اگر بورنگ اور بارش سے کھیت کی سینچائی ہو تو عشر کتنا واجب ہوگا.؟
السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ برکاتہ
عرض یہ ہے کہ جیسا کہ آسمانی پانیوں سے سیراب ہونے والے زمینوں میں عشر واجب ہے اور بورنگ مشین سے سیراب ہونے والے زمینوں میں نصف عشر ہےلیکن اگر کسی زمین اولا بورنگ کے ذریعے سینچائ ہو اور بعد میں آسمانی پانی سے سیراب ہو ، تو ایسی صورت میں عشر یا نصف عذر واجب ہوگی ؟کتاب و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔۔۔فقط والسلام ۔۔۔
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
وہ زمین جسے بارش یا نہری پانی سے سیراب کیا گیا ہو اور اس زمین سے ایسی چیز پیدا ہو جس کی زراعت سے مقصود زمین سے منافع حاصل کرنا ہے تو اس کی کل پیداوار کا دسواں حصہ بطورعشر ادا کرنا فرض ہے۔ اور جو زمین ڈول یا اپنے ٹیوب ویل سے سیراب کی گئی تو شرائط پائے جانے کی صورت میں اس کی پیداوار پر نصف عشر یعنی کل پیداوار کا بیسواں حصہ دینا فرض ہے یونہی جس زمین کو پانی خرید کر سیراب کیا گیا تو اس کی کل پیداوار پر بھی نصف عشر یعنی بیسواں حصہ دینا فرض ہے۔ نیز اگر کچھ دن بارش کے پانی سے اور کچھ دن ٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب کی گئی تو اگر اکثر دن بارش کے پانی سے سیراب کی تو عشر لازم ہوگا ورنہ نصف عشر۔ لہذا صورتِ مسؤولہ میں اگر زمین اکثر بورنگ کے ذریعے سینچائی ہو تو نِصف عُشر واجب ہوگا اور اگر اکثر بارش کے پانی سے سینچائی ہو تو عُشر واجب ہوگا۔
قرآن پاک اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:”وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ“ ترجمۂ کنز الایمان:اور اس کا حق دو جس دن کٹے۔ (القرآن الکریم، سورة الأنعام، آية:141)
تفسیر خزائن العرفان میں ہے:”اگر یہ پیداوار بارش سے ہو تو اس میں عُشر واجب ہوتا ہے اور اگر رہٹ(چرخے) وغیرہ سے ہو تو نصف عُشر۔“ (تفسیر خزائن العرفان، پارہ:8، سورۃ الأنعام، تحت الآية:141)
ابنِ ماجہ کی حدیث پاک میں ہے:”عن سالم، عن أبيه؛ قال:سمعت رسول الله ﷺ يقول «فيما سقت السماء والأنهار والعيون، أو كان بعلاً، العُشر. وفيما سقي بالسوانى، نصف العُشر». یعنی حضرت سالم حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کرتے ہیں میں نے حضور ﷺ کو فرماتے سنا: جو زمین بارش، نہر اور چشموں سے سیراب ہو اس میں عشر ہے اور جو پانی کھینچ کر سیراب کی جائے اس میں نصف عشر ہے۔ (ابن ماجہ، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الزروع والثمار، الحدیث:1817)
متن کنز الدقائق میں ہے:” و(یجب )نصفہ فی مسقی غرب و دالیۃ“ اور جس زمین کی آبپاشی، چر سےاور ڈول سے کی گئی ،اس میں نصف عشر واجب ہے۔ (کنز الدقائق، صفحہ:67 )
متن کی مذکورہ عبارت کے تحت بحر الرائق میں ہے:”ای ویجب نصف العشر فیما سقی بآلۃ للحدیث“ یعنی جس زمین کی آبپاشی کسی آلہ سے کی گئی ،اس میں بحکم حدیث نصف عشر واجب ہے۔ (بحر الرائق، جلد: 2،صفحہ:416)
بہارِ شریعت میں "دُرِّ مُجتار" کے حوالے سے ہے:”جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے، اس میں عُشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے اور جس کی آبپاشی چرسے (یعنی چمڑے کا بڑا ڈول) یا ڈول سے ہو، اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب اور پانی خرید کر آبپاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی مِلک ہے، اُس سے خرید کر آبپاشی کی جب بھی نصف عشر واجب ہے اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں مینھ کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور کچھ دنوں ڈول چر سے سے تو اگر اکثر مینھ کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول چرسے سے تو عشر واجب ہے، ورنہ نصف عشر۔ (بہارِ شریعت، جلد:1، حصہ:5، صفحہ:917، مجلس المدينة العملية،دعوت اسلامی)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

