متشددین محدثین اور معتدلین محدثین کا اختلاف ہو تو | محمد ذیشان رضوی




متشددین   محدثین اور معتدلین محدثین  کا اختلاف ہو تو..؟


از قلم: محمد ذیشان رضوی ممبئی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------


اگر کسی مسئلے میں ایک قول (متشدد) کا ہو اور دوسرا (معتدل) کا ہو، تو متشدد کے قول پر معتدل کے قول کو ترجیح دی جاتی ہے، اور معتدل کے تصحیح و تحسین کو قبول کیا جاتا ہے، جبکہ متشدد کے ضعف یا اس کے حکم وضع کو قبول نہیں کیا جاتا۔


:جیسا کہ ابن حجر نے (النکت) میں، جو کہ ابن الصلاح کی (المقدمہ) پر ہے، فرماتے ہیں

ما حكى ابنُ مَنْدَه عن البَاوَرْدِيّ : أَنَّ النسائي يُخرجُ أحاديث من لم يُجمع على تركه، فإنَّه أراد بذلك إجماعاً خاصاً.
وذلك أن كل طبقة من النقاد لا تخلو من متشدد ومتوسط، فمن الأولى شعبة وسفيان الثوري، وشعبة أشد منه ومن الثانية يحيى القطان وعبد الرحمن بن مهدي، ويحيى أشَدُّ منه. ومن الثالثة يحيى بن معين وأحمد بن حنبل، ويحيى أشد من أحمد ومن الرابعة أبو حاتم والبخاري، وأبو حاتم أشد منه

ابن منده نے باوردی سے نقل کیا ہے: کہ (امام) نسائی رحمہ اللہ اُن کی احادیث بیان کرتے ہیں جن کے ترک کرنے پر اجماع نہیں ہوا، کیونکہ اس سے وہ مخصوص اجماع مراد لیتے تھے۔
کیونکہ ہر طبقہ نقاد کا کسی حد تک متشدد اور معتدل شخص موجود ہوتا ہے، جیسے پہلے طبقے میں شعبہ (بن الحجاج) اور سفيان الثوری، اور شعبہ ان سے زیادہ سخت ہیں، دوسرے (طبقے) میں يحيى القطان اور عبد الرحمن بن مہدی، اور يحيى ان سے زیادہ سخت ہے، تیسرے (طبقے) میں يحيى بن معين اور احمد بن حنبل، اور يحيى احمد سے زیادہ سخت، اور چوتھے (طبقے) میں ابو حاتم اور بخاری ہیں، اور ابو حاتم ان سے زیادہ سخت ہے۔

:امام عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں

فقال النسائي : لا يُترك حديث الرجل عندي حتى يجتمع الجميع على تركه، فأما إذا وثقه ابن مهدي، وضعفه يحيى القطان مثلاً، فإنه لا يُترك لما عُرِفَ من تشدد يحيى. انتهى.
ومن ها هنا يُعلَمُ أنَّ ما فَهِمَه بعضُهم من أنَّ شرط النسائي أخف، وأنه يروي عمن لا يروي عنه أصحاب الكتب الخمسة ليس بصحيح.

امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: میرے نزدیک کسی راوی کی حدیث اس وقت تک ترک نہیں کی جاتی جب تک تمام محدثین اس کے ترک پر متفق نہ ہوں۔ پس اگر (مثال کے طور پر) ابن مہدی نے کسی راوی کو ثقہ کہا اور یحییٰ القطان نے اسے ضعیف قرار دیا، تو اس راوی کو ترک نہیں کیا جائے گا، کیونکہ یحییٰ (بن سعید) القطان کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ جرح میں متشدد ہیں۔


اور اسی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بعض لوگوں کا یہ سمجھنا کہ امام نسائی کی شرط ہلکی ہے، یا یہ کہ وہ اُن راویوں سے روایت کرتے ہیں جن سے باقی پانچ کتابوں (بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ) کے مصنفین روایت نہیں کرتے یہ خیال درست نہیں۔ [ظفر الامانی 426،427]

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

امام سخاوی رحمہ اللّٰہ اور مسئلہ افضلیت کی اہمیت اس مسئلہ کو بھی ضرور پڑھیں پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.