عطر اور پرفیوم لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟




عطر اور پرفیوم لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ 


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------


عطر لگا کر نماز پڑھنا تو بلا کراہت جائز ہے اصلاً حرج نہیں، بلکہ بہتر ہے کہ نماز سے پہلے خوشبو لگا لی جائے۔

اور پرفیوم لگا کر نماز پڑھنا، یہ مختلف فیہ مسئلہ ہے اکثر فقہاء کا رجحان جواز کی طرف ہے۔ البتہ اختلاف سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ پرفیوم لگائے بغیر نماز پڑھی جائے۔

یاد رہے کہ پرفیوم میں الکحل کی آمیزش ہوتی ہے اور الکحل ناپاک ہوتا ہے لیکن فی زمانہ الکحل کھانے میں انگریزی دوائیوں کے استعمال میں اور بیرون استعمال اشیاء جیسے پرفیوم، شیمپو، اور رنگ وغیرہ میں عمومِ بلوی کی بناء پر اکثر علماء نے اجازت دی ہے۔

ضمناً یہ بھی یاد رہے کہ مردوں کو اپنے لباس پر ایسی خوشبو استعمال کرنی چاہیے جس کی خوشبو پھیلے مگر رنگ کے دھبے وغیرہ نظر نہ آئیں، جیسا کہ گلاب، کیوڑا، صندل اور اسی قسم کے بے رنگ کے عطریات۔ عورتوں کے لیے مہک کی ممانعت اس صورت میں ہے جبکہ وہ خوشبو اجنبی مردوں تک پہنچے، اگر وہ گھر میں عطر لگائیں جس کی خوشبو خاوند یا اولاد، ماں باپ تک ہی پہنچے تو حرج نہیں۔


والله تعالیٰ اعلم بالصواب


از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی


---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------


آستین موڑ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 





Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.