علماے کرام سے دوری کے نقصانات | محمد علاء الدین قادری مصباحی


علماے کرام سے دوری کے نقصانات |




علماے کرام سے دوری کے نقصانات

از قلم: محمد علاء الدین قادری مصباحی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

 یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ مسلمان ہمیشہ سازشوں کا شکار رہا ہے، دشمن کے فریب میں آ کر اپنوں ہی سے بد گماں ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے دشمن کا مقصد تو ضرور پورا ہو جاتا ہے، لیکن ہونے والے خسارے کی بھرپائی میں نسلیں گزر جاتی ہیں۔

تاریخِ اسلام کی ورق گردانی سے یہ بات آفتابِ نیم روز کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام دشمن طاقتوں نے علما کی ذات کو مجروح کرنے اور مسلمانوں کی نظر میں مشکوک بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے، جس میں وہ مکمل کامیابی تو حاصل نہیں کرنے سے رہے لیکن پھر بھی ایک حد تک اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہیں۔

یہ میری اپنی ذاتی رائے ہے، جس سے ایک حد تک آپ بھی اتفاق کریں گے کہ جس شدومد کے ساتھ علما کی کردار کشی کی گئی ہے، اگر اتنی ہی توانائی کہیں اور صرف کی جاتی تو شاید ہی وہ کمیونٹی باقی ہوتی، آج کے اِس پُر فتن دور میں علما کی صحبت کتنی ضروری ہے۔ 


آنے والے چند سطور میں آپ ملاحظہ کریں گے۔

اللہ کے رسول صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "اغد عالماً أو متعلماً أو مستمعاً أو محباً ولاتكن الخامس فتهلک"۔

یعنی:  صبح اس حال میں کرو کہ تم خود عالم ہو، یا طالب علم ہو، یا علما کی زبانی دین کی باتیں سنتے ہو، یا کم از کم اتنا ہو کہ تم اہل علم سے محبت کرتے ہو،   (دنیا اور آخرت کی سعادتیں انھیں چار چیزوں پر منحصر ہیں)  پانچواں مت بننا کہ تم ہلاک ہو جاؤ گے۔


آپ ذرا حدیث پاک کا بغور مطالعہ کریں! تو آپ یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ پائیں گے کہ جس طرح ایک شیر خوار بچے کو اپنی زندگی کے بقا کےلیے دودھ درکار ہے، اس سے کہیں زیادہ ایک عام آدمی کو اپنے ایمان و عقیدہ کی حفاظت و صیانت کےلیے علما کی صحبت ضروری ہے۔

معلم کائنات صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک کامیاب زندگی گزارنے کی جو ہدایات فراہم کی ہے، وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں؛ کیوں کہ ہم اور آپ اپنی روزمرہ زندگی میں مشاہدہ و معائنہ کرتے رہتے ہیں کہ جن کا شمار علما کی جماعت میں ہوتا ہے، وہ آج بھی ہمارے سروں کے تاج ہیں۔

اور وہ خوش قسمت لوگ جو چشمۂ نبوت سے سیراب ہونے میں مشغول ہیں، ان کے اقبال کا ستارہ ہنوز تابندہ ہے، اور رہے وہ جو علما کے پند و نصیحت کو اپنے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں اور ان کے صحبت سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں، تو وہ بھی کامیاب ہیں۔

اور جو لوگ علما کی مجالس میں مصروفیات کی وجہ سے حاضر نہیں ہوپاتے ہیں، لیکن ان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ علما کی صحبت اختیار کریں اور ان کے فیوض وبرکات سے بہرہ ور ہوں، تو اللہ کی ذات سے یہی امید ہے کہ وہ اسے اپنی رحمت و برکت سے محروم نہیں فرمائے گا۔


اللہ کے رسول صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے، جس پر چل کے دارین کی سعادتیں حاصل کی جائیں،  اگر کوئی شخص متمنی ہے کہ وہ کامیابیوں کے منازل کو طے کرے تو اسے انھیں طریقوں کو اختیار کرنا ہوگا۔

آج جو لوگ علماے کرام سے دوری اختیار کرتے ہیں اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ معاشرہ میں ایسے بدعنوان ضمیر فروش مولوی موجود ہیں، جن کا ملت کے نفع ونقصان سے کوئی سروکار نہیں ہے، تن پروری کے چکر میں ملت کا شیرازہ بکھیرنے سے گریز نہیں کرتے ہیں، یقیناً ایسے مولویوں کی وجہ مسلمانوں کا ایک طبقہ علما کی مقدس جماعت سے بدظن ہو چکاہے۔


لیکن  یہاں ٹھہر کر میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ جس قوم کو یہ پتا ہے کہ جوتے کس کمپنی کے اچھے ہو تے ہیں، کپڑے کہاں اچھے ملتے ہیں، کس اسکول میں تعلیم کا اچھا انتظام ہے، کس کمپنی کی گاڑی ٹرینڈ میں چل رہی ہے اور کونسا فون نئو لانچ ہوا ہے۔

اس قوم کو اگر پتا نہیں ہے تو یہ کہ دین کس سے اور کہاں سے سیکھنا ہے، کونسے عالم کی صحبت اختیار کرنی ہے، کونسی مسجد میں نماز پڑھنی ہے، کونسے مدرسہ میں بچوں کو تعلیم دینی ہے۔

ساری غلطیاں اور خامیاں علما کی شمار کراکے اپنی خامیوں سے یک دم صرف نظر کرلینا، یہ کہاں کی دانشمندی ہے۔

کیا یہ آپ کا دینی فریضہ نہیں بنتا ہے کہ آپ تلاش بسیار کے بعد علما کی صحبت اختیار کریں۔


:آمدم بر سرِ مطلب علماے کرام سے دوری کے جزوی کئی ایک نقصانات ہوسکتے ہیں، البتہ چند ایک پہلو پر بات کرلیتے ہیں

(۱) اگر کوئی شخص یکسر علما سے دور ہو تو دولت ایمان کی حفاظت کس کے رہنمائی میں کرےگا؟ اخروی نجات کے لیے ایمان کی اہمیت سے کون آگاہ کرے گا؟ اس پُر فریب دنیا میں جہاں بھیس بدلے ہزاروں چور عقائد ونظریات کو اچکنے میں لگے ہیں؛ کیسے محفوظ رکھے گا؟ دارین میں سلامتی کا راز کس سے طلب کرے گا؟


(۲) جب کوئی شخص اپنے آپ کو علما کی صحبت سے بچائے گا تو یقیناً آنے والی نسلیں بھی علما سے دوری ہی میں عافیت محسوس کریں گی اور اس طرح کا طرزِ عمل انھیں اسلام سے کافی دور کردے گا۔

ایسے میں خدا نخواستہ آئندہ نسلوں کو اسلام سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔

آئے دن مسئلہ ارتداد سے ہمارا سامنا ہو رہا ہے آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے اس بات پر غور کیا؟ کیا ہم نے کبھی اپنی بچیوں کو دولتِ ایمان کی اہمیت بتائی؟ کیا ہم نے جہنم کی ابدی عذاب کا تذکرہ کیا؟ جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا مظہر ہے۔

کیا ہم نے کبھی عشق و محبت سے لبریز صحابہ کے واقعات بیان کیا؟ اللہ کے رسول نے اس امت کی فوز وفلاح کےلیے جو پریشانیاں برداشت کی؛ کیا ہم نے انھیں بیان کرنے کی زحمت فرمائی؟ جب ہم نے اپنے بچوں کو قرآن سے بچا بچا کر جوان کیا اور علما کی صحبت اختیار نا کرنے سخت تنبیہ کی تو آج جو کچھ وہ کررہے ہیں، کیوں بُرا لگ رہا ہے، کیوں شکایتیں کررہے ہو۔


اگر امتِ مسلمہ عزت رفتہ کے بحالی کی خواہش مند ہے تو اپنا رشتہ درِ رسول سے جوڑ لے۔

کل بھی سسکتی انسانیت کو عزت و احترام عطا کرنے والے محبوب خدا تھے، اور آج بھی امت کی ہچکولے کھاتی کشتی کو ساحل سمندر سے ہم کنار کرنے والی ذات آپ ہی کی ہے۔


بارگاہِ ایزدی میں دعا گو ہوں کہ مولیٰ تعالیٰ ہمیں عقل سلیم عطا فرمائے اور علم دین حاصل کرکے اس پر عمل کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے، آمین یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔

---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------


ملک کی تعمیر و ترقی میں مدارس اسلامیہ کا کردار ایک بار اسے بھی پڑھیں اس مضمون کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.