حدیث شاذ کی تعریف اور امام ابو عبد اللہ حاکم النیشابوری رحمہ اللہ (م 405ھ).
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مَعْرِفَةُ الشاذ من الروايات.
وهو غير المعلول، فإنَّ المعلول ما يوقف على عِلَّتِهِ أَنَّهُ دَخَلَ حديث في حديث، أو وهم فيه راو، أو أرسله واحد فوصله واهم.
روایتوں میں شاذ کی پہچان ہے۔
اور یہ معلول (علت خفیہ) روایت سے مختلف ہے، کیونکہ معلول وہ حدیث ہوتی ہے جس کی علت معلوم ہو جائے کہ اس میں ایک حدیث دوسری حدیث میں داخل ہو گئی ہے، یا کسی راوی سے وہم (غلطی) ہو گئی ہے، یا کسی نے اسے منقطع (مرسل) روایت کیا ہو اور کسی دوسرے نے غلطی سے اسے متصل (مسند) بنا دیا ہو۔
فأما الشاد :
فإنه حديث يتفرد به ثقة من الثقات، وليس للحديث أصل بمتابع لذلك الثقة.
رہی بات شاذ حدیث کی،
تو وہ ایسی حدیث ہوتی ہے جسے ثقہ راویوں میں سے کوئی ایک راوی منفرد طور پر بیان کرے، اور اس حدیث کی کوئی اصل یا متابع (تائید کرنے والی روایت) اس ثقہ راوی کے لیے موجود نہ ہو۔
سمعت أبا بكر أحمد بن محمد المتكلم الأشقر يقول سمعت أبا بكر محمد بن إسحق يقول : سمعت يونس بن عبد الأعلى يقول قال لي الشافعي : ليس الشاد مِنَ الحديث أن يروي الثقة ما لا يرويه غيره، هذا ليس بشاذ، إنَّما الشَّاةٌ أن يروي الثقة حديثاً يُخَالِفُ فيه النَّاسَ، هذا الشاذ من الحديث.
میں نے ابو بکر احمد بن محمد المتکلم اشقر کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے ابو بکر محمد بن اسحاق کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے یونس بن عبد الاعلیٰ کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہتے تھے: امام شافعی نے مجھ سے فرمایا: شاذ حدیث یہ نہیں کہ کوئی ثقہ راوی ایسی روایت کرے جو دوسرا کوئی روایت نہ کرے، یہ شاذ نہیں ہے۔ بلکہ شاذ وہ ہے کہ کوئی ثقہ راوی ایسی حدیث روایت کرے جس میں وہ لوگوں (یعنی دیگر رواۃ) کی مخالفت کرتا ہو، یہی شاذ حدیث کہلاتی ہے۔
و مثاله ما
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه قال أخبرنا موسى بن هارون قال حدثنا قتيبة بن سعيد قال حدثنا الليث بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الطَّفَيْل عن معاذ بن جبل : أن النبي صلى الله عليه وآله كان في غزوة تبوك إذا ارتحل قبل زَيْغ الشمس أخر الظهر حتى يَجْمَعَها إلى العصر، فيصليهما جميعاً، وإذا ارتحل بعد زيغ الشمس صلى الظهر والعصر جميعاً، ثم سار وكان إذا ارتحل قبل المغرب أخر المغرب حتى يُصليها مع العشاء، وإذا ارتحل بعد المغرب عجل العشاءَ فَصَلاها بعد المغرب.
:اور اس کی مثال یہ ہے کہ
ہم سے ابو بکر محمد بن احمد بن بالویہ نے بیان کیا، اُن سے موسیٰ بن ہارون، ان سے قتیبہ بن سعید نے ، اُن سے لیث بن سعد نے یزید بن ابی حبیب سے، اور اُن سے ابو الطفیل نے، انہوں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ غزوۂ تبوک میں جب زوالِ آفتاب (دوپہر سے پہلے) روانہ ہوتے تو نمازِ ظہر کو مؤخر کرتے حتیٰ کہ اسے نمازِ عصر کے ساتھ جمع کر کے دونوں کو اکٹھی ادا فرماتے، اور جب زوالِ آفتاب کے بعد روانہ ہوتے تو ظہر اور عصر دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھتے، پھر سفر جاری رکھتے۔
اور جب آپ ﷺ مغرب سے پہلے روانہ ہوتے تو مغرب کی نماز کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر ادا کرتے، اور اگر مغرب کے بعد روانہ ہوتے تو عشاء کی نماز کو جلدی پڑھ لیتے اور اسے مغرب کے فوراً بعد ادا کرتے۔
قال الحاكم: هذا حديث رواته أئمة ثقات، وهو شاذ الإسناد والمتن لا نعرف له عِلَّة نُعَلِّله بها، فلو كان الحديث عند الليث عن أبي الزبير عن أبي الطفيل لعللنا به الحديث، ولو كان عند يزيد بن أبي حبيب عن أبي الزبير لَعَلَّلْنَا بِهِ ، فلما لم نجد له العِلَّتَيْن خَرجَ عَنْ أَنْ يكون معلولاً.
:امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ائمہ ہیں، لیکن یہ حدیث سند اور متن دونوں اعتبار سے شاذ ہے۔ ہمیں اس میں کوئی ایسی علت نہیں ملی جس کی بنیاد پر ہم اسے معلول قرار دیں۔ اگر لیث نے یہ حدیث ابو الزبیر سے، اور ابو الزبیر نے ابو الطفیل سے روایت کی ہوتی، تو ہم اسے اس بنا پر معلول قرار دیتے، اور اگر یزید بن ابی حبیب نے ابو الزبیر سے روایت کی ہوتی تو بھی ہم اس کی علت قرار دیتے۔ مگر جب ہمیں ان دونوں میں سے کوئی علت نہیں ملی تو یہ حدیث معلول کے درجے سے خارج ہو جاتی ہے۔
ثم نظرنا فلم نجد ليزيد بن أبي حبيب عن أبي الطفيل رواية، ولا وجدنا هذا المتن بهذه السياقة عند أحد من أصحاب أبي الطفيل، ولا عند أحد ممن رواه عن معاذ بن جبل غير أبي الطفيل، فقلنا الحديث شاذ
پھر ہم نے غور کیا تو ہمیں یزید بن ابی حبیب کی ابو الطفیل سے کوئی روایت نہیں ملی، اور نہ ہی ہمیں یہ متن اسی ترتیب اور اسلوب کے ساتھ ابو الطفیل کے دیگر شاگردوں میں سے کسی کے پاس ملا، اور نہ ہی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والوں میں سے کسی کے پاس سوائے ابو الطفیل کے (یعنی یہاں تفرد ہے)۔ پس ہم نے کہا: یہ حدیث شاذ ہے۔
[معرفة علوم الحديث صفحہ 375-377]
از قلم: محمد ذیشان برکاتی رضوی
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اگر کسی مسئلے میں ایک قول (متشدد) کا ہو اور دوسرا (معتدل) کا ہو، تو متشدد کے قول پر معتدل کے قول کو ترجیح دی جاتی ہے، اور معتدل کے تصحیح و تحسین کو قبول کیا جاتا ہے، جبکہ متشدد کے ضعف یا اس کے حکم وضع کو قبول نہیں کیا جاتا۔ اس مکمل مضمون کو پڑھنے کے لیے

