صحیح پیر کی شناخت اور فرضی پیروں سے خبردار


صحیح پیر کی شناخت اور فرضی پیروں سے خبردار


صحیح پیر کی شناخت اور فرضی پیروں سے خبردار 



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
◆ـــــــــــــــــــــــــــ۩۞۩ــــــــــــــــــــــــــ◆




آج کل جسے دیکھو پیر بنا بیٹھا ہے، نہ شریعت پر عمل نہ طریقت کا پاس، اہلِ سُنّت کا لوادہ اوڑھ کر سنیت کو بدنام کر رہے ہیں۔ مزید برآں ہماری بھولی بھالی عوام علما کو چھوڑ کر ان کو اپنا پیشوا بناتے ہیں۔ لیکن یاد رہے! کوئی شخص کتنے بڑے منصَب پر فائز ہو جائے شریعت سے سُبُکدوش نہیں ہو سکتا۔ آئیے کچھ ولایت کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:”اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ" 
 ترجمہ: سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔

وضاحت: لفظِ ’’ولی‘‘ وِلَاء سے بناہے جس کا معنی قرب اور نصرت ہے۔ وَلِیُّ اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو ،جب دیکھے قدرتِ الٰہی کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ثناہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے، اطاعتِ الٰہی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قربِ الٰہی کا ذریعہ ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے۔ یہ صفت اَولیا کی ہے، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، سورۃ:یونس، تحت الآية:62-63)

ولی کی تعریف: ولی وہ مسلمان ہے جو بقدرِ طاقت بشری ذات و صفات باری تعالیٰ کا عارف ہو، احکام شرع کا پابند ہو اور لذات و شہوات میں انہماک نہ رکھتا ہو۔ جیسا کہ شرع عقائد نسفی میں ہے:’’ اَلْوَلِیُّ ھُوَالْعَارِفُ بِاللّٰہ تَعَالَی وَصِفَاتِہِ حَسْب مَا یُمْکِنُ الْمُوَاظب عَلَی الطَّاعَاتِ،الْمُجْتَنِبُ عَنِ الْمَعَاصِی،الْمُعْرِضُ عَنِ الْاِنْھِمَاکِ فِی اللَّذاتِ وَالشَّھَوَاتِ۔‘‘ (شرح العقائد النسفیۃ، صفحہ:145)

ولی کی پہچان: علما نے ’’ ولی اللہ‘‘ کی کثیر علامات بیان فرمائی ہیں ، جیسے متکلمین یعنی علمِ کلام کے ماہر علماء کہتے ہیں ’’ولی وہ ہے جو صحیح اور دلیل پر مبنی اعتقاد رکھتا ہو اور شریعت کے مطابق نیک اعمال بجا لاتا ہو۔

یاد رہے! ولایت بے علم کو نہیں ملتی، خواہ علم بطورِ ظاہر حاصل کیا ہو، یا اس مرتبہ پر پہنچنے سے پیشتر عزوجل نے اس پر علوم منکشف کر دیے ہوں۔ چنانچہ، الفتوحات المکیہ میں ہے:”فإنّ اللّٰہ ما اتخذ ولیاً جاہلاً“ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہیں بنایا۔ (الفتوحات المكية، جلد:3، صفحہ:92)

اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:”حاشا! نہ شریعت و طریقت دو راہیں ہیں نہ اولیاء کبھی غیر علما ہو سکتے ہیں ، علامہ مناوی ’’شرح جامع صغیر ‘‘پھر عارف باللہ سیدی عبد الغنی نابلسی ’’حدیقہ ندیہ ‘‘میں فرماتے ہیں : امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : علم الباطن لا یعرفہ إلّا من عرف علم الظاہر (’’ الحدیقہ الندیہ ‘‘ ، النوع الثاني، ج ۱ ، ص ۱۶۵) ۔ علم باطن نہ جانے گا مگر وہ جو علم ظاہر جانتا ہے، امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : وما اتخذ اللّٰہ ولیاً جاہلًا، اللہ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا، یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اسکے بعد ولی کیا۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد:21، صفحہ:530، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

اعلیٰ حضرت دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:” شریعت ، طریقت، حقیقت، معرفت میں باہم اصلًا کوئی اختلاف نہیں اس کا مدعی اگر بے سمجھے کہے تو نِرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ بد دین۔ شریعت حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اقوال ہیں ، اور طریقت حضور کے افعال ، اور حقیقت حضور کے احوال ، اور معرفت حضور کے علومِ بے مثال ، صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وأصحابہ إلی مالا یزال۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد: 21، صفحہ:460)

اور بعض جہال جو یہ بکتے ہیں کہ شریعت راستہ ہے، راستہ کی حاجت اُن کو ہے جو مقصود تک نہ پہنچے ہوں، ہم تو پہنچ گئے،ایسوں کے بارے میں جنید بغدادی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کیا فرماتے ہیں؟ سنئے! سید الطائفہ جنید بغدادی رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے عرض کی گئی کچھ لوگ زعم کرتے ہیں کہ:”ان التکالیف کانت وسیلۃ الی الوصول و قد وصلنا“ یعنی احکام شرعیت تو صول کا وسیلہ تھے اور ہم واصل ہوگئے اب ہمیں شرعیت کی کیا حاجت۔

انھیں فرمایا:”صدقوا فی الوصول ولکن الی سقر والذی یسرق ویزنی خیر ممن یعتقد ذٰلك ولو انی بقیت الف عام مانقصت من اورادی شیئا الابعذر شرعی“ یعنی سچ کہتے ہیں واصل ضرور ہوئے،کہاں تك جہنم تك چور اور زانی ایسے عقیدے والوں سے بہتر ہیں،میں اگر ہزار برس جیوں تو فرائض واجبات تو بڑی چیز ہیں جو نوافل ومستحبات مقرر کرلیے ہیں بے عذر شرعی ان میں سے کچھ کم نہ کروں۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:21، صفحہ:539)

خبردار خبردار خبردار! مُرید ہونے سے پہلے اچھی طرح تفتیش کر لیں، ورنہ اگر بد مذہب ہوا تو ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

 پیری کے لیے چار شرطیں ہیں، قبل از بیعت اُن کا لحاظ فرض ہے۔


چنانچہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:  بیعت لینے اور مسند ارشاد پر بیٹھنے کے لئے چار شرطیں ضروری ہیں:

  • (1) سنی صحیح العقیدہ ہو اس لئے کہ بدمذہب دوزخ کے لئے کتے ہیں اور بدترین مخلوق،جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
  • (2) ضروری علم کا ہونا،اس لئے کہ بے علم خدا کو پہچان نہیں سکتا۔
  • (3) کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا اس لئے کہ فاسق کی توہین واجب ہے اور مرشد واجب التعظیم ہے دونوں چیزیں کیسے اکھٹی ہوں گی۔
  • (4) اجازت صحیح متصل ہو جیسا کہ اس پر اہل باطن کا اجماع ہے۔ جس شخص میں ان شرائط میں سے کوئی ایك شرط نہ ہو تو اس کو پیر نہیں پکڑنا چاہئے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد:21، صفحہ:492)

اے بسا ابلیس آدم روئے ہست
پس بہر دستے نباید داد دست
(یعنی کبھی ابلیس آدمی کی شکل میں آتا ہے، لہٰذا ہر ہاتھ میں ہاتھ نہیں دینا چاہیے (یعنی ہر کسی سے بیعت نہیں کرنی چاہیے)۔

اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، شیطان کے مکر وفریب سے محفوظ فرمائے اور مسلکِ اعلیٰ حضرت پر قائم ودائم فرمائے آمین ثم آمین۔


طالبِ دُعا:محمد اُویس العطاری عُفِیَ عَنْهُ


ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

سیمانچلی اجلاس و اعراس کا جائزہ اور چند معروضات جعلی اور فرضی  پیروں کی سچائی اور اس کا سدباب اور نقصانات کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 




Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.