بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوش آمدید

Sada e Qalb
The voice of our heart
آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے
Sada e Qalb
The Voice of our heart

Sada E Qalb

صداۓ قلب
مؤسس: محمد کونین الصدیقی المصباحی
کسی اچھی اور معیاری تحریر کا مطالعہ انسان سے انسانیت تک کا ایک مکمل سفر ہے، ذوقِ مطالعہ اور شوقِ تحریر انسانی فکرونظرکو معراج کی آخری سرحد تک پہنچانے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے،آئیں مطالعے کے اس سفر میں قدم قدم ساتھ چلتے ہیں۔

عورت کا مرد سے تعلیم حاصل کرنا




کیا کوئی عالم دین کسی غیر محرم کو پڑھا سکتا ہے ؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

جی نہیں! عالمِ دین کا غیر محرم بالغہ کو پڑھانا شرعاً جائز نہیں کہ غیر محرم سے پردہ ضروری ہے اور پردہ میں استاذ و غیرِ استاذ، عالم و غیرِ عالم پیر سب برابر ہیں۔ ہاں پڑھنے والی محرم ہے یا نابالغہ ہے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن علمِ دین حاصل کرنے کے لیے اگر کوئی معلمہ نہ ملے تو بأمرِ مجبوری چند شرائط کے ساتھ جائز ہے مثلاً اگر بدن موٹے اور ڈھیلے کپڑوں سے ڈھکا ہو، نہ ایسے باریک کپڑے کہ بدن یا بالوں کی رنگت چمکے نہ ایسے تنگ کپڑے کہ بدن کی حالت دکھائیں اور جانا تنہائی میں نہ ہو اور اُستاذ جوان نہ ہو غَرَض کوئی فتنہ نہ فی الحال ہو نہ اس کا اندیشہ ہو۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:” لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰) وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-“
 ترجمہ: مسلمان مَردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے۔ بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔ اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں۔ (1)
حدیث شریف میں ہے:لعن الله الناظر والمنظور اليه“ یعنی بدنگاہی کرنے والے اور کروانے والے پراللہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت ہے۔ (2)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:  بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے ان میں سے کچھ کھلا ہو جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز تو اس طور پر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقاً حرام ہے خواہ وہ پیر ہو یا عالم۔ یا عامی جوان ہو ، یا بوڑھا۔“ (3)
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

(1) `القرآن الکریم`، سورہ: النور، آیت:30-31.
(2) `شعب الايمان`، جلد:6، صفحہ:162، حدیث: 7788، دار الکت العلمیہ، بیروت.
(3) `فتاویٰ رضویہ`، جلد:22، صفحہ:240.

والله تعالیٰ اعلم بالصواب


از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی

==============================================================================

عالم کو برا کہنے والے حکم شرع کیا ہے پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 



0 Response to "عورت کا مرد سے تعلیم حاصل کرنا"

Post a Comment

Article Top Ads

Central Ads Article 1

Middle Ads Article 2

Article Bottom Ads

-->