لڑکی والے لڑکے میں گھر، روزگار، اسمارٹ سب کچھ دیکھتے ہیں تو کیا لڑکے والوں کو جہیز مانگنا ناجائز ہے دلائل وشواہد کی روشنی میں بتائیں...؟




لڑکی والے لڑکے میں گھر، روزگار، اسمارٹ سب کچھ دیکھتے ہیں تو کیا لڑکے والوں کو جہیز مانگنا ناجائز ہے دلائل وشواہد کی روشنی میں بتائیں...؟




بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

جی ہاں! لڑکے والوں کا لڑکی والوں سے جہیز کا مُطالبہ کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے کہ وہ رِشوت ہے اور رِشوت حرام ہے۔ عام طور پر لڑکی والے اپنی بیٹی کی خیر وعافیت کے لیے لڑکے کا کھر، بزنیس اور بیک گراؤنڈ دیکھتے ہیں تاکہ ان کی بیٹی پُرسکون وخوش رہے۔ لیکن بنیادی طور پر لڑکی والے کو چاہیے کہ وہ لڑکے اور اس کے گھر والوں کے عقائد ونظریات دیکھے کہ کہیں لڑکے والے بدمذہب تو نہیں ہیں، اگر معلومات ہو جائے کہ لڑکے والے سُنّی صحیح العقیدہ ہیں تو دیگر باتوں کو دیکھ کر شادی کر دیں۔ اور اگر یہ معلوم ہو کہ گھر والے بد مذہب ہوں تو ہر گز ہر گز ان کے نکاح میں نہ دیں، ایسے ہی لڑکے والے کو لڑکی کے اندر دیکھنا چاہئے۔ لیکن کچھ لوگ یہ سوچ کر لڑکی کو اپنے گھر میں شادی کرکے لے آتے ہیں کہ ہم اسے سنی بنا لیں گے، لیكن بجائے لڑکی سُنّی بننے کے سب گھر والوں کو بدمذہب بنا دیتی ہے ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، جس سے ہر ذی عقل باخبر ہے۔

رخصتی کے وقت کچھ لینا رِشوت ہے،چنانچہ ”فتاویٰ عالمگیری“ میں ہے:”لو أخذ أهل المرأة شيءً عند التسليم فللزوج أن يسترده لأنه رشوة كذا فى البحر الرائق“ یعنی عورت کے گھر والوں نے رخصتی کے وقت کچھ لیا تھا تو شوہر کو اس کے واپس لینے کا شرعاً حق ہے اس لیے کہ وہ رشوت ہے ایسا ہی بحر رائق میں ہے۔ (الفتاوی الھندیہ، کتاب النکاح، باب المھر، الفصل السادس عشر فی جھاز البنت، جلد:1، صفحہ:359، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت.)

جب لڑکے سے لینا رشوت ہے تو لڑکی سے لینا بدرجہ اولی رشوت ہے۔

رِشوت دینے اور لینے کے متعلق حدیثِ پاک میں لعنت آئی ہے، چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ“ یعنی حضرت سیّدُنا عبدُاللہ بن عَمْرو رضی اللہ عنہماسےروایت ہےکہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رشوت دینے والے اور لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔(ترمذی،جلد 3، صفحة:66، حدیث:1342)

حدیث پاک میں عورت کی دینداری دیکھنے کی ترغیب آئی ہے کیونکہ مال و جمال فانی چیزیں ہیں دین لازوال دولت،نیز دیندار ماں دیندار بچے جنتی ہیں۔ چنانچہ بخاری ومسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے:”عن ابي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:تنكح المراة لاربع: لمالها ولحسبها ولجمالها ولدينها، فاظفر بذات الدين“ یعنی روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عورت سے چار وجہوں سے نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال پر خاندان پر حسن پر اور دین پر تم دِین والی کو اختیار کرو۔ (صحیح البخاری، کتاب النكاح، باب الأكفاء في الدين، الحديث:5090)

ملا علی بن سلطان محمد قاری حَنَفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ(المتوفی:1014ھ) مذکورہ بالا حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں:”قال ابن الهمام:«إذا لم يتزوج المرأة إلا لعزها أو مالها أو حسبها، فهو ممنوع شرعاً، قال ﷺ:من تزوج إمرأة لعزها لم لم يزده الله إلا ذلاً، ومن تزوجها لمالها لم يزده إلا فقراً، ومن تزوجها لحسبها لم يزده إلا دناءة، ومن تزوج إمرأة لم يرد بها إلا أن يغض بصره ويحصن فرجه أو يصل رحمه بارك الله له فيها وبارك لها فيه»“ یعنی امام ابنِ ہُمام رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا:جو عورت سے صرف اس کی عزت یا اس کے مال یا اس کے خاندان کی وجہ سے نکاح کرے یہ شرعاً ممنوع ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:جو جو عورت کی صرف عزت دیکھ کر نکاح کرے گا وہ ذلیل ہوگا، جو صرف مال دیکھ کر نکاح کرے گا وہ فقیر رہے گا اور جو صرف خاندان دیکھ کر نکاح کرے گا وہ حقیر ہوگا اور جو صرف اپنی نظر اجنبی عورت کی طرف نہ کرنے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے یا اس کے دین دیکھ کر نکاح کرے گا تو اللہ تعالیٰ مرد کو بیوی میں اور عورت کو مرد میں برکت عطا فرمائے گا۔ (مرقاۃ المفاتيح شرح مشكوة المصابيح، كتاب النكاح، الجزء السادس، صفحة:240، تحت الحديث:3082، دار الكتب العلمية، بيروت)

”عمران بن حطان رقاشی“ جو اکابرِ علمائے مُحدِّثین سے تھا، اس کی ایک چچا زاد بہن خارجیہ تھی اس نے اس سے یہ سوچ کر نکاح کر لیا کہ اسے اپنے مذہب پر لے آؤں گا۔ ایک سال گزرا نہ تھا کہ خود خارجی ہو گیا، چنانچہ امام حافظ الحدیث احمد بن علی ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:852ھ) "الإصابة في تمييز الصحابة" میں اس کے خارجی ہونے کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”وکان سبب ذلك أنه تزوج إبنة عم له ، فبلغه أنها دخلت في رأي الخوارج، فأراد أن يردها عن ذلك فصرفته إلى مذهبها“ یعنی اس کے خارجی ہونے کا سبب یہ تھا کہ اس نے اپنی چچا زاد بہن سے نکاح کیا، تو اسے معلوم ہوا کہ وہ اہلِ خوارج سے ہو گئی تو اس نے اپنے مذہب پر لانے کی کوشش کی مگر خود خارجی ہو گیا۔ (الإصابة في تمييز الصحابة، حرف العين، الجزء الخامس، صفحة:232)

اور آج عوام جو عقائد ومسائل سے ناآشنا ہوتے ہیں! الامان والحفیظ۔

بدمذہبوں سے دور رہنے کا حکم قرآن وحدیث سے ثابت ہے:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ“ ترجمۂ کنز الایمان: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ (القرآن الكريم، سورة الأنعام، الآية:68)

مذکورہ بالا آیت کے تحت علامہ ملّا احمد جیون رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (المتوفی:1130ھ)لکھتے ہیں:”وان القوم الظالمین یعم المبتدع والفاسق والکافر ، والقعود مع کلھم ممتنع‘‘ یعنی آیت میں موجودلفظ(الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ) بدعتی ،فاسق اور کافر سب کو شامل ہے اور ان تمام کے ساتھ بیٹھنا منع ہے۔ (تفسیراتِ احمدیہ ، سورہ انعام ، تحت الایۃ68، صفحہ 388)

تفسیر صراط الجنان میں ہے:” اِس آیتِ مبارکہ میں کافروں ، بے دینوں کی صحبت میں بیٹھنے سے منع کیا گیا اور فرمایا کہ ان کے پاس نہ بیٹھو اور اگر بھول کر بیٹھ جاؤ تو یاد آنے پر اٹھ جاؤ۔“ (تفسیر صراط الجنان، سورۃ الأنعام، تحت الآية:

حدیث پاک میں ہے، حضور ﷺ نے فرمایا:’’اِیَّاکُمْ وَ اِیَّا ھُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ‘‘ یعنی ان (بدمذہبوں ) سے دور رہو اور انھیں اپنے سے دور کرو، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں ، کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ (صحیح المسلم، باب النھی عن الروایۃ عن الضعفاء ،جلد1 ،صفحه 33)

ان سے شادی کرنے کی ممانعت کے متعلق حدیث پاک میں ہے:”فلا تجالسوھم ولا تشاربوھم ولا تؤاکلوھم ولاتناکحوھم“ یعنی نہ تم اُن کے پاس بیٹھو ،نہ ان کے ساتھ کھاؤ ،پیو ، نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرو۔ (کنزالعُمّال، جلد6،کتاب الفضائل ، باب ذکر الصحابۃ، صفحہ 246،مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

جہیز بالرضا اور جہیز بالجبر کا کیا حکم ہے اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 




Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.