کال گیٹ کرنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کال گیٹ کرنا بالکل جائز ومُباح ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں, البتہ مِسواک کرنی چاہیے کہ مسواک کرنا ہمارے پیارے آقا ﷺ کی پیاری سنت ہے۔ اس میں شرعی اور طبی دونوں فوائد ہیں۔ لیکن روزہ رکھنے کے بعد منجن یا برش پیسٹ کے ذریعے دانت صاف کرنے سے بچنا چاہئے، اگر ان کا ایک ذرّہ بھی حلق میں اُترتا ہوا محسوس ہوا تو روزہ ٹوٹ جائے گا، کیونکہ پیسٹ بہت تیز ہوتا ہے اور منجن بھی کافی نمکین و باریک ہوتا ہے ان کا حلق میں اُترنے کا قوی اِمکان ہے لہٰذا روزہ میں یہ نہ کئے جائیں۔
مشکوۃ شریف میں ہے:”عن عاىشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم-: "عشر من الفطرة: قص الشارب، واعفاء اللحية، والسواك“ یعنی روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دس چیزیں نبیوں کی سنت سے ہیں مونچھکٹانا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا۔ (مشکوۃ شریف، جلد:1،حدیث:379)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”مسواك کرنا سنّت ہے ، ہروقت کرسکتا ہے۔“ (فتاویٰ رضوی، جلد:10، صفحہ:518، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)
مسواک کرنے کے شرعی فوائد
:(1) مِسواک کر کے دو رَکْعتیں پڑھنا بغیرمِسواک کی 70 رَکعتوں سے اَفضل ہے۔ (اَلتَّرغِيب وَالتَّرہِیب، 1/102،حدیث:18)
(2) مِسواک کے ساتھ نَماز پڑھنا بغیرمِسواک کے نَمازپڑھنے سے70گُنا افضل ہے۔ (شُعب الایمان، 2/26، حدیث:2774)
(3) مسواک کا اِستعمال اپنے لئے لازِم کر لو کیونکہ اِس میں منہ کی صفائی ہے اور یہ ربّ تعالیٰ کی رِضا کا سبب ہے۔ (مُسندِ احمد بن حنبل، 2/438، حدیث:5869)
(4) وضو نصف (یعنی آدھا) اِیمان ہے، اور مِسواک کرنا نِصف (یعنی آدھا) وضو ہے۔ (مُصَنَّف ابنِ اَبی شیبہ، 1/197، حدیث:22)
(5) جس شخص نے جمعے کے دِن غسل کیا اور مسواک کی، خوشبو لگائی ، عُمدہ کپڑے پہنے، پھر مسجِد میں آیا اور لوگوں کی گردنوں کو نہیں پھلانگا، بلکہ نماز پڑھی اور امام کے آنے کے بعد ( یعنی خطبے میں اور) نماز سے فارِغ ہونے تک خاموش رہا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کے تمام گُناہوں کو جو اُس پورے ہفتے میں ہوئے تھے، مُعاف فرمادیتا ہے۔‘‘ (مُسندِ احمد بن حنبل، 4/162، حدیث:11768)
(6) مشائخِ کِرا م (رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام) فرماتے ہیں:’’جو شخص مِسواک کا عادی ہو مرتے وَقْت اُسے کلمہ پڑھنا نصیب ہوگا اور جو اَفیون کھاتا ہو، مرتے وَقت اُسے کلِمہ نصیب نہ ہوگا۔“ (بہارِ شریعت، 1/288)
امیرِ اہلِ سنت مولانا الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ ’مسواک‘ کے طبی فوائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”اَمریکا کی ایک مشہور کمپنی کی تحقیقات کے مطابق مِسواک میں نقصان دینے والے بیکٹیریا (Bacteria) کو ختم کرنے کی صلاحیت کسی بھی دوسرے طریقے کی نسبت 20 فیصد زیادہ ہے ٭ سویڈن کے سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق مِسواک کے ریشے بیکٹیریا کو چھوئے بغیربراہِ راست (Direct) ختم کردیتے ہیں اور دانتوں کوکئی بیماریوں سے بچاتے ہیں ٭ یو۔ ایس۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن (U.S. National Library of Medicine) کی شائع شدہ تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگرمِسواک کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو یہ دانتوں اور منہ کی صفائی نیز مَسُوڑھوں کی صحّت کا بہترین ذَرِیعہ ہے ٭ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ مِسواک کے عادی ہیں ان کے مَسُوڑھوں سے خون آنے کی شکایات بہت کم ہوتی ہیں ٭ اٹلانٹا امریکا میں دانتوں سے متعلّق ہونے والی ایک نشست میں بتایا گیا کہ مِسواک میں ایسے مادَّے (Substances) ہوتے ہیں جو دانتوں کو کمزوری سے بچاتے ہیں اور وہ تمام دوائیں جو دانتوں کی صفائی میں استعمال ہوتی ہیں، ان سب سے زیادہ فائدہ مند مِسواک ہے ٭ مِسواک دانتوں پر جمی ہوئی میل کی تہ کو ختم کرتی ہے ٭ مِسواک دانتوں کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتی ہے ٭ دائمی نزلہ و زکام کے ایسے مریض جن کا بلغم نہ نکلتاہو، جب وہ مِسواک کرتے ہیں تو بلغم نکلنے لگتا ہے اور یوں مریض کا دِماغ ہلکا ہونا شروع ہوجاتا ہے ٭ پیتھالوجسٹِز (Pathologists) کے تجربے اور تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دائمی نزلے کے لیے مِسواک بہترین علاج ہے۔“ (مِسواک شریف کے فضائل،صفحہ:7-8)
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

