اگر فجر کی جماعت کھڑی ہو جائے تو اس وقت سنتیں پڑھنا کیسا ہے؟ میں نے سُنا ہے کہ جب جماعت کھڑی ہو جائے تو اس وقت فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں پڑھ سکتے اور وہ دلیل یہ ہے کہ حدیث پاک میں فرمایا گیا ”إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة“ کیا حکمِ شرع ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس سوال کے جواب کے مُتعلق پانچ اعتبار سے گفتگو کی جائے گی:
(1) مُختصر تمہید۔
(2) احدیت میں سُنَّتِ فجر کی تاکید۔
(3) صحابہ کا عَمَل۔
(4) فقہی جزئیات۔
(5) غیر مُقلدین کی پیش کردہ حدیث کا جواب۔
(1) حکمِ شَرع یہ ہے کہ اگر فجر کی جماعت قائم ہو جائے اور معلوم ہو کہ سنتیں پڑھوں گا تو جماعت ہوچکے گی، بالاتفاق جماعت میں مل جانے کا حکم ہے اگر چہ ابھی امام رکعت ثانیہ کے شروع میں ہو۔ اور اگر جانے کہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں شریك ہوجاؤں گا تو جماعت سے کچھ فاصلہ پر سنتیں پڑھ لے اگر چہ التحیات ہی ملتی سمجھے ورنہ فرضوں میں شریك ہوجائے، اور اول سنتوں کو قضا کرنا چاہے تو بعد بلند آفتاب ادا کرے فرضوں کے بعد طلوع سے پہلے جائز نہیں۔ یہی صحیح اور احدیت کریمہ سے ثابت ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا اسی پر عمل رہا، کوئی حدیث اس کے خلاف نہیں۔
(2) احادیث میں سنت فجر کی تاکید آئی ہے، چنانچہ حدیث پاک میں ہے:”عن عائشة قالت لم يكن النبى صلى الله عليه وآله وسلم على شيء من النوافل أشد تعاهد منه على ركعتي الفجر“ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہتی ہیں: ’’حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ان کی جتنی محافظت فرماتے کسی اور نفل نماز کی نہیں کرتے۔ (صحیح البخاری، کتاب التهجد، باب تعاهد ركعتي الفجر،...إلخ، جلد:1،صفحة:156)
دوسری حدیث پاک میں ہے:”عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها“ یعنی ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، فرماتے ہیں صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ’’فجر کی دو رکعتیں دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں ۔ (صحیح المسلم،كتاب صلاة المسافرين، باب استجاب ركعتي سنة الفجر...إلخ، المجلد الأول،صفحة:251)
تیسری حدیث شریف میں ہے:”عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تدعوهما، وإن طردتكم الخيل“ یعنی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، کہ فرماتے ہیں صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ’’فجر کی سنتیں نہ چھوڑو، اگرچہ تم پر دشمنوں کے گھوڑے آ پڑیں ۔(سنن أبي داؤد، كتاب التطوع، باب في تخفيفهما، حديث:1258جلد:2،صفحة:28)
چوتھی حدیث پاک میں ہے:”روی عن ابن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قال:قال رجل:يا رسول الله دلني على عمل ينفعني الله به؟ قال:﴿عليك بركعتي الفجر فإن فيها فضيلة﴾ رواه الطبراني في الكبير“ یعنی عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ ایک صاحب نے عرض کی، یارسول اﷲ ( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! کوئی ایسا عمل ارشاد فرمائیے کہ ﷲ تعالیٰ مجھے اُس سے نفع دے؟ فرمایا: ’’فجر کی دونوں رکعتوں کولازم کرلو، ان میں بڑی فضیلت ہے۔‘‘ (الترغيب والترھیب، الترغيب في المحافظة على ركعتين قبل الصبح، حديث:831، المجلد الأول، صفحة:207)
پانچویں حدیث شریف میں ہے:”عن ابن عمر رضی اللہ عنہما قال:قال رسول اللہ ﷺ:﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ﴾ تعدل ثلث القرآن، و﴿قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ﴾ تعدل ربع القرآن، وکان يقرؤُهما في ركعتي الفجر، و قال: هاتان الركعتان فيهما رغب الدر“ یعنی عبد الله بن عمر رضي الله عنه سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ’’ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ تہائی قرآن کی برابر ہے اور قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ چوتھائی قرآن کی برابر اور ان دونوں کو فجر کی سنتوں میں پڑھتے اور یہ فرماتے کہ ان میں زمانہ کی رغبتیں ہیں ۔(الترغيب والترهيب، الترغيب في المحافظة على ركعتين قبل الصبح، حديث:833، المجلد الأول، صفحة: 208)
(3) امام ابو جعفر احمد بن محمد طحطاوی حَنَفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:321ھ) ”شرحِ مَعانی الآثار“ میں احادیث ذکر فرمائی ہیں یہاں بطورِ نمونہ صرف پانچ احادیث پیشِ خدمت ہیں، تفصیل کے لیے اسی جگہ مطالعہ فرمائیں۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں:”حدثني عبد اللہ بن أبي موسى، عن أبيه، حين دعاهم سعيد بن العاص دعا أبا موسى وحذيفة، وعبد الله بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم، قبل أن يصل الغداة، ثم خرجوا من عنده وقد أقيمت الصلاة، فجلس عبد الله إلى أسطوانة من المسجد، فصلى ركعتين، ثم دخل في الصلاة.
فهذا عبد الله قد فعل هذا ومعه حذيفة وأبو موسى لا ينكران ذلك عليه، فدل ذلك على مرافقتهما إياه“ یعنی حضرت عبد اللہ بن ابو موسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کرتے ہیں کہ جب انہیں سعید بن عاص نے بلایا اس نے حضرت ابو موسیٰ، حضرت حُذیفہ اور عبد اللہ بن مسعود کو بُلایا نمازِ فجر سے پہلے پھر یہ حضرات سعید بن عاص کے پاس سے واپس ہوئے حالانکہ فجر کی تکبیر ہو چکی تھی تو حضرت ابن مسعود مسجد کے ایک سُتون کے پاس بیٹھ گئے پھر وہاں دو رکعتیں پڑھیں پھر نماز میں شامل ہو گئے
تو دیکھو حضرت عبد اللہ نن مسعود نے حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت حُذیفہ کی موجودگی میں جماعت فجر ہوتے ہوئے سنتِ فجر پڑھیں پھر جماعت میں شامِل ہو گئے اور اس پر کسی نے اعتراض نہ کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کا عام طریقہ یہی تھا۔
اسی میں ہے:”عن أبي مجلز، قال:دخلت المسجد في صلاة الغداة مع ابن عمر وابن عباس رضي الله عنهم، والإمام يصلي. فأما ابن عمر رضي الله عنهما فدخل في الصف، وأما ابن عباس رضي الله عنهما، فصلى ركعتين، ثم دخل مع الإمام، فلما سلم الإمام قعد ابن عمر مكانه، حتى طلعت الشمس، فقام فركع ركعتين“ یعنی ابن مجلز سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کے ساتھ مسجد میں گیا حالانکہ امام نماز پڑھا رہا تھا، حضرت ابنِ عمر تو صَف میں داخل ہو گئے لیکن حضرت ابن عباس نے اولاً دو سُنتیں پڑھیں پھر امام کے ساتھ نماز میں داخل ہوئے پھر جب امام نے سلام پھیرا تو ابنِ عمر وہاں ہی بیٹھے رہے جب سورج نکل آیا تو دو رکعت پڑھیں۔
اُسی میں ہے:”عن أبي عثمان الأنصاري، قال:جاء عبد الله بن عباس والإمام في صلاة الغداة، ولم يكن صلى الركعتين فصلى عبد الله بن عباس رضي الله عنهما الركعتين خلف الإمام، ثم دخل معهم.“ یعنی حضرتِ ابو عثمان انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس مسجد میں اس حال میں آئے امام نمازِ فجر میں تھے اور حضرت ابنِ عباس نے بھی سنت فجر نہ پڑھی تھیں تو آپ نے امام کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں پھر ان سب کے ساتھ شامل ہوئے۔
اُسی میں ہے:”عن محمد بن كعب، قال:خرج عبد الله بن عمر رضي الله عنهما من بيته، فأقيمت صلاة الصبح، فركع ركعتين قبل أن يدخل المسجد وهو في الطريق، ثم دخل المسجد فصلى الصبح مع الناس“ یعنی حضرتِ محمد بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ حضرتِ ابنِ عمر اپنے گھر سے نکلے اور ادھر نمازِ صبح کی تکبیر ہوئی، تو آپ مسجد میں آنے سے پہلے ہی دو سُنتیں پڑھیں۔ حالانکہ آپ راستے میں تھے پھر مسجد میں آئے اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔
اسی میں ہے:”عن أبي الدرداء أنه كان يدخل المسجد والناس صفوف في صلاة الفجر، فيصلي الركعتين في ناحية المسجد ثم يدخل مع القوم في الصلاة“ یعنی حضرتِ ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ آپ مسجد میں تشریف لاتے تھے حالانکہ لوگ نمازِ فجر میں صف بستہ ہوتے تھے، تو آپ مسجد کے ایک گوشہ میں دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے پھر قوم کے ساتھ نماز میں شامل ہوتے تھے۔ (شرحِ معانی الآثار، کتاب الصلاة، باب الرجل يدخل المسجد والإمام في صلاة الفجر، الجزء الأول، صفحة:485-487، دار الكتب العلمية، بيروت)
(4) علامہ بُرھان الدین ابو الحسن علی بن ابو بکر مرغینانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:593) لکھتے ہیں:”ومن انتهى إلى الإمام فى صلوة الفجر وهو لم يصل ركعتي الفجر ان خشي أن تفوته ركعة ويدرك الأخرى يصلي ركعتي الفجر عند باب المسجد ثم يدخل لأنه أمكنه الجمع بين الفضيلتين وإن خشي فوتها دخل مع الإمام لأن ثواب الجماعة اعظم“ یعنی جس شخص نے امام کو فجر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا اور اس نے فجر کی سنتیں نہیں پڑھیں ہیں تو اگر اسے یہ خوف ہو کہ ایک رکعت فوت ہو جائے گی اور دوسری امام کے ساتھ مل جائے گی تو وہ مسجد کے دروازے کے پاس سنتیں پڑھ لے پھر نماز میں داخل ہو اور اگر دونوں رکعتوں کے فوت ہونے کا خوف ہو تو سنتیں نہ پڑھے اور امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔ (الھداية، كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة، صفحة:132، مجلس البركات، الهند)
شیخ الاسلام حضرت علّامہ ابو اخلاص حسن بن عمار شَرُنْبُلالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:1069ھ) لکھتے ہیں:”ومن حضر والإمام في صلاة الفرض اقتدى به ولا يشتغل عنه بالسنة إلا في الفجر إن أمن فوته وإن لم يأمن تركها“ یعنی جو شخص آیا اور امام فرض نماز میں تھا تو وہ اس کی اقتداء کرے، سنتوں میں مشغول نہ ہو البتہ فجر کی سنتیں پڑھ لے اگر جماعت کے نکلنے سے بے خوف ہو اگر بے خوف نہ ہو چھوڑ دے۔ (نور الایضاح، كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة، صفحة:116، مجلس البركات الهند)
علامہ علاؤ الدین حصکفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:1088ھ) ”در مختار“ میں لکھتے ہیں:”اذا خاف فوت رکعتی الفجر لاشتغالہ بستنھا ترکھا لکون الجماعۃ اکمل الخ۔“ یعنی سنتوں میں مصروفیت کی بناپر فجر کے فرائض کے فوت ہونے کاخوف ہو تو انہیں چھوڑ دیا جائے کیونکہ جماعت ان سے اکمل ہے الخ (الدر المختار، باب ادراک الفريضة، 1/99)
جب فرض فجرپڑھ چکاتوسنتیں سورج بلند ہونے سے پہلے ہرگز نہ پڑھے،علامہ ابنِ عابدین شامی دِمشقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ (المتوفی:1252ھ) ”رد المحتار“ میں لکھتے ہیں:”اذا فاتت وجدھا فلاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع لکراھۃ النفل بعد الصبح ، واما بعد طلوع الشمس فکذالك عندھما وقال محمد احب الی ان یقضیھا الی الزوال کما فی الدرر“ یعنی جب اکیلی سنن رہ گئی ہوں توبالاجماع طلوع آفتاب سے پہلے انہیں قضانہ کرے کیونکہ اس وقت نفل نماز مکروہ ہے۔ رہاطلوع آفتاب کے بعدکا تو شیخین کے نزدیك یہی حکم ہے مگر امام محمد فرماتے ہیں کہ زوال سے پہلے پہلے ان کا اداکرلینا مجھے پسند ہے جیسا کہ دررمیں ہے۔ (رد المحتار، باب أداء الفريضة، 2/57)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”ومن انتهى إلى الإمام في صلاة الفجر وهو لم يصل ركعتي الفجر إن خشي أن يفوته ركعة ويدرك الأخرى يصلي ركعتي الفجر عند باب المسجد ثم يدخل وإن خشي فوتهما دخل مع الإمام كذا في الهداية، ولم يذكر في الكتاب أنه إن كان يرجو إدراك القعدة كيف يفعل فظاهر ما ذكر في الكتاب أنه إن خاف أن تفوته الركعتان يدل على أنه يدخل مع الإمام وحكي عن الفقيه أبي جعفر رحمه الله تعالى أنه قال:على قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى يصلي ركعتي الفجر لأن إدراك التشهد عندهما كإدراك الركعة كذا في الكفاية.“ یعنی جس شخص نے امام کو فجر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا اور اس نے فجر کی سنتیں نہیں پڑھیں ہیں تو اگر اسے یہ خوف ہو کہ ایک رکعت فوت ہو جائے گی اور دوسری امام کے ساتھ مل جائے گی تو وہ مسجد کے دروازے کے پاس سنتیں پڑھ لے پھر نماز میں داخل ہو اور اگر دونوں رکعتوں کے فوت ہونے کا خوف ہو تو سنتیں نہ پڑھے اور امام کے ساتھ شامل ہو جائے، ایسا ہی ہدایہ میں ہے۔ کتاب یہ مذکور نہیں کہ اگر اس کو یہ خیال ہو کہ قعدہ مل جائے گا تو کیا کرے؟ اور کتاب میں جو یہ مذکور ہے کہ اگر اس کو دونوں رکعتوں کے فوت ہونے کا خوف ہو تو ظاہر اس سے یہ ہوتا ہے کہ اس جس کو یہ خوف ہو کہ کوئی رکعت نہ ملےگی صرف قعدہ ملےگا وہ سنتیں نہ پڑھے اور امام کے ساتھ شامل ہو جائے اور فقیہ ابو جعفر سے منقول ہے کہ اگر قعدہ ملنے کی امید ہو تو امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے نزدیک سنتیں پڑھے کیونکہ ان دونوں کے نزدیک تشہد کا ملنا رکعت کے ملنے کے مثل ہے، ایسا ہی کفایہ میں لکھا ہے۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب العاشر في إدراك الفريضة، الجزء الأول، صفحة:132، دار الكتب العلمية، بيروت)
(5) رہی غیر مُقلدین کی پیش کردہ حدیث:”إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة“ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً تو یہ حدیث مرفوع صحیح نہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا اپنا فرمان ہے۔ جیسا کہ امام طحطاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بہت تحقیق کی ہے، چنانچہ آپ لکھتے ہیں:”حدثنا أبو بكرة، قال:ثنا أبو عمر الضرير، قال:أنا حماد بن سلمة، وحماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن عطاء بن يسار، عن أبي هريرة رضي الله عنه بذلك، ولم يرفعه، فصار أصل هذا الحديث، عن أبي هريرة رضي الله عنه، لا عن النبي ﷺ“ (شرحِ معاني الآثار، كتاب الصلاة، باب الرجل يدخل المسجد والإمام في صلاة الفجر... إلخ، الجزء الأول، صفحة:482، دار الكتب العلمية، بيروت)
اور اگر یہ حدیث مرفوع درست ہو، تب اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ تکبیر فجر کے وقت جماعت کی جگہ یعنی صف سے مُتصل سنت فجر نہ پڑھے بلکہ مسجد کے گوشہ میں جماعت سے علاحدہ پڑھے تاکہ مذکورہ بالا خرابیاں لازم نہ آویں، حَنَفی یہ ہی کہتے ہیں کہ جماعت سے متصل سنت فجر ہرگز نہ پڑھے۔
بیہقی شریف میں یہ حدیث اس طرح مروی ہے:”إذا أقيمت الصلوة فلا صلاة إلا المكتوبة إلا ركعتي الفجر“ یعنی جب نماز کی تکبیر کہی جائے تو سوائے فرض کوئی نماز جائز نہیں سوائے سنتِ فجر کے۔ اس صورت میں آپ کا اعتراض جڑ سے کٹ گیا بیہقی کی یہ روایت اگر ضعیف بھی ہو تو بھی عملِ صحابہ کی وجہ سے قوی ہو جاوے گی۔ (ملخصا از جاء الحق، حصہ: دوم، صفحہ:139)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

