کھڑے ہوکر کھانا پینا کیسا ہے | محمد اویس العطاری المصباحی

 


کھڑے ہوکر کھانا پینا کیسا ہے..؟


بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`


    بِلا عُذر کھڑے ہو کر کھانا پینا مکروہِ تنزیہی و خلافِ سنت ہے کہ حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر کھانے پینے سے منع فرمایا ہے محدثین نے اس نہی کو کراہتِ تنزیہی پر محمول کیا ہے اگرچہ  بعض احادیثِ مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ  وسلم کے کھڑے ہوکر پانی نوش فرمانے کا ذکر بھی موجود ہے، لیکن شارحین حدیث نےاس کے تحت فرمایا کہ آپ کا کھڑے ہوکر پانی نوش فرمانا یا تو بیانِ جواز(یعنی کھڑے ہوکر پانی پینا جائز ہے، اس بات کو بیان کرنے) کے لئے تھا یا کسی عذر کی وجہ سے تھا۔ اور جو حدیث پاک میں آیا ہے کہ تم میں سے کوئی کھڑے ہوکر ہرگز نہ پئے تو جو بھول جائے وہ قے کردے تویہ حکم استحبابی ہے جو کھڑے ہوکر پانی یا کوئی چیز پی لے تو یہ بہتر ہے کہ قے کردے۔ یہ حکم اس لیے ہے کہ لوگ اس سے بچیں۔ کھڑے ہو کر کھانے سے تلی اور دل کی بیماریاں نیز نفسیاتی اَمراض پیدا ہوتے ہیں۔  لیکن افسوس! آج مسلمانوں نے سنت کو چھوڑ کر ٹیبل پر کھانے کا طریقہ اختیار کر لیا بلکہ اب تو اسٹینڈر کھانے کا ماحول ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ 


حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر کھانے پینے سے منع فرمایا، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:”عن أنس بن مالك قال:نهى رسولُ الله ﷺ عن الشربِ قائمًا وعن الأكلِ قائمًا“  یعنی حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے اور کھڑے ہو کر کھانے سے منع فرمایا ہے۔ (مجمع الزوائد، كتاب الأطعمة، جلد:5، صفحة:23، حدیث:7921، دار الفكر)


دوسری حدیث پاک میں ہے:”عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ نَهٰى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا“ یعنی روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے اس سے منع کیا کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پیئے۔ (صحیح المسلم، کتاب الأشربة،باب في الشرب قاصفحہ،  جلد:2، صفحة:173) 


اس حدیث پاک کے تحت ملا علی بن سلطان محمد قاری حَنَفی (المتوفی:1014ھ) فرماتے ہیں:”والصواب فيها أن النهي محمول على كراهة التنزيه، وأما شربه قائماً،فبيان للجواز“ یعنی درست یہ ہے کہ نہی کو کراہتِ تنزیہی پر محمول کیا جائے، بہرحال حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا کھڑے ہوکر پانی پینا، تو یہ بیان جواز کے لئے تھا۔“ (مرقاۃ المفاتيح شرح مشكوة المصابيح، كتاب الأطعمة، باب الأسربة، جلد:8، صفحة:163، دار الکتب العلمية، بيروت)


عمدۃالقاری شرح صحیح بخاری میں ہے: ’’وأما شربه قائما فلبيان الجواز‘‘ ترجمہ: بہرحال حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا کھڑے ہوکر پانی پینا، تو یہ بیان جواز کیلئے تھا۔( عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد7 ، صفحہ219 ، مطبوعہ دار الفکر، بیروت ) 


تیسری حدیث پاک میں ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:”قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَائِمًا فَمَنْ نَسِيَ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَقِئْ

   روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی کھڑے ہوکر ہرگز نہ پئے تو جو بھول جائے وہ قے کردے۔    حوالہ: (صحیح المسلم، کتاب الأشربة،باب في الشرب، جلد:2، صفحة:173)                    

              

خاتم المحققين شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:1052ھ) اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’چوں حکم نسیان ایں ست در عمد بطریق اولی خواہد بود‘‘ یعنی جب بھول کر پینے میں قے کرنے کا حکم ہے تو قصداً پینے میں بدرجۂ اولیٰ یہ حکم ہوگا۔ (أشعة اللمعات، كتاب الأطعمة، باب الأشربة، الفصل الأول، جلد:3، صفحة:557) 


مرقاۃ المفاتيح ميں اس حديث پاک كے تحت ہے:فإن الإستقاء والتقيؤ التكلف في القيء وهو أمر ندب، والظاهر أنه ليس بمراد هنا لأن فيه تنبيهاً نبيهاً على أن العامد لا يفعل مثل هذا الفعل“ (مرقاۃ المفاتيح شرح مشكوة المصابيح، كتاب الأطعمة، باب الأشربة، جلد:8، صفحة:164، دار الكتب العلمية، بيروت) 


 حكيم الامت مفتى احمد يار خان نعيمى رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث پاک کے تحت لكهتے ہیں:”یہ حکم استحبابی ہے جو کھڑے ہوکر پانی یا کوئی چیز پی لے تویہ بہتر ہے کہ قے کردے یہ حکم منسوخ نہیں۔ یہ حکم اس لیے ہے کہ لوگ اس سے بچیں۔“ (مرآة المناجيح شرح مشكوة المصابيح، پینے کی چیزوں کا بیان، جلد6 صفحہ: 67، مطبوعہ اسلامک پبلشر)


 کھڑے ہو کر کھانے کے طِبی نقصانات بیان کرتے ہوئے امیر اہل سنت مولانا الیاس عطار قادری دامت برکاتهم العالية لکھتے ہیں:”اِٹلی کے ایک ماہِرِ اَغذِیہ ڈاکٹر کا کہنا ہے،”کھڑے ہو کر کھانا کھانے سے تِلّی اور دل کی بیماریاں نیز نَفسیاتی اَمراض پیدا ہوتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات انسان ایسا پاگل ہو جاتا ہے کہ اپنوں تک پہچان نہیں پاتا۔“ (فیضانِ سنَّت، آداب طَعام، صفحة:230، مطبوعہ مكتبة المدينة، دعوت اسلامی) 


والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی 

===================================================================================


میت کے گھر کھانا کھانا کیسا ہے..؟ یہ بہت ضروری مسئلہ ہے اس کو بھی پڑھیں پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.