کیا چاند و سورج نکلنے سے پہلے حضور غوث اعظم سے اجازت طلب کرتے ہیں




کیا چاند وسورج نکلنے سے پہلے حضرت غوث اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اجازت طلب کرتے تھے؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
---------------++++-----------------------------------------------------------------------------------------------

صورت مسؤولہ میں مذکورہ روایت نہ ہی تو کسی معتبر کتب میں پڑھی اور نہ کسی مستند عالم دین سے سنی۔ لہذا جب تک کسی بات کی تحقیق وتصدیق نہ ہو اس کو بیان نہ کیا جائے کہ حدیث پاک ایسے شخص کو جھوٹا فرمایا گیا ہے۔کہ عموماً سُنی سنائی باتوں میں کچھ نہ کچھ جھوٹ کی آمیزش ہوتی ہی ہے تو یوں یہ جھوٹ بولنے والا بنے گا، یا جب ہر سنی سنائی بات آگے کر دینے کی اس کی عادت ہوگی تو بسا اوقات وہ بات جھوٹ پر بھی مشتمل ہوگی تو یوں یہ شخص جھوٹ بولنے والا بن جائے گا۔ لہذا جس نے یہ روایت بیان کی ہے اسے چاہیے کہ کسی معتمد کتاب سے اس روایت کو ثابت کرے لأن من ادعى فعليه البيان (کیونکہ جو دعویٰ کرتا ہے وہ دلیل لائے)۔

بغیر تحقیق و تصدیق ہر سنی سنائی بات کو آگے پھیلانا بھی نہیں چاہئے، کیونکہ حدیثِ پاک میں ایسے شخص کو جھوٹا فرمایا گیا ہے چنانچہ، صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:”کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع“ یعنی کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کر دے۔(صحیح مسلم، جلد:1، صفحہ:10، حدیث:5 ، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

اس حدیث پاک کے تحت خاتم المحققین شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ”لمعات التنقیح“ میں فرماتے ہیں:يعني لو لم يكذب أحدا ولكنه يحدث ما سمع من غير بحث وتفتيش أنه صدق أو كذب وتبين، حسبه هذا التحديث كذبا؛ لأنه يقع في الكذب من حاله هذا، والغالب أن يكون بعضه كذبا البتة، والمقصود المنع عن التحديث بشيء لم يعلم صدقه“ 
 ترجمہ: یعنی اگروہ کسی سے جھوٹ نہیں بولتا لیکن وہ ہر سنی سنائی بات کو اس بات کی تحقیق کیے بغیر کہ آیا وہ سچ ہے یا جھوٹ، آگے بیان کر دیتاہے ، تو یہ بات کرنا اس کے جھوٹے ہونے کے لئے کافی ہے کیونکہ اپنی اس حالت وعادت کی وجہ سے وہ جھوٹ میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ غالب صورتحال یہ ہوتی ہے کہ اس میں کچھ یقینی جھوٹ شامل ہوتا ہے اوراس حدیث پاک کا مقصود اس بات کوبیان کرنے سے ممانعت کرناہے ، جس کی سچائی کااس کوعلم نہ ہو۔ (لمعات التنقیح فی شرح مشکوۃ المصابیح، جلد:1، صفحہ:472)

البتہ سورج کا طلوع ہو کر آپ کو سلام کرنا اسی طرح دن اور سال کا آپ کو سلام کرنا اور آپ کو ان میں واقع ہونے والے معاملات کی خبر دینا ثابت ہے، چنانچہ حضرت سیدنا امام ابو الحسن علی بن یوسف شطفونی شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:713ھ) اپنی کتاب مستطاب ”بہجة الأسرار“ میں لکھتے ہیں:”(غوث اعظم فرماتے ہیں) آفتاب طلوع کرتا ہے تو مجھے سلام کہتا ہے، سال میرے پاس آتا ہے اور مجھ کو سلام کہتا ہے اور مجھے ان باتوں کی خبر دیتا ہے جو اس میں واقع ہونگی، ہر دن مجھ کو سلام کہتا ہے اور جو اس دن میں واقع ہوگا اس کی خبر دیتا ہے۔“ (بہجة الأبرار ومعدن الأنوار مُترجَم، صفحہ:52، مکتبہ جام نور، مٹیا محل جامع مسجد دہلی)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

=====================================================================================

مذکورہ بالا مسئلہ اہمیت کا حامل ضرور ہے مگر اس سے کئی گنا زیادہ " غوث اعظم کا خشیت الٰہی میں کیسا کردار تھا"  اس موضوع کا پڑھنا ضروری ہے اس کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.