فاتحہ دینا مندر میں پرساد چڑھانے کے مانند ہے..؟




کیا واقعی فاتحہ دینا مندر میں پرساد چڑھانے کے مانند ہے..؟ کیا فرق ہے دونوں میں دلائل و براہین سے آراستہ تحریر فرمائیں...؟

نیز پرساد کھانا کیسا ہے؟



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

فاتحہ دلانا شرعاً جائز ومُستحسن ہے۔ یعنی قرآن مجید یا درود شریف یا کلمۂ طیبہ یا کسی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچانا جائز ہے۔ عبادتِ مالیہ یا بدنیہ فرض و نفل سب کا ثواب دوسروں کو پہنچایا جاسکتا ہے، زندوں کے ایصال ثواب سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اور فاتحہ کو پرساد سے تشبیہ دینے والا جاہل نہیں تو گُمراہ ہے، گمراہ نہیں تو جاہل ہے۔ اور پرساد کھانے سے مسلمانوں کو اجتناب کرنا چاہئے

درمختار میں ہے:الاصل ان کل من أتى بعبادۃ مالہ جعل ثوابہا لغیرہ وان نواھا عند الفعل لنفسہ لظاھر الأدلة“ یعنی اصل یہ ہے کہ جو کوئی عبادت کرے اسے اختیار ہے کہ اس کا ثواب دوسرے کے لیے کردے اگر چہ اداے عبادت کے وقت خود اپنے لیے کرنے کی نیت رہی ہو ، ظاہر دلائل سے یہی ثابت ہے۔ (الدر المختار، باب الحج عن الغیر، جلد:4،صفحہ:10،دار الكتب العلمية، بيروت)

ردالمحتار میں ہے:سواء کانت صلٰوۃ اوصوما اوصدقۃ اوقراءۃ“ یعنی خواہ نماز ہو یا روزہ یا صدقہ یا قراءت۔ (رد المحتار، باب الحج عن الغیر، مطلب:فی اھداء ثواب الأعمال للغیر، جلد:4،صفحہ:10، دار الکتب العلمية،بيروت)


اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:”فاتحہ بیشك جائز ہے۔ وہ مسلمان میّت کو نفع پہنچنا ہے، اور فرض کے بعد کوئی چیز مولٰی تعالٰی کو اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں کہ مسلمان کو نفع پہنچایا جائے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد:9، صفحہ:595، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)


اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا کہ ہنود جو اپنے معبودانِ باطل کو ذبیحہ کے سوا اور قسم طَعام وشیرینی وغیرہ چڑھاتے اور اُسے بھوگ یا پرشاد نام رکھتے ہیں اس کا کھانا شرعاً حلال ہے یا نہیں؟ تو آپ رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواباً ارشاد فرمایا:”حلال ہے لِعَدَمِ المحرم مگر مسلمان کو احتراز چاہئے لخبث النسبة۔ خصوصاً اگر کُفار اس پرشاد کو بَطورِ تَصدُّق بانٹ رہے ہوں جب تو ہرگز پاس نہ جائے مگر بضرورتِ شدیدہ۔ کہ صدقہ کے طور پر لینے میں مَعَاذ اللہ مسلمان کی ذلت اور گویا کافر کے ہاتھ کا اس کے ہاتھ پر بالا(اوپر) کرنا ہے حضور سیّد عالمﷺ فرماتے ہیں:اليدُ العليا خيرٌ مِن اليدِ السُّفلى واليدُ العليا هي المُنفِقةُ واليدُ السُّفلى هي السّائلةُ یعنی اونچا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہے اور دینے والا ہاتھ اونچا ہے اور مانگنے والا نیچا۔ أخرجه الشيخان وغيرهما عن ابن عمر رضي الله تعالٰی عنهما۔“ (فتاویٰ رضویہ، کتاب الحظر والإباحة، جلد:نہم، صفحہ:6، رضا اکیڈمی بمبئی ملتقطاً)



والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------


 قبر پر جانا کیسا ہے اور قبر کو پکا کرنا کیسا ہے...؟ یہ بہت ضروری ہے ایک بار ضرور پڑھیں  پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.