غیر مسلموں کو نمسکار آداب کرنا یا ان کے جواب میں ایسے الفاظ کہنا کیسا اور لفظ سلام کہنا کیسا ہے؟





    کاروبار یا تعلق کی بنا پر غیر مسلموں کو نمسکار آداب کرنا یا انکے جواب میں ایسے الفاظ کہنا کیسا اور  لفظ سلام کہنا کیسا ہے؟



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

بلا ضرورت غیر مُسلموں کو سلام کرنا جائز نہیں کہ اس میں ان کی تعظیم ہے اور کُفار کی تعظیم کُفر ہے یعنی اگر کافر کے کُفر کو اچّھا جان کر تعظیم کرے گا تو خود کافِر ہو جائے گا۔ ہاں اگر صحیح ضرورت ہو تو سلام کر سکتا ہے مگر لفظِ سلام نہ کہے بلکہ ہاتھ اٹھائے یا ایسا لفظ کہے جو نہ سلام ہو اور نہ تعظیم کے لیے ہو، یا مجبور ہو تو آداب کہے اور قصد یہ رکھے کہ آ میرے پاؤں داب یا آدابِ شریعت بجا لا۔ اور اگر وہ سلام کریں تو جواب دے سکتا ہے مگر جواب میں صرف علیکم کہے۔ *لہذا صورتِ مسؤولہ میں اگر غیر مسلم کے ساتھ کسی کاروبار میں شامل ہوں تو لفظِ نمسکار نہیں کہنا چاہئے بلکہ آداب کہنے کی اجازت ہے اور اس کے جواب میں فقط وعلیکم کہے، سلام نہ کہے۔*

الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:” `وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا
“ ترجمۂ کنز الایمان:اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو تم اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا وہی کہہ دو بے شک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے۔ (القرآن الکریم، سورۃ النساء، آیة:86)

اس آیت کے تحت ’تفسير خزائن العرفان‘ میں ہے:”کافر ،گمراہ، فاسق اور استنجا کرتے مسلمانوں کو سلام نہ کریں۔ “ (تفسیر خزائن العرفان، سورة النساء، آية:86)

مسلم شریف کی حدیث پاک ہے:” `عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «لَا تَبْدَؤُواالْيَهُودَ وَلَا النَّصَارٰى بِالسَّلَامِ»`“ یعنی روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ یہودیوں عیسائیوں پر سلام کی ابتداء نہ کرو۔ (صحیح المسلم، کتاب السلام، باب النھی عن إبتداء أهل الكتاب بالسلام... إلخ، الحديث:2167)

اس حدیث پاک کے تحت حکیم الامت مُفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”سارے کفار کا یہی حکم ہے ذمی ہوں یا حربی کہ ان کو مسلمان بلاضرورت سلام نہ کرے کہ سلام میں اظہار احترام ہے اور کفار کا احترام درست نہیں،مرتدین بدمذہبوں کا حکم بھی یہی ہے ضرورت کے احکام جداگانہ ہیں۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد:6، تحت الحدیث:4635)

در مختار میں ہے:”(ويسلم) المسلم (على أهل الذمة) لو له حاجة إلىه وإلا كره هو الصحيح، ولو سلم يهودي أو نصراني أو مجوسي على مسلم فلا بأس بالرد (و) لكن (لا يزيد على قوله وعليك) كما في الخانية (ولو سلم على الذمي تبجيلاً يكفر) لأن تبجيل الكافر كفر“ یعنی صحیح قول کے مطابق مسلمان ذمی کو حاجت کی بناء پر سلام کر سکتا ہے، ورنہ نہیں۔ اور اگر یہودی یا نصرانی یا مجوسی مسلمان کو سلام کرے تو جواب دینے میں حرج نہیں لیکن جواب میں صرف وعلیک کہے، اور ذمی کو تعظیماً سلام کرے تو کافِر ہو جائے گا کیونکہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔ (مطلب یہ ہے کہ اگر کافر کے کُفر کو اچّھا جان کر تعظیم کرے گا تو خود کافِر ہو جائے گا۔ (الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، الجزء التاسع، صفحة:590-592، ملتقطاً، دار الكتب العلمية، بيروت)


فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”وأما التسليم على أهل الذمة فقد اختلفوا فيه قال بعضهم:لا بأس بأن يسلم عليهم وقال بعضهم:لا يسلم عليهم وهذا إذا لم يكن للمسلم حاجة إلى الذمي وإذا كان له حاجة فلا بأس بالتسليم عليه ولا بأس برد السلام على أهل الذمة ولكن لا يزاد على قوله وعليكم“ مفہوم اوپر گزر چکا۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب السابع في السلام وتشميت العاطس، الجزء الخامس، صفحة:401، دار الكتب العلمية، بيروت)


مُجدِّدِ اعظم امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا کہ کافر کو سلام کرنا چاہئے یانہیں؟ تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا:”حرام ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:22، صفحہ:378، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)


کافر، مبتدع یا فاسق کو سلام کرنے کی صحیح ضرورت کے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”کافر یا مبتدع یا فاسق کو سلام کرنے کی صحیح ضرورت پیش آئے تولفظ سلام نہ کہے بلکہ ہاتھ اٹھانے یا کوئی لفظ، کہ نہ سلام ہو نہ تعظیم کہنے پر قناعت کرے یا مجبور ہو تو آداب کہے یعنی آ میرے پاؤں داب، یا آداب شریعت کہ تو نے اپنے فسق سے ترك کردئے ہیں بجالا۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:22، صفحہ:378، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

صدرُ الشریعہ مُفتی محمد اَمجد علی اَعظَمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”کفار کو سلام نہ کرے اور وہ سلام کریں تو جواب دے سکتا ہے مگر جواب میں صرف عَلَیْکُمْ کہے اگر ایسی جگہ گزرنا ہو جہاں مسلم و کافر دونوں ہوں تو السَّلامُ عَلَیْکُمْ کہے اور مسلمانوں پر سلام کا ارادہ کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے۔ کہ السَّلامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی کہے۔ کافر کو اگر حاجت کی وجہ سے سلام کیا، مثلاً سلام نہ کرنے میں اس سے اندیشہ ہے تو حرج نہیں اور بقصد تعظیم کافر کو ہرگز ہرگز سلام نہ کرے کہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد:3، حصہ:16، صفحہ:462، مجلس المدينة العملية، دعوت اسلامی)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

غیر مسلموں کے تیوہار کی مٹھائی لینا اور اسے کھانا کیسا ہے؟ اس مسئلہ کو مکمل پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 




Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.