خاموش لب، چیختا دل




خاموش لب، چیختا دل

 از : محمد اسلم ساقی مصباحی 

   کٹیہار بہار۔              

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------


ایک خاموش سمندر جو اپنی نازک اور چھوٹی چھوٹی لہروں کی تابشوں سے کائنات کی چشمِ ناز کو فریفتہ و دلدادہ کر رہا ہوتا ہے۔ ساحل پر موجود اپنے عشاق اور قدردانوں کے قدموں کو نہایت محبتانہ ناز و ادا سے بوسہ دے رہا ہوتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر اپنے دلیر اور بلند ہمت شیداؤں کو اپنے سینے پر بیٹھا کر لذّتِ عشق کی دنیا کا سیر کرا رہا ہوتا ہے۔ اُدھر چشمِ فلک فرشِ زمیں پر محبوب و محب کی والہانہ دلربائی کا یہ سرور انگیز عالم دیکھ کر دل ہی دل میں خوشی سے مچل رہا ہوتا ہے۔ عِشق و مستی کا یہ دلفریب کھیل ابھی اپنے نوشبابی کی انگڑائیاں لے ہی رہا ہوتا ہے کہ ناگہاں سمندر کی تابناک لہریں اپنا حسن و جمال کھو کر خوفناک صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ تلاطمِ امواج آفاتِ قیامت کا ایسا مہیب منظر پیش کرتے ہیں جسے دیکھ کر نگاہیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ لہریں آپس میں ٹکرا کر یوں اُلجھ جاتی ہیں، جیسے سمندر کے کشادہ سینے میں آتشِ جدال بھڑک اٹھی ہو۔ مانو جیسے سمندر سراسیمگی کا شکار ہو کر برسوں کا بھڑاس نکالنا چاہتا ہو۔ یا پھر یہ کہ وہ جینے کی چاہت چھوڑ کر آمادۂ خودکشی ہو۔ ایسے عالم میں وہ لوگ جو اب تک سمندر کے تجمل و تابانی سے مرعوب ہوکر اپنی طبیعتوں کو شادکام کر رہے تھے اب وہ آتش بجاں ہوکر کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔

یقیناً ہم انسانوں کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ ایک شخص کہ ایک وقت میں جس کے رخسار پر فرحت و بشاشت کی لہریں اپنے پروں کو پھیلاتی ہیں۔ لبوں کا تبسّم اپنی رعنائیاں بکھیرتا ہوا نظر آتا ہے۔ پیشانی کے سلوٹوں کی چمک آفتاب کی کرنوں کو للچاتی اور مقہور کرتی دکھائی دیتی ہے۔ سرمگیں آنکھیں شراب ناب میں ڈوبی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ گہربار تکلم مخاطب کے اشتیاق و آمادگی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ غرض کہ سارا وجود عشق و سرمستی میں محو رقص رہتا ہے۔ ایسی شوکتوں کا حامل شخص عین دوسرے لمحے میں اپنا جہانِ جمال اور کمالِ بانکپن کھو بیٹھتا ہے۔ چہرے کا تجمل تیرگیِ شب میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہونٹوں کا تبسّم مایوسی کی زد میں آ جاتا ہے۔ پیشانی کی رونقیں آفتوں کے نذر ہوکر مدھم پڑ جاتی ہیں۔ خمار آلود آنکھوں کا دامن آبِ قنوطیت سے بھیگ جاتا ہے۔ قرارِ جاں اور وقارِ ہستی اپنا دم توڑ کر کوزے میں سمٹ جاتے ہیں۔ غرض کہ وجود کے داخل و باطن لرزتے ہوئے منہ کے بل گر پڑتے ہیں۔

یہ حقیقت ہر کس و ناکس پر خوب ہویدا ہے کہ طبیعتِ انسان ہمہ وقت یکساں نہیں رہتی، بلکہ مختلف احوال و کوائف کا طواف کرتی ہے۔ کبھی رنج وغم اور درد و الم سے سابقہ پڑتا ہے، تو کبھی فرحت و انبساط اور محبت و سرور سے ہمکنار ہونے کا موقع ملتا ہے۔ جہاں بشاشت و شادمانی انسان کے قدموں کو زمین پر ٹکنے نہیں دیتی ہے وہیں تشتّت و بے قراری اپنا ایسا مہلک اثر دکھاتی ہے کہ جسم کا ایک ایک انگ شَل اور بے حس و حرکت ہوکر رہ جاتا ہے۔ نہ اٹھنے کی سکت باقی رہتی ہے، نہ چلنے کی تاب۔ نہ چہرے کی تابانی رہتی ہے، نہ نگاہوں کا بانکپن۔

انسانی زندگی عموماً مصائب و آلام سے دست و گریباں رہتی ہے۔ طمانیت کی آغوش میں راحتوں کی نیند بہت کم نصیب ہوتی ہے۔ ایک ہنستا اور نور کی موجوں میں نکھرتا ہوا چہرہ چشم زدن میں ایسے سیاہ پڑ جاتا ہے، جیسے بادِ خزاں نے یک لخت صحنِ چمن پر یلغار کر دیا ہو۔ ایسے عالم میں زبان کی بولی یوں ہرا جاتی ہے، جیسے کسی نا قابلِ تسخیر طاقت نے لبوں کو سِل کر قوتِ گویائی سلب کر لی ہو۔ شکست خوردہ آنکھوں کی پرواز کا سلسلہ، بلندئ آسمان کی طرف ایسے بڑھتا چلا جاتا ہے، جیسے روح، جسمِ خاکی کی زندانِ فراموشاں سے رہائی پارکر آسمان کی جانب بعجلت تمام رواں دواں ہو۔

جسمانی، نفسیاتی اور روحانی سراسیمگی کا سبب ہمہ وقت ایک نہیں ہوتا، بلکہ اس کے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں۔ کبھی طبیعت اس لیے بے تاب و بے قرار ہوتی ہے کہ انسان اپنے مطلوبہ شئ کے حصول میں ناکام ہو جاتا ہے۔ کبھی تو اس لیے کہ وہ دنیا کی سب سے اہم اور محبوب ترین شئ کھو دیتا ہے۔ اور کبھی اس لیے کہ وہ زندگی کے مد و جزر میں ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ اور کبھی اس لیے بھی کہ انسان معاشقت کی حدت و تمازت لوحِ قلب پر محسوس کرتا ہے۔ وغیرہ۔

بہر کیف، جب انسان کو صدمے کی ہلاکت خیز چوٹ لگتی ہے تو بے قراری کی دہکتی ہوئی آگ میں تپتی ہوئی طبیعت دنیا کی جملہ نیرنگیاں بھول کر عزلت نشینی کا خوگر بن جاتی ہے۔ نسیمِ عیش کی موجوں سے کھلکھلاتی سرِشت‌ بیزاری کی نحوستوں کے گہن میں آ جاتی ہے۔ کیفیات کی دنیا میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ جذبات کا ساگر موجوں کے تلاطم سے زیر و زبر ہو جاتا ہے۔ دل مایوسیوں کے گرداب میں ڈوبتا جاتا ہے۔ جان تلملا اٹھتی ہے۔ دم گھٹنے لگتا ہے۔ روح لرز اٹھتی ہے۔ کلیجہ شق ہو جاتا ہے۔ پیشانی بوجھل ہو جاتی ہے۔ خونِ جگر سوکھنے لگتا ہے۔ آرزوؤں کا روشن چراغ بُجھ جاتا ہے۔ امیدوں کا آبگینہ ٹوٹ جاتا ہے۔ تمنّاؤں کے ہجوم میں تاریکی چھا جاتی ہے۔ جذبۂ جنوں خیز ماند پڑ جاتا ہے۔ مسرّت کی لہریں تھم جاتی ہیں۔ نگاہوں کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے۔ ضبط و شکیب کا پیمانہ چھلک اٹھتا ہے۔ شاداب و نکہت بار چمن تاراج ہو جاتا ہے۔ شدّت کرب سے سارا جسم چور چور ہو جاتا ہے۔ ایسے میں "لب خاموش اور دل چیختا ہے" یعنی انسان اپنے وجود کو ایسی خاموش دنیا میں پاتا ہے جہاں بظاہر لبوں کو تو جنبش نہیں ہوتی، لیکن دل ایسے چیختا ہے جیسے قیامِ محشر کے لیے صور پھونکا جا رہا ہو۔ دل کی فلک شگاف چیخوں سے خاموش دنیا میں ایک ہنگامہ سا مچ جاتا ہے۔

بلآخر ہم اتنا کہیں گے کہ!
درد دل میں مگر لب پہ مسکان ہے
حوصلوں کی ہمارے یہ پہچان ہے

=====================================================================================

غم زدہ دل کو پر سکون کیسے بنایا جائے اس موضوع کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈  


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.