امام سخاوی اور مسئلہ افضلیت کی اہمیت


محمد تمیز الدین نقشبندی مصباحی



امام سخاوی رحمہ اللّٰہ اور مسئلہ افضلیت کی اہمیت

خادم علومِ حدیث: محمد تمیز الدین نقشبندی مصباحی

استاد : دارالعلوم سلطانیہ چشتیہ اہل سنت دھلیہ مہاراشٹر
رابطہ نمبر: 9921845486

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

امام سخاوی نے اپنی کتاب "المقاصد الحسنہ" میں" انا مدینۃ العلم و علی بابھا " اور دیگر فضائل مولائے کائنات میں روایت بیان کرنے کے بعد افضلیت کا مسئلہ بہتر انداز میں بیان فرمایا ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ افضلیت کا مسئلہ کتنا اہم اور حساس ہے جس میں کسی کو شک کرنے کی گنجائش نہیں ، آپ عبارت سے خود اندازہ لگائیں گے کہ مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کے ذکر کے بعد فورا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت کا اعلان کیا، تاکہ کسی کے ذہن میں افضلیت صدیق اکبر کے خلاف شبہ نہ رہ جائے


:امام شمس الدین محمد بن عبدالرحمن سخاوی (904ھ)رحمہ اللہ فرماتے ہیں
وليس في هذا كله ما يقدح في إجماع أهل السنة من الصحابة والتابعين؛ فمن بعدهم، على أن أفضل الصحابة بعد النبي الله على الإطلاق: أبو بكر؛ ثم عمر رضي الله عنهما. وقد قال ابن عمر رضي الله عنهما : كنا نقول ورسول الله له حي : أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر وعثمان؛ فيسمع ذلك رسول الله الله فلا ينكره. بل ثبت عن علي نفسه أنه قال : خير الناس بعد رسول الله ﷺ أبو بكر ، ثم عمر ثم رجل آخر؛ فقال له ابنه محمد ابن الحنفية : ثم أنت يا أبت؟ فكان يقول : ما أبوك إلا رجل من المسلمين رضي الله عنهم، وعن سائر الصحابة أجمعين.
`(المقاصد الحسنہ صفحہ 122, دار الکتب العلمیہ )`
ترجمہ:  ان تمام روایتوں میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو اہل سنت میں صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والوں کے اجماع کو نقصان پہنچائے کیونکہ اس بات پر (ان تمام کا) اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد علی الاطلاق تمام صحابہ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ افضل ہیں پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔

اور حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کہتے تھے کہ اس امت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر اور عمر اور عثمان ہیں اسے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سنتے اور انکار نہ فرماتے،
بلکہ خود حضرت مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ سے ثابت ہے کہ تمام لوگوں میں رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر ابوبکر ہیں پھر عمر پھر ایک دوسرا شخص تو آپ کے شہزادے محمد بن حنفیہ نے آپ سے پوچھا پھر آپ : اے والد مکرم! تو فرماتے تھے تیرے والد مسلمانوں میں سے ایک شخص ہے رضی اللہ عنہم اجمعین۔

نوٹ : مسئلہ افضلیت کو خوب ذہن نشین کر لینا چاہیے اور اس پر اعتراضات جو منکرین کے ہیں ان کے جوابات بھی یاد کر لینا بہت ضروری ہے۔
=====================================================================================

حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سوانحِ حیات کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 




Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.