قسط نمبر (1)
کیا امام شافعی اور امام اعظم رضی اللہ عنھما پر جرح قبول ہوگی ؟`
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جارح کے جرح کے عدم قبول کے سلسلے میں چند اصول ہیں ،جن کے معلوم نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بلا وجہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور امام شافعی اور دیگر ائمہ و محدثین پر بے جا اعتراض کرتے ہیں ، انہیں یاد کر لینا چاہیے۔
حضرت علامہ ابو حمزہ محمد سلمان رضا خان حنفی قادری جامعی ازہری دامت برکاتہ العالیہ اپنی کتاب "زاد النبیل فی اصول الجرح و التعدیل" میں بیان فرماتے ہیں :
الاصل الثانی : لایقبل جرح فی حق من استفاضت عدالتہ و اشتھرت امامت
(استاد مکرم نے اس قاعدے کے تحت جو گفتگو کی ہے وہ یہاں بیان کیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی وضاحت کے لیے کچھ شرح اور نوٹ کی زیادتی کی جا رہی ہے )
:استاد مکرم فرماتے ہیں
علم " رجال حدیث "کی مدونہ کتب کا مطالعہ کرنے والے پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ بعض وہ ائمہ جو ثقاہت ، عدالت اور امامت کے ساتھ مشہور ہیں ان پر بھی جرح و قدح کی گئی ہے ، اسی لیے وہ راوی جس کی عدالت اور امامت شہرت کو پہنچی ہوئی ہو اس کے حق میں جرح قبول نہیں کیا جائے گا۔
نوٹ: یہاں شہرت سے وہ شہرت مراد ہے جو محدثین کے ہاں مقبول ہے نہ کہ لغوی معنی۔
امام ابن معین رحمہ اللہ نے امام شافعی رحمہ اللہ کے سلسلے میں کلام فرمایا ہے۔
تو امام ذہبی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا :
کہ امام ابن معین رحمہ اللہ نے اس کلام سے خود کو تکلیف دی، لوگوں نے امام شافعی کے سلسلے میں ان کے کلام کی طرف التفات نہیں کیا ،جس طرح کے بعض لوگوں کے سلسلے میں ان کی توثیق قبول نہیں کی۔
حالانکہ ہم ان کے جرح و تعدیل کو ہمیشہ قبول کرتے ہیں اور ان کو بہت سارے حفاظ محدثین پر مقدم کرتے ہیں جب تک کہ جمہور ان کے اجتہاد میں مخالفت نہ کرے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(معرفة الرواة المتكلم فيهم بما لا يوجب الرد ص, 49 ناشر: بیروت لبنان )
شرح:
یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ وہ محدثین جو امامت اور عدالت میں حد شہرت کو پہنچے ہوئے ہیں ان کے خلاف اگر بعض محدثین کلام کریں تو ان کی طرف ہرگز التفات نہیں کیا جائے گا، چاہے وہ کتنے بھی بڑے محدث کیوں نہ ہو۔
جو مثال پیش کی گئی ہے اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں امام جرح و تعدیل طبقہ اولی کے راویوں میں سے امام ابن معین رحمہ اللہ کا قول جرح و تعدیل کے سلسلے میں بہت سے حفاظ محدثین پر مقدم کیا جاتا ہے مگر امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف ان کے کلام کو ہرگز قبول نہیں کیا گیا۔
تو یہ قاعدہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے : لایقبل جرح فی حق من استفاضت عدالتہ و اشتھرت امامتہ۔
نوٹ: اسی طرح اور بھی قواعد ہیں جہاں پر محدث کے جرح کو قبول نہیں کیا جائے گا۔اگر اپ بھی انہیں یاد کرنا چاہتے ہیں تو " زاد النبیل فی اصول الجرح و التعدیل " کا مطالعہ کریں۔
:مزید آگے استاد مکرم ارشاد فرماتے ہیں
اسی سے روز روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ امام الائمہ سراج الامہ کاشف الغمہ سیدنا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور اپ کے اصحاب رحمہم اللہ کے خلاف جتنے بھی کلام ہیں وہ سب مردود ہیں ان کی طرف التفات نہیں کیے جائے گا اس لیے کہ یہ لوگ فقہت عدالت اور امامت میں حد شہرت کو پہنچے ہوئے ہیں واللہ تعالیٰ اعلم۔۔
(زاد النبیل فی اصول الجرح و التعدیل صفحہ 51)
نوٹ: ہم نے یہاں طوالت کے خوف سے عربی عبارت ترک کر دی ہے البتہ عربی عبارت کی تصویر ہم چسپا کر دیں گے۔
خادم علوم حدیث: محمد تمیز الدین نقشبندی سبحانی مصباحی ۔
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

