اولاد اگر نافرمان ہو تو اس کو بد دعا کرنا کیسا ہے | محمد اویس العطاری المصباحی




اولاد نافرمان ہو تو کیا بد دعا کرنی چاہیے  دلائل و شواہد کی روشنی میں


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

نہیں کرنی چاہیے! اولاد اگر نافرمان ہو تو اس کی مطیع وفرماں بردار کی دعا کرنی چاہیے۔ اورہمیشہ منہ سے اچھی بات نکالنی چاہیے کہ نہ معلوم کون سا وقت قبولیت کا ہو۔ ہمارے معاشرے میں عموماً مائیں بچوں کو طرح طرح کی بددعائیں دیتی رہتی ہیں، مثلا: بیڑہ غرق ہو، تو تباہ ہوجائے، تو مرجائے، تجھے کیڑے پڑیں وغیرہ وغیرہ۔ معاذ الله! اور اگر کوئی ایسا حادثہ ہوجائے تو پھر سر پکڑ کر روتے ہیں۔ لہذا اس طرح کے جملوں سے احتراز لازم ہے۔

بد دعا نہ کرنے کے متعلق قرآن پاک میں ہے:”وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِؕ-وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا“ 
ترجمہ کنز الایمان: اور آدمی برائی کی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی مانگتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے۔ (القرآن الکریم، بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْل (اَلْاَسْرَاء)، آیت:11)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:”اس سے معلوم ہوا کہ غصے میں اپنے یا کسی مسلمان کیلئے بددعا نہیں کرنی چاہیے اور ہمیشہ منہ سے اچھی بات نکالنی چاہیے کہ نہ معلوم کونسا وقت قبولیت کا ہو۔ ہمارے معاشرے میں عموماً مائیں بچوں کو طرح طرح کی بددعائیں دیتی رہتی ہیں ، مثلا تیرا بیڑہ غرق ہو، تو تباہ ہوجائے، تو مرجائے، تجھے کیڑے پڑیں وغیرہ، وغیرہ، اس طرح کے جملوں سے احتراز لازم ہے۔“ (صراط الجنان، سورۃ: بنی اسرائیل، تحت الآية:11)

حدیث پاک میں بھی اپنے آپ کو اور دوسروں کو بددُعا دینے سے روکا گیا ہے، چنانچہ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:”عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تَدْعُوْا عَلٰى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا تَدْعُوْا عَلٰى أَوْلَادِكُمْ، وَلَا تَدْعُوْا عَلٰى أَمْوَالِكُمْ، لَا تُوَافِقُوْا مِنَ اللّٰهِ سَاعَةً يُسْأَلُ فِيْهَا عَطَاءَ فَيَسْتَجِيْبُ لَكُمْ“ 
یعنی تم نہ اپنے آپ کو بددُعا دو، نہ اپنی اولاد کو بد دُعا دو اور نہ اپنے اَموال کو بددُعا دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ وہ گھڑی ہو جس میں اللہ پاک سے جس عطا کابھی سوال کیا جائے تو وہ دُعا قبول ہوتی ہو۔ (صحیح مسلم،کتاب الزہد والرقائق، باب حدیث جابر الطویل...إلخ،  الحديث:3009)

ترمذی شریف کی حدیث پاک میں ہے:”عن أبي هريرة رضي الله عنه قال، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ثلاث دعوات مستجابات:دعوة المظلوم، ودعوة المسافر، ودعوة الوالد على ولده
 یعنی حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:تین دعائیں بیشک مقبول ہیں:مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور ماں باپ کا اپنی اولاد کو کوسنا۔ (سنن الترمذی، کتاب الدعوات، باب ذکر فی دعوة المسافر الحديث:3459)

رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”اپنے اور اپنے احباب کے نفس واہل ومال وولد(بچوں) پر بددعا نہ کرے کیا معلوم کہ وقتِ اجابت ہو اور بعد وقوعِ بلا(مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد) پھر ندامت ہو۔“ 
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:أقول وباللّٰہ التوفیق :بد دعا  دو ۲  طور پر ہوتی ہے : ایک یہ کہ داعی (یعنی دعا کرنے والے )کا قلب حقیقۃً اس کا یہ ضرر(نقصان) نہیں چاہتا، یہاں تک کہ اگر واقع ہو تو خود سخت صدمے میں گرفتار ہو۔ جیسے: ماں باپ غصے میں اپنی اولاد کو کوس لیتے ہیں مگر دل سے اس کا مرنا یا تباہ ہونا نہیں چاہتے اور اگر ایسا ہو تو اس پر ان سے زیادہ بے چین ہونے والا کوئی نہ ہوگا۔ دیلمی کی حدیث میں اسی قسمِ بد دعا کی لئے وارد کہ حضور رَؤُوْفٌ الرَّحِیْمِ رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کا مقبول نہ ہونا اللہ تعالیٰ سے مانگا۔ نظیر اس کی وہ حدیث صحیح ہے کہ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عرض کی:’’الٰہی! میں بشر ہوں بشر کی طرح غضب فرماتا ہوں تو جسے میں لعنت کروں یا بد دعا دوں اسے تو اس کے حق میں کفارہ واجر وباعثِ طہارت کر۔‘‘(صحیح مسلم،کتاب البر والصلة،باب من لعنه النبي...إلخ، الحديث:2600-2603،صفحة:1401-1403)

دوسرے اس کے خلاف کہ داعی کا دل حقیقۃً اس سے بیزار اور اُس کے اس ضرر کا خواستْگار (امیدوار)ہے اور یہ بات ماں باپ کو معاذ اللہ اسی وقت ہوگی جب اولاد اپنی شقاوت سے عقوق کو (یعنی :نافرمانی وسرکشی کو) اس درجۂ حد سے گزار دے کہ ان کا دل واقعی اس کی طرف سے سیاہ ہو جائے اور اصلاً محبت نام کو نہ رہے بلکہ عداوت آ جائے۔ ماں باپ کی ایسی ہی بد دعا کے لیے فرماتے ہیں کہ رَدّ نہیں ہوتی۔ (احسن الوعاء لآداب الدعاء، صفحہ:212-214، مکتبة المدینة دعوت اسلامی ملتقطاً)

واللّٰہ تعالٰی أعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ


والدین اور استاد میں افضل کون ہیں..؟  اس مضمون کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.