عنوان: مسجد
تحریر: مظفر حسین مصباحی شیرانی
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
مسجد روحانیت و نورانیت سے بھر پور وہ پر سکون جگہ ہے، جہاں بندہ اپنے رب کے حضور سر بسجود ہو کر عجز و انکساری کے ذریعے ذوقِ بندگی کی تسکین کا سامان کرتا ہے، جو دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی کا ضامن ہے۔ مسجد محض صوم و صلاۃ کے لیے نہیں بلکہ باہمی پیار، محبت اور اخوت و مساوات کے قیام کا وہ عظیم قلعہ ہے، جہاں دل کی کدورتیں مٹ جاتی ہیں اور نفرتیں محبتوں میں ڈھل جاتی ہیں۔
قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر مسجد کے فضائل و برکات بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلهِ فَلَا تَدۡعُواْ مَعَ اللهِ أَحَدًا (سورۂ جن، آیت: ۱۸)
ترجمہ: اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں، تو اللہ کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو۔
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مسجد کی نسبت اپنی جانب فرمائی ہے، جس سے مسجد کی اہمیت و عظمت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی درجنوں مقامات پر مسجد کے فضائل کو بیان کیا گیا ہے، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:۔
(۱) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَن غَدا إلى المَسْجِدِ، أَوْ راحَ، أَعَدَّ اللہُ له في الجَنَّةِ نُزُلًا، كُلَّما غَدا، أَوْ راحَ.(صحیح مسلم، حدیث: ٦٦٩)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا: جو صبح یا شام مسجد کی جانب جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں مہمانی تیار فرماتا ہے، صبح یا شام جب بھی وہ جائے۔
(۲) عن بُريدة بن الحصيب الأسلمي رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (سنن أبو داود، حدیث: ۵٦١)
ترجمہ: حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو لوگ اندھیروں میں مسجدوں کی طرف جاتے ہیں، انھیں قیامت کے دن کامل نور کی خوش خبری دے دو۔
(۳) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَحَبُّ البِلادِ إِلَى اللہِ مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ البِلادِ إِلَى اللهِ أَسْوَاقُهَا (صحیح مسلم، حدیث: ٦٧١)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک روئے زمین پر سب سے زیادہ محبوب مسجدیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں۔
ان حدیثوں سے مسجد کی فضیلت روزِ روشن کی طرح واضح اور منکشف ہو جاتی ہے، اب الگ سے اسے بیان کرنے کی حاجت نہیں۔
مسجد جنت کی کیاری ہے
حدیث پاک میں ہے: عن ابي هريرة رضی اللہ تعالی عنہ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا مررتم برياضِ الجنَّةِ فارتعوا قالوا: وما رياضُ الجنَّةِ؟ قال: المساجدُ، قلتُ: وما الرتعُ؟ قال: سبحانَ اللهِ والحمدُ للهِ ولا إلهَ إلا اللهُ واللهُ أكبرُ (سنن ترمذي، حدیث: ٣٥٠٩)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں میں سے کسی باغ کے پاس سے گزرو تو کچھ چر لیا کرو (یعنی ان سے فائدہ اٹھا لیا کرو) میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ! «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ” رياض الجنة" مساجد ہیں، میں نے کہا اور «الرتع» کیا ہے، اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ نے فرمایا: ” «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنا «الرتع» ہے“۔
مسجد میں نماز پڑھنا گھر میں نماز پڑھنے سے کئی گنا افضل ہے
حدیث شریف میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: صَلاةُ الرَّجُلِ في الجَماعَةِ تُضَعَّفُ على صَلاتِهِ في بَيْتِهِ، وفي سُوقِهِ، خَمْسًا وعِشْرِينَ ضِعْفًا، وذلكَ أنَّهُ: إذا تَوَضَّأَ، فأحْسَنَ الوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ إلى المَسْجِدِ، لا يخْرجُهُ إلّا الصَّلاةُ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً، إلّا رُفِعَتْ له بها دَرَجَةٌ، وحُطَّ عنْه بها خَطِيئَةٌ، فَإِذا صَلّى، لَمْ تَزَلِ المَلائِكَةُ تُصَلِّي عليه، ما دامَ في مُصَلّاه: اللَّهُمَّ صَلِّ عليه، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، ولا يَزالُ أحَدُكُمْ في صَلاةٍ ما انْتَظَرَ الصَّلاةَ. (صحيح بخارى، حدیث: ٦٤٧)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: آدمی کی نمازِ باجماعت، اس کی گھر اور بازار کی نماز پر پچیس درجے فضیلت رکھتی ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کے لیے نکلتا ہے اور اس کا نکلنا صرف نماز کے لیے ہوتا ہے، تو جب وہ ایک قدم چلتا ہے، اس کے بدلے ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ جب وہ نماز پڑھ لیتا ہے، تو جب تک وہ اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے، فرشتے اس پر رحمت بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں: "اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کو بخش دے۔" اور تم میں سے ہر ایک نماز ہی میں شمار ہوتا ہے جب تک وہ نماز کا انتظار کرتا ہے۔"
مسجد دین کا مرکز ہے
مسجد محض نماز کی جگہ نہیں، بلکہ دین کا ایک ایسا مرکز ہے، جہاں دعوت و تبلیغ، تعلیم اور عدل و انصاف کا درس دیا جاتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مسجد نبوی میں لوگوں کے درمیان باہمی فیصلے فرماتے، یہیں سے دعوت و تبلیغ کے لیے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے وفد روانہ ہوا کرتے اور یہیں جنگی معاملات کی تدبیر فرمائی جاتی۔
فروغِ محبت کا ایک سبب
نمازِ پنج وقتہ مسجد میں ادا کرنا باہمی محبت کے فروغ کا عظیم ذریعہ ہے؛ کیوں کہ مسجد میں رنگ و نسل، ذات پات اور امیری و غریبی کا اعتبار نہیں کیا جاتا، بلکہ تمام مسلمان ایک ساتھ اکٹھا ہو کر نماز ادا کرتے ہیں، جس سے ان کے مابین محبت فروغ پاتی ہے۔
شاعر کہتا ہے:
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
مسجد سے قربت کے فوائد اور دوری کے نقصانات
مسجد سے قربت کے باعث درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں:۔
(۱) مسجد سے قربت کے باعث دل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یاد میں مگن رہتا ہے۔
(۲) مسجد سے قربت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حصول کا عظیم ذریعہ ہے۔
جب کہ مسجد سے دوری کے باعث دل رفتہ رفتہ یادِ الہی سے محروم ہو جاتا ہے۔
لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا زیادہ سے زیادہ وقت مسجدوں میں گزاریں اور فیوض و برکات سے مالا مال ہوں۔
============°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°============°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°=================°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

.png)