! شیخین اور حسنین کریمین کی جنت میں سرداری کے حوالے سے امام ابو جعفر الطحاوی علیہ الرحمہ کی حدیث رسول میں تطبیق
________________________________________________________________________________________________
امام طحاوی پہلے باب قائم کرتے ہیں شیخین کے حوالے سے ادھیڑ عمر کے لوگوں کا جنت میں سردار ہونے کا
باب بيان مشكل ما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما يدل على الكهول من هم
باب: بیان اس مسئلے کا جس میں رسول اللہ ﷺ سے مروی احادیث میں "کہول" یعنی درمیانی عمر کی وضاحت اور اس کا مطلب کیا ہے
:پھر امام طحاوی متعدد اسناد سے شیخین کی جنت میں ادھیڑ ر لوگوں کی سرداری کی روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں!
قال أبو جعفر : وأسنان الكهول يدخل في أسنان الشباب لأنه يقال شاب كهل فيجعل كهلا وهو شاب ولا يقال : شيخ كهل إنما يكون شيخا بعدما يخرج من التكهل والتكهل هو آخر مدة الشباب ومنه قالوا : قد اكتهل هذا الزرع يعنون إذا بلغ الحال الذي يحصد مثله عليها والله نسأله التوفيق
:امام طحاوی کہتے ہیں
بزرگوں کی عمر نوجوانوں کی عمر میں شامل ہوتی ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ نوجوان جو کُہولت کو پہنچے، اسے کُہل کہا جاتا ہے حالانکہ وہ ابھی نوجوان ہی ہوتا ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جاتا کہ بوڑھا کُہل ہے کیونکہ بوڑھا وہ ہوتا ہے جو کُہولت کی عمر سے گزر جائے۔ اور کُہولت نوجوانی کے آخری مرحلے کو کہتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ فصل کُہولت کو پہنچ گئی ہے، یعنی ایسی حالت میں آ گئی ہے کہ اسے کاٹا جا سکتا ہے۔ ہم اللہ سے توفیق کی دعا کرتے ہیں۔
نوٹ: یہاں امام طحاوی نے اس اعتراض کا جواب دیا کہ چونکہ جنت میں سب نوجوان ہونگے تو کہول یعنی درمیانہ عمر ہونا نوجوان کی نفی کو مستلزم نہیں۔
اسکے بعد حسنین کریمین کی سرداری والی روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
قال أبو جعفر : فقال قائل : كيف تقبلون هذا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مع علمكم أن هذا القول كان منه والحسن والحسين يومئذ طفلان ليسا بشابين وإنما هذا القول إخبار أنهما سيدا شباب أهل الجنة وليسا حينئذ من الشباب ؟
فكذا جوابنا له في ذلك بتوفيق الله وعونه أنهما قد كانا في الوقت الذي كان من رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا القول فيهما ليسا بشابين كما ذكرت ، ولكن بمعنى أنهما سيكونان شابين سيدي شباب أهل الجنة ، وكان منه صلى الله عليه وسلم علما من أعلام نبوته ، لأنه أخبر أنهما يكونان شابين في المستأنف ، وذلك لا يكون منه إلا بإعلام الله عز وجل إياه أنه سيكون ، ويكونان به كما قال ولولا ذلك لما قال فيهما ذلك القول ؛ إذ كانا لولا ذلك القول قد يجوز عنده أن يموتا قبل أن يكونا شابين أو يموت أحدهما قبل ذلك ، ولما كان له صلى الله عليه وسلم أن يقول لهما ذلك القول فكان فيه حقيقة بلوغهما أن يكونا كما قال عقلنا أن ذلك إنما جاز له لإعلام الله عز وجل إياه أنه كائن فيهما .
، فأما قوله صلى الله عليه وسلم إلا ابني الخالة عيسى ابن مريم ويحيى ، فلاستثنائه إياهما يومئذ من شباب أهل الجنة بتحقيقه الشباب لهما لأنهما خرجا من الدنيا وهما كذلك والله نسأله التوفيق .
امام طحاوی فرماتے ہیں:
کوئی اعتراض کرے: آپ رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کیسے قبول کرتے ہیں، جب کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ فرمان اس وقت دیا گیا جب حسن اور حسین رضی اللہ عنہما بچے تھے، جوان نہیں تھے؟ اور یہ فرمان اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ وہ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہوں گے، حالانکہ اس وقت وہ نوجوانوں میں شامل نہ تھے؟
تو ہمارا جواب، اللہ کی توفیق اور مدد سے، یہ ہے:
کہ بے شک اس وقت جب رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمان ان کے بارے میں دیا، وہ واقعی بچے تھے، جیسا کہ آپ نے ذکر کیا، لیکن اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ مستقبل میں جوان ہوں گے اور جنت کے نوجوانوں کے سردار ہوں گے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی ایک نشانی تھی، کیونکہ آپ نے خبر دی کہ وہ مستقبل میں جوان ہوں گے اور جنت کے نوجوانوں کے سردار ہوں گے، اور یہ بات اللہ عز وجل کے علم کے بغیر ممکن نہ تھی۔ اللہ نے آپ کو اس بات کی اطلاع دی کہ یہ ہونے والا ہے، اور آپ نے وہی فرمایا جو آپ کو بتایا گیا۔ اگر اللہ کی طرف سے یہ اطلاع نہ ہوتی، تو آپ ﷺ یہ فرمان نہ دیتے، کیونکہ انسانی عقل کے مطابق یہ ممکن تھا کہ وہ دونوں یا ان میں سے ایک جوانی سے پہلے انتقال کر جاتا۔ لیکن چونکہ آپ نے یہ فرمایا، اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ ضرور جوانی کو پہنچیں گے اور وہی ہوں گے جو آپ نے فرمایا۔ اس سے ہم نے سمجھا کہ یہ فرمان اللہ کے علم کی بنیاد پر تھا۔
جہاں تک آپ ﷺ کے فرمان "سوائے میرے خالہ زاد بھائی عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ کے" کا تعلق ہے، تو اس سے مراد یہ ہے کہ ان دونوں کو اس وقت جنت کے نوجوانوں میں شمار کیا گیا کیونکہ وہ دنیا سے اسی حالت میں رخصت ہوئے جب وہ نوجوان تھے۔ اللہ سے ہم توفیق کی دعا کرتے(اور حضرت عیسی زندہ اٹھائے گئے) ہیں۔
[مشکل الاثار ج5، ص217]
خلاصہ!
امام طحاوی کی تصریح سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسی اور حضرت یحیی کا استثناء اس لیے ہے حدیث میں کیونکہ وہ جوانی ہی میں ہی دنیا سے رخصت ہوئے تھے اور حضرت عیسی کو جوانی میں ہی اللہ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا ۔ اس لیے کیونکہ یہ انبیاء ہیں تو انکے سردار حسنین کریمین نہیں ہو سکتے۔ نیز اس سے یہ نکتہ بھی حاصل،ہوا کہ امام طحاوی نے نوجوان و ادھیڑ عمر کی تفریق دنیا سے وفات کے وقت کی عمر قرار دی
امام طحاوی کی شرح کے اگلے حصے کا مطلب ہے کہ جس طرح فرمان رسول سے حسنین کریمین بچوں کی عمر میں جنت میں نوجوانوں کی سرداری کے اہل ہو چکے مستقبل کی خبر سے
ویسے شیخین ان ادھیڑ عمر لوگوں کے سردار ہو چکے تھے جنکی سرداری کا اعلان بظاہر نبی کریم نے حدیث حسنین کے بہت بعد کیا تھا، اور مولا علی نے یہ حدیث شیخین کی وفات کے بعد بیان فرمائی۔
اور اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امام طحاوی نے شیخین کا استثناء نہیں دیا سوائے حضرت عیسی و یحیی کہ تو اسکا مطلب حسنین کریمین شیخین کے بھی سردار ہونگے۔
تو اسکا،جواب یہ ہے کہ حدیث رسول میں مطلقا شیخین کی سرداری سوائے انبیاء کے تمام لوگوں پر ہے۔ تو شیخین کے سردار حسنین کریمین ہوں یہ احتمال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔
بلکہ شیخصین سوقئے انبیاء کے بشمول حسنین کریمین کے بھی سردار ہونگے۔
اور حسنین کریمین تمام نوجوانون کے سردار ہونگے۔
سوائے دو نوجوانوں کے کہ وہ انبیاء میں سے ہونگے۔
یعنی حضرت عیسی اورحضرت یحییٰ
جیسا کہ امام طحاوی کی نقل کردہ احادیث کا متن درج ذیل ہے۔
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لأبي بكر وعمر هذان سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين .
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا:
"یہ دونوں جنت کے کہول (درمیانی عمر کے افراد) کے سردار ہیں، اولین و آخرین میں سے، سوائے انبیاء اور مرسلین کے۔"
عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه ، قال كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فأقبل أبو بكر وعمر رضي الله عنهما فقال : يا علي هذان سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين ما خلا النبيين والمرسلين لا تخبرهما يا علي فما حدثت به حتى ماتا .
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما تشریف لائے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: 'اے علی! یہ دونوں (ابو بکر اور عمر) اولین و آخرین میں سے جنت کے کہول (درمیانی عمر کے افراد) کے سردار ہیں، سوائے انبیاء اور مرسلین کے۔
اے علی! ان دونوں کو یہ بات نہ بتانا۔' حضرت علی فرماتے ہیں: 'میں نے یہ بات ان دونوں کی زندگی میں کبھی نہیں بتائی، یہاں تک کہ وہ دونوں وفات پا گئے۔'
[مشکل الاثار]
تو جب احادیث میں شیخین کا سوائے انبیاء و مرسلین کے سب کی سرداری کی تصریح ہے تو حسنین کریمین کا شمار بھی ہو،گیا، جسکی وجہ سے حسنین کریمین کی شیخین پر سرداری کا احتمال رخصت ہو گیا۔
بلکہ شیخین کی حسنین کریمین پر سرداری کی نص حدیث کے متن میں ہے کہ وہ سوائے انبیاء و رسل کے تمام اولین و آخرین ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہونگے۔
البتہ یہ اعتراض تھا حسنین کریمین نوجوانوں کے کیسے سردار ہونگے ؟
تو اسکا جواب امام طحاوی،نے فرمایا حدیث رسول،سے
معلوم ہوا امام طحاوی نے مختصر کلام میں بہت گہری شرح و تطبیق فرمائی، امید ہے کافی لوگوں کے شکوک و شبہات امام طحاوی کی شرح سے دور ہو جائیں گے۔
اسد الطحاوی ✍️
________________________________________________________________________________________________________________________________________________________________________________________________________________

