کیا دیوبندی کے پیچھے نماز پڑھنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے.؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
دیوبندی اپنے عقائدِ خبیثہ کُفریہ کی بِناء پر اسلام سے خارج ہیں۔ (تفصیل کے لیے حُسَّام الحَرَمَین اور الصَّوَارم الہندیہ کا مُطالعہ کریں۔) لہذا اگر کوئی واقعی دیوبندی ہے (اور ہر وہ بدمذہب جس کی بد مذہبی حدِّ کُفر تک پہنچ گئی ہو) اسے اچھا سمجھ کر جان بوجھ کر اس کے پیچھے نماز پڑھی تو نکاح ٹوٹ جائے گا کیونکہ جو حقیقی دیوبندی ہو اور جو قطعی، یقینی حتمی طور پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جانے، کافر نہ کہے تو وہ بھی کافر ہے۔ اور جب اسلام سے خارج ہو گیا تو اب اس کا نکاح بھی ٹوٹ گیا، اس پر فرض ہے کہ توبہ و استغفار اور تجدید ایمان کرے اور اگر شادی والا ہو تو تجدیدِ نکاح بھی کرے۔
اور اگر کوئی واقعی دیوبندی نہیں یا بھول کر پڑھ لی تب اس کا نکاح تو نہیں ٹوٹے گا لیکن اس پر توبہ و استغفار لازم ہے۔
مگر مسلمانوں کو ان سے دور رہنا چاہیے اگر کہیں نماز پڑھیں اور معلوم ہو کہ امام بد عقیدہ ہے تو ہرگز اس کی اقتداء نہ کریں بلکہ اپنی الگ پڑھیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:”وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ“
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ (القرآن الكريم، سورة الأنعام، الآية:68)
اور حدیث پاک میں ہے، حضور ﷺ نے فرمایا:’’اِیَّاکُمْ وَ اِیَّا ھُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ‘‘ یعنی ان (بدمذہبوں ) سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں ، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ (صحیح المسلم، باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء ،جلد1 ،صفحه 33)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم : محمد اویس العطاری المصباحی
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

