غیر مقلدین کی فہمِ حدیث کا منصفانہ جائزہ |





◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆:
{غیر مقلدین کی فہمِ حدیث کا منصفانہ جائزہ }

خادم علوم حدیث : محمد تمیز الدین نقشبندی سبحانی مصباحی ۔
رابطہ نمبر: 9921845486

________________________________________________________________________________________________________

ہر شئی کی بنیاد ضرور ہوتی ہے اسی بنیاد سے شئی کی مضبوطی کا اندازہ ہوتا ہے ، اس طرح تمام ادیان کی اپنی اپنی بنیادیں ہیں، انہیں بنیادوں پر مفکرین غور و خوض کر کے حق و باطل کو سمجھتے ہیں ، یقیناً اسلام ایک حقانی ،ربانی دین ہے جس کی بنیادیں مستحکم و غیر متزلزل ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھی مفکرین و محققین اسلام میں تحقیق و ریسرچ کے ذریعہ جوق در جوق داخل اسلام ہو رہے ہیں۔

اسلام کی بنیاد و اصول قرآن مجید اور احادیث نبویہ صلی الله علیہ وسلم ہیں ، جو ہر آن اپنی روشنی سے اطراف عالم کو منور و مجلی کئے ہوئے ہے اور قیامت تک لوگوں کے رشد و ہدایت کیلئے کافی و وافی ہے۔
قرآن مجید کے بعد دین اسلام کا سب سے بڑا مآخذ و مراجع احادیث کریمہ ہیں، احادیث حمیدہ کے بغیر قرآن فہمی کا دعوی باطل ہے،احادیث نبوی در اصل قرآن مجید کی تفسیر و تشریح ہے۔

لیکن فہم حدیث و فہم قرآن کیلئے ہر ایک کو نہ صلاحیت نہ استطاعت حاصل اور ناہی یہ امر سب کیلئے ممکن ، ہم پر رب العالمین کا احسان عظیم ہوا کہ صحابہ کرام و تابعین عظام نے اپنے قول و عمل سے تشریح فرمائی ، ورنہ ھلاکت ہمارا مقدر ہوتی۔

رب قدیر کا کرم بالائے کرم ہوا کہ امام الامۃ کاشف الغمۃ امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللّٰه عنہ جیسی لازوال نعمت سے امت کو سرفراز فرمایا،
امیر المومنین فی الحدیث حضرت سیدنا عبد الله بن مبارک رضی اللّٰه عنہ امام اعظم کے احسان کا کچھ اس طرح فرمایا : امام المسلمین ابو حنیفہ نے شہروں کو زینت بخشی اور شہروں میں بسنے والوں پر احسان کیا ۔ ( تقلید ص, 59)

امام اعظم رضی اللّٰه عنہ نے قرآن وحدیث سے مسائل مستنبط کر کے امت محمدیہ پر احسان عظیم فرمایا ، گویا کہ آپ کی ولادت ،علم شریعت کی تدوین اور عالمگیر مرجعیت دنیا کے عظیم واقعات میں ایک عظیم واقعہ ہے ، اسی لیے امام اجل ابو جعفر احمد طحاوی قدس سرہ فرماتے ہیں : ابا حنيفة النعمان من اعظم المعجزات بعد القرآن .
( در مختار دہلی ص, 45).

اب سے کچھ ڈیڑھ سو سال قبل اہل حدیث کے نام سے ایک فرقہ وجود میں آیا جو آج غیر مقلدین کے نام سے جانے جاتے ہیں ، اس فرقہ کا دعویٰ ہے کہ ہم کسی امام کی پیروی کے بغیر حدیث پر عمل کریں گے اور آج تک کے حنفیوں نے احادیث کے بجائے اپنے امام کے قول پر عمل کیا ہے ۔

(غیر مقلدین کا بانی ہند میں )


ترک تقلید کا علم لے کر یہ فرقہ اپنی حدیث دانی کا اعلان کرتا ہے ، ہندوستان میں سب سے پہلے جس نے تقلید کا قلادہ اتار دیا اس کے متعلق امام اہل سنت مجدد دین و ملت شاہ امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں ؛ ترک تقلید کا بیج ہندوستان میں سب سے پہلے اسماعیل دہلوی نے بویا ہے۔( فتاوی رضویہ جدید جلد ,15 ص, 522 )۔

چونکہ علم حدیث کی دو قسمیں ہیں دلایت حدیث اور روایت حدیث ہم اہل حدیث کی حدیث دانی کو پہلے درایت حدیث یعنی وہ قواعد جن سے راوی و مروی عنہ کے احوال کی پہچان ہوتی ہے کہ رو سے اتقاب المعالی کے طور پر پیش کرتے ہیں کیونکہ تقابلی مطالعہ سے حق وباطل سورج کی مانند روشن ہو جاتا ہے۔
{غیر مقلدین اور درایت حدیث باعتبار اسماء الرجال}

(1) امام لامذہباں مجتہد نامقلداں مختری طرز نوی مبتدع ازاد روی میاں نظیر حسین صاحب دہلوی نے اپنی کتاب معیار الحق میں احناف کی مستدل احادیث کو رد کرنے کی لاحاصل کوششیں کی ہیں کچھ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں ؛

حدثنا محمد بن عبيد المحاربي نا محمد بن فضيل عن أبيه عن نافع وعبدالله بن واقد أن مؤذن ابن عمر قال: الصلاة، قال: سر، حتى إذا كان قبل غيوب الشفق نزل فصلى المغرب، ثم انتظر حتى غاب الشفق فصلى العشاء، ثم قال: إن رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم كان إذا عجل به أمر صنع مثل الذي صنعت فسار في ذلك اليوم والليلة مسيرۃ ثلث ۔
(ابوداؤد بسند صحیح)

مذکورہ بالا حدیث کو نذیر حسین صاحب نے صرف اس لیے ضعیف قرار دے کر ناقابل استدلال ٹھہرایا دیا کہ اس کے ایک راوی محمد بن فضیل ہیں۔

امام اہل سنت شاہ احمد رضا قدس سرہ نے اپنے رسالہ "حاجز البحرین الواقی عن جمع الصلاتین "میں دلائل و براہین سے ملا جی کی محدثانی کا سارا بھرم اتار دیا اور اور حق کی راہ کو واضح کر دیاچنانچہ فرماتے ہیں :

اولاً: یہ بھی شرم نہ آئی کہ یہ محمد بن فضیل صحیح بخاری وصحیح مسلم کے رجال سے ہے۔

ثانیا: امام ابن معین جیسے شخص نے ابن فضیل کو ثقہ ، امام احمد نے حسن الحدیث، امام نسائی نے ” لا باس بہ کہا ، امام احمد نے اس سے روایت کی، اور وہ جسے ثقہ نہیں جانتے اس سے روایت نہیں فرماتے۔ میزان میں اصلاً کوئی جرح مفسر اس کے حق میں ذکر نہ کی۔

ثالثا: یہ بکف چراغی قابل تماشا کہ ابن فضیل کے منسوب برفض ہونے کا دعوی کیا اور ثبوت میں عبارت تقريب "رمى بالتشيع " (ذکر کیا) ملاجی کو بایں سال خور دی و دعواے محدثی آج تک اتنی خبر نہیں کہ محاورات سلف و اصطلاح محدثین میں تشیع و رفض میں کتنا فرق ہے۔

زبان متاخرین میں شیعہ روافض کو کہتے ہیں خذلهم الله تعالى جميعا، بلکہ آج کل کے بیہودہ مہذبین روافض کو رافضی کہنا خلاف تہذیب جانتے اور انھیں شیعہ ہی کے لقب سے یاد کرنا ضروری مانتے ہیں، خود ملاجی کے خیال میں اپنی ملائی کے باعث یہی تازہ محاورہ تھا یا عوام کو دھوکا دینے کے لیے تشیع کو رافضی بنایا، حالاں کہ سلف میں جو تمام خلفائے کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ حسن عقیدت رکھا اور حضرت امیر المومنین علی کرم الله تعالی وجہہ الکریم کوان میں افضل جانتا، شیعی کہا جاتا۔ بلکہ جو صر امیر المومنین عثمان غنی رضی الله تعالی عنہ نہ پر تفضیل دیتا، اسے بھی شیعی کہتے حالاں کہ یہ مسلک بعض علمائے اہل سنت کا تھا، اس بنا پر متعد ائمہ کوفہ کو شیعہ کہا گیا، بلکہ کبھی محض غلبہ محبت اہل بیت کرام رضی الله تعالی عنہم کو شیعیت سے تعبیر کرتے حالاں کہ یہ محض سنیت ہے ، امام ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ “ میں خود انھیں محمد بن فضیل کی نسبت تصریح کی کہ ان کا تشیع صرف موالات تھا وبس ۔ حيث قال: محمد بن فضيل بن غزوان المحدث الحافظ كان من علماء هذا الشان وثقه يحى بن معين وقال أحمد : حسن الحديث شيعي قلت: كان متواليا فقط.

رابعا : ذرا رواۃ صحیحین دیکھ کر شیعی کو رافضی بنا کر تضعیف کی ہوتی کیا بخاری ومسلم سے بھی ہاتھ دھونا ہے۔ ان کے رواۃ میں تیس سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جنھیں اصطلاح قدما پر بلفظ تشیع ذکر کیا جاتا۔ (حاشیہ میں ۳۲ لوگوں کا نام گنایا ہے)، یہاں تک کہ تدریب میں حاکم سے نقل کیا "کتاب مسلم ملآن من الشيعة" دور کیوں جائیے خود یہی ابن فضیل کہ واقع کے شیعی صرف بمعنی محب اہل بیت کرام اور آپ کے زعم میں معاذ الله رافضی صحیحین کے راوی ہیں۔

خامساً: اس کے ساتھ ہی حدیث کی متابعتیں دو ثقات عدول ابن جابر و عبد الله بن العلاء سے ابو داؤد نے ذکر کر دیں، اور سنن نسائی وغیرہ میں بھی موجود تھیں، پھر ابن فضیل پر مدار کب رہا، ولكن الجهلة لايعلمون“ اور یہ تو ادنی نزاکت ہے کہ تقریب میں ابن فضیل کی نسبت صدوق عارف لکھا تھا۔ ملاجی نے نقل میں عارف اڑا دیا کہ جو کلمہ مدح کم ہو وہی سہی ۔
(فتاوی رضویہ، ج:۲، ص: ۲۴۵، باب الاوقات، ناشر: رضا اکیڈمی، ممبئی)

(2) پھر ایک مقام پر میاں نذیر حسین دہلوی اپنی حدیث دانی کا ثبوت اس طور پر دیتے ہیں :

(ملاجی نے امام طحاوی کی حدیث بطریق ابن جابر عن نافع پر بشر بن بکر سے طعن کیا کہ وہ غریب الحدیث ہے، ایسی روایتیں لاتا ہے کہ سب کے خلاف " قاله الحافظ في التقريب" ۔

اس پر امام احمد رضا کے تعقبات ملاحظہ فرمائیں:

اقول اولا : ذرا شرم کی ہوتی کہ یہ بشر بن بکر رجال صیثح بخاری سے ہیں۔
صحیح حدیثیں رد کرنے بیھٹے تو اب بخاری بھی بالائے طاق ہے۔
ثانیا : اس صریح خیانت کو دیکھیے کہ تقریب میں صاف صاف بشر کو ثقہ فرمایا تھا وہ ہضم کر گئے۔
ثالثاً : محدث جی تقریب میں "ثقة یغرب" ہے۔ کسی ذی علم سے سیکھو کہ فلاں یغرب" اور "فلاں غریب الحدیث" میں کتنا فرق ہے۔
رابعا: اغراب کی یہ تفسیر کہ ایسی روایتیں لاتا ہے کہ سب کے خلاف ، محدث جی غریب و منکر کا فرق کسی طالب علم سے پڑھو۔
خامساً: با وصف ثقہ ہونے کے مجرد اغراب باعث رد ہو تو صحیحین سے ہاتھ دھو لیجیے یہ اپنی مبلغ علم تقریب ہی دیکھیے کہ بخاری و مسلم کے رجال میں کتنوں کی نسبت یہی لفظ کہا ہے ، اور وہاں یہ بشر خود ہی جو ر جال بخاری سے ہیں۔
سادساً: ذرا میزان تو دیکھیے کہ "أما بشر بن بكر التنيسي فصدوق ثقة لا طعن فيه " يعني بشر بن بکر تنیسی خوب راست گو ثقہ ہیں جن میں اصلا کسی وجہ سے طعن نہیں کیوں ، شرمائے تو ہو گے ، ایسی ہی اندھیری ڈال کر جاہلوں کو بہکا دیا کرتے ہو کہ حنفیہ کی حدیثیں ضعیف ہیں۔ ع
شرم بادت از خدا و از رسول
(فتاوی رضویہ جہان علوم و معارف جلد ,1 ص, 220).

اس طرح کی فریب کاریوں سے نذیر حسین دہلوی کی کتاب "معیار الحق " بھری پڑی ہے ، جو کہ پورا کا پورا سراب ہے، یہاں تو صرف امام اہلسنت کی دو حدیثوں کے متعلق گفتگو پیش کی ہے ، "حاجز البحرین" کا مطالعہ کریں ، تو دیکھیں گے کہ ملاجی قدم قدم پر منہ کی کھائیں ہیں، اور اسماء الرجال سے تو ملاجی کا دور دور کا واسطہ ہی نہیں ہے ، یہ تو حال ہے امام غیر مقلدین کا ، غیر مقلدین کو اپنے اماموں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔

اسی طرح غیر مقلدین کے محدثین کا بھی یہی حال ہے مثلاً البانی اور شوکانی ، ان دونوں کی حدیث دانی کو استاد گرامی حضرت علامہ مولانا سلمان رضا خان جامعی ازہری صاحب قبلہ استاد جامعہ اسلامیہ روناہی فیض آباد کی کتاب "غیر مقلدین کے دعوے عمل بالحدیث" کی حقیقت کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔
اب تک تو درایت کے لحاظ سے ہم نے مجتھد غیر مقلداں کی حدیث دانی کو پیش کیا اب ہم " فقہ الحدیث" کے اعتبار سے ان حضرات کی محدثانی کا بھی جائزہ لیتے ہیں ۔

{غیر مقلدین اور روایت حدیث باعتبار فھم حدیث}

فرقۂ وہابیہ کے امام و پیشوا مولوی اسمٰعیل دہلوی اپنا عقیدہ یوں بیان کرتے ہیں : "اس شہنشاہ کی تو یہ شان ہے کہ ایک ان میں حکم کن سے چاہے تو کروڑوں نبی اور ولی اور جن و فرشتے جبرائیل اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برابر پیدا کر ڈالے"۔
( تقویۃ الایمان ص ,26 الفصل الثالث راشد کمپنی دیوبند)

اس مقام پر امام الوھابیہ نے ایک عقیدہ یہ بیان کیا ؛ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی پیدا ہو سکتا ہے. (معاذ اللّٰه)
سب سے پہلے تو یہ قرآن مجید کے خلاف ہے ، پھر پچاسوں احادیث کریمہ کے خلاف یہ عقیدہ ہے ، کچھ احادیث آپ حضرات بھی ملاحظہ فرمائیں ؛

(1)عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله - صلى الله تعالى عليه وسلم - إنَّه سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيُّ بَعْدِي ». حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ . (جامع ترمذی ج,2 ص, 45 مجلس برکات)
ترجمہ: حضرت ثوبان پہلے سے روایت ہے کہ الله کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: عنقریب میری امت میں تیس کذاب ظاہر ہوں گے ، ان میں سے ہر ایک یہ کہے گا کہ وہ نبی ہے حالاں کہ میں خاتم النبیین ہوں ،میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

(2) حدثني أبو أسماء الرحبي أن ثوبان حدثه أنه سمع رسول الله صلى الله تعالى يقول: ...............
و سيخرج في أُمتي كذابون ثلاثون كلهم يزعم أنه نبي وأنا خاتم الأنبياء، لا نبي بعدي.
(هذا حديث صحيح على شرط الشيخين و لم يخرجاه بهذه السياقة، وإنما أخرج مسلم حديث ثوبان مختصرا . اهـ ملتقطا . .)
(المستدرك على الصحيحين ، ج : ٤ ، ص : ٤٤٩ ، ٤٥٠ ، مجلس دائرة المعارف حيدرآباد و مكتبة المطبوعات الإسلامية بيروت، لبنان.)

(3) عن حذيفة أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال : في أمتي كذابون و دجالون سبعة وعشرون منهم أربع نسوة، وإني خاتم النبيين لا نبي بعدي. ( مسند الإمام أحمد : ص: ١٧٣٥ / مسند الأنصار، رقم الحديث: ٢٣٧٥٠، بيت الأفكار الدولية للنشر .)

ترجمہ: حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ الله کے نبی نے فرمایا ، میری امت میں ستائیس کذاب و دجال ہوں گے ، ان میں سے چار عورتیں ہوں گی۔ اور میں تمام نبیوں کا خاتم ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“

(4)عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ الله - صلى الله عليه وسلم -خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ ، فَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا، فَقَالَ : أَتُخَلِّفُنِي فِي الصَّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ، قَالَ: «أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ . مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي» (صحيح البخاري ج,1ص,633 مجلس بركات)
ترجمہ: حضرت مصعب بن سعد اپنے والد حضرت سعد بن ابو وقاص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ لا غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو آپ نے حضرت علی کو مدینہ شریف میں جانشین کی حیثیت سے چھوڑ دیا، انھوں نے عرض کی، حضور ! آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جارہے ہیں تو سرکار علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ : تم یہاں میری نیابت میں ایسے رہو جیسے موسی علیہ ئاسلام جب اپنے رب سے کلام کے لیے حاضر ہوئے تو ہارون علیہ السلام کو اپنی نیابت میں چھوڑ گئے تھے ، ہاں ! یہ فرق ہے کہ ہارون نبی تھے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔ “

(5)عن مُحَمَّد بْن جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى الله عليه وسلم - قَالَ « أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ وَأَنَا الحاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى عَقِبِي وَأَنَا الْعَاقِبُ». وَالْعَاقِبُ: الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِي . (صحیح مسلم ج ,2 ص,261 مجلس برکات)

ترجمہ: محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد جبیر بن مطعم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں محمد ہوں، احمد ہوں ، ماحی ہوں کہ میرے سبب الله کفر کو مٹاتا ہے ، میں حاشر ہوں، میرے قدموں میں لوگوں کا حشر ہوگا۔ اور میں عاقب ہوں، اور عاقب وہ ہے جس کے  بعد کوئی نبی نہ ہو۔

(6)حدثني سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ. قَالُوا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ قَالَ " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ ۔(صحیح مسلم ج ,2 ص,1035 مجلس برکات)
ترجمہ : حضرت سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے الله کےنبی سے یہ فرماتے سنا کہ نبوت سے باقی نہیں ، مگر مُبَشِّرات “ صحابہ نے عرض کی حضور ، وہ مبشرات کیا ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: اچھے خواب۔

اس کے علاوہ استاد گرامی محقق مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین مصباحی صاحب قبلہ نے 37, احادیث کریمہ کو اپنی کتاب" احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف " میں جمع فرمایا اور پھر فرماتے ہیں کہ 71, صحابہ وتابعین سے اس مضمون کی احادیث مروی ہیں ، جن کے اسماء کی تفصیل اسی کتاب میں دیکھنا ،
پھر فرماتے ہیں : یہ تفصیل شاہد ہے کہ یہ احادیث متواتر المعنیٰ ہیں، الفاظ اور واقعات گو مختلف ہیں مگر یہ سب اس مضمون پر قطعی و یقینی طور پر دلالت کرتے ہیں کہ سید المرسلین خاتم النبین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں پیدا ہو گا، لہذا اگر کوئی آپ کے بعد نبوت کا دعوی کرتا ہے تو وہ دجال و کذاب ہے۔ یہی وہ نصوص متواترہ ہیں جن کی بنیاد پر سلف و خلف کا اجماع قطعی منعقد ہو گیا کہ حضور پر نور ، شافع یوم النشور صلی الله علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا بی آنا ناممکن و محال ہے ۔
( احادیث صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف ج 1ص,116 )۔

ایک سمت تو یہ متواتر احادیث کریمہ ہیں جن کو پڑھ کر مکتب کا طالب علم بھی سمجھ جائے گا کہ حضور پُرنور صلی الله علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا، مولوی اسمٰعیل دہلوی جو کے غیر مقلدین کے مجتہد مطلق ہیں ، پھر بھی ان کا عقیدہ اتنا غلیظ ترین ہے ، آخر غیر مقلدین کو اس کے علاوہ کیا ثبوت چاہیے کہ ان کے امام اسماعیل دہلوی کی حدیث پر کتنی نظر ہے ؟، اور ان کی محدثانی کی حقیقت کیا ہے؟؟

یہاں سے یہ بات بھی واضح ہو گیا کہ بغیر ائمہ اربعہ کے اور محدثین و فقہاء کے ہم احادیث کریمہ کو نا سہی معنوں میں سمجھ سکتے ہیں اور ناہی عمل کر سکتے ہیں ، ورنہ نذیر حسین دہلوی اور اسمعیل کی طرح مسائل تو کیا باب عقائد بھی صحیح کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے اور ہر قدم پر منہ کی کھائیں گے۔

الله تعالیٰ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ الله اور تمام محدثین و فقہاء کی قبروں پر رحمتوں و انوار کی بارش فرمائے اور ان کے صدقہ ہماری مغفرت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی الله علیہ وسلم ۔
.----------------------.----------------------.----------------------.----------------------.----------------------.----------------------.----------------------.----------------------.----------------------.---------------------------
ذ

   حدیث شاذ کی تعریف اور امام ابو عبد اللہ حاکم النیشابوری رحمہ اللہ (م 405ھ).  اس کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.