

:محمد بن الحسين السلمی (م 412ھ) بیان کرتے ہیں
وسألته : هل يصح سماع أبي حنيفة عن أنس؟ فقال : لا يصح سماعه عن أنس، ولا عن أحد من الصحابة، ولا تصح له رؤية أنس ولا رؤية أحد من الصحابة.

میں نے ان (دار قطنی) سے پوچھا: کیا (امام) ابو حنیفہ کا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے؟ تو امام دار قطنی رحمہ اللہ نے فرمایا: ابو حنیفہ کا نہ تو حضرت انس سے سماع ثابت ہے، نہ کسی اور صحابی سے، اور نہ ہی ان کا حضرت انس یا کسی اور صحابی کو دیکھنا ثابت ہے۔
[سؤالات السلمي للدارقطني صفحہ 317 رقم 398]

عرض ہے کہ امام دار قطنی رحمہ اللہ کا یہ قول ان الفاظ کے ساتھ ثابت نہیں ہے۔ یہ الفاظ محفوظ نہیں ہے، کاتب یا نقل کرنے والوں سے خطا ہوئی ہے۔ کیوں کہ اس کے محفوظ الفاظ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ (م 911ھ) نے نقل کیے ہیں۔

:چنانچہ لکھتے ہیں
قال حمزة السهمي : سمعت الدارقطني يقول : لم يلق أبو حنيفة أحداً من الصحابة إلا أنه رأى أنساً بعينه ولم يسمع منه.

حمزہ السہمی کہتے ہیں: میں نے دار قطنی کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: (امام) ابو حنیفہ نے کسی بھی صحابی سے ملاقات نہیں کی، البتہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے حضرت انس کو دیکھا ہے لیکن ان سے سماع نہیں کیا۔ [تبييض الصحيفة بمناقب أبي حنيفة صفحہ 34]

:اسی طرف شیخ الاسلام امام محمد زاہد الکوثری رحمہ اللہ (م 1371ھ) نے بھی اشارہ کیا ہے لکھتے ہیں
وكان أصل الكلام (سئل الدارقطني عن سماع أبي حنيفة من أنس هل يصح ؟ قال : لا إلا رؤيته، فغيرته اليد الأثيمة إلى (ولا رؤيته). ومن الدليل على ذلك قول السيوطي في أوائل تبييض الصحيفة : قال حمزة السهمي : سمعت الدراقطني يقول : لم يلق أبو حنيفة أحداً من الصحابة إلا أنه رأى أنساً بعينه ولم يسمع منه اهـ.
ونفي الدراقطني لقي أبي حنيفة لغير أنس من الصحابة، ونفيه لسماعه منه بعد إثباته لرؤيته : دعوى مجردة وشهادة على النفي. والقصد هنا بيان أن الدارقطني معترف برؤية أبي حنيفة لأنس.

اصل (محفوظ) عبارت یہ تھی: دار قطنی سے پوچھا گیا کہ کیا ابو حنیفہ کا حضرت انس سے سماع صحیح ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ انہوں نے ان کو دیکھا ہے۔ مگر کسی بددیانت ہاتھ نے اسے بدل کر [ولا رؤيته] (یعنی اُن کو دیکھا بھی نہیں) کر دیا۔ اس پر دلیل امام سیوطی کا قول ہے جو انہوں نے تبييض الصحيفة کے آغاز میں نقل کیا: حمزہ السہمی نے کہا: میں نے دارقطنی کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابو حنیفہ نے کسی بھی صحابی سے روایت ملاقات نہیں کی، مگر انہوں نے اپنی آنکھوں سے حضرت انس کو دیکھا ہے، لیکن ان سے سماع نہیں کیا۔

دار قطنی کا ابو حنیفہ کا دیگر صحابہ سے ملاقات کا انکار کرنا، اور انس رضی اللہ عنہ سے سماع کے انکار کے باوجود ان سے رؤیت کا اثبات کرنا دراصل ایک محض دعویٰ اور نفی کی شہادت ہے۔ یہاں مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ دارقطنی نے خود ابو حنیفہ کے حضرت انس کو دیکھنے کا اعتراف کیا ہے  [تأنيب الخطيب صفحہ 33]

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------


کیا امام شافعی اور امام اعظم رضی اللہ عنھما پر جرح قبول ہوگی ؟ اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے کلک کریں 




Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.