ایک مسئلہ درپیش ہے مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح کرنا چاہتا ہے لیکن غریب ہے، اور اگر کوئی نکاح کورٹ میں کراتا ہے تو حکومت کی طرف سے کچھ پیسے ملتے ہیں تو پوچھنا یہ ہے کہ اس نکاح کے بعد دوبارہ گھر پر نکاح کر سکتے ہیں یعنی دو نکاح کرنا کیسا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔
ایک مسئلہ درپیش ہے مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح کرنا چاہتا ہے لیکن غریب ہے، اور اگر کوئی نکاح کورٹ میں کراتا ہے تو حکومت کی طرف سے کچھ پیسے ملتے ہیں تو پوچھنا یہ ہے کہ اس نکاح کے بعد دوبارہ گھر پر نکاح کر سکتے ہیں یعنی دو نکاح کرنا کیسا ہے؟ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
شریعتِ مطہرہ میں نکاح مرد اور عورت کے ایجاب و قبول اور دو گواہوں (یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں) سے ہو جاتا ہے، جو سننے اور سمجھنے والے ہوں۔ لہذا صورتِ مسؤولہ میں اگر ایک مرتبہ دو گواہوں کی موجودگی میں مرد و عورت نے ایجاب و قبول کر لیا تو نکاح صحیح ہو گیا جبکہ اور کوئی وجہ مانع نکاح نہ ہو۔ دوبارہ نکاح پڑھانے کی حاجت نہیں لیکن اگر کوئی دوبارہ پڑھا دے تو یہ دوبارہ نکاح پڑھانا نہیں کہلائے گا بلکہ تجدیدِ نکاح ہوگا۔
نکاح ایجاب و قبول سے منعقد ہوتا ہے،چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:"(وينعقد) ملتبساً (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر“ یعنی (مرد وزن کا) ایک دوسرے سے ایجاب و قبول کرنے سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد، کتاب النکاح، جلد:4، صفحہ:68-69، دار الكتب العلمية، بيروت)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”وأما ركنه:فالإيجاب والقبول كذا في الكافي“ یعنی نکاح کے رکن ایجاب و قبول ہیں جیسا کہ کافی میں ہے۔ (الفتاوی الھندیة، كتاب النكاح، الباب الأول في تفسيره شرعاً... إلخ، الجزء الأول، صفحة:295، دار الكتب العلمية، بيروت)
بغیر گواہوں کے نکاح منعقد نہیں ہوتا، چنانچہ بغیر گواہوں کے نکاح نہ ہونے کے متعلق حدیث پاک میں ہے:”لانكاح إلا بولى وشاهدين“ یعنی ولی اور دوگواہوں کےبغیر نکاح نہیں ہوتا۔ (کنزالعمّال،کتاب النکاح،الباب الرابع،جلد16،صفحہ 131،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
علامہ بُر ہانُ الدین مَرْغِینانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:”ان الشھادۃ شرط فی باب النکاح ، لقولہ علیہ السلام : لا نکاح الا بشھود“ یعنی نکاح کے معاملہ میں گواہ ہونا شرط ہے، کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ بغیر گواہوں کے نکاح نہیں ہوتا۔(الھدایۃ ، کتاب النکاح،جلد 2، صفحہ 326، مطبوعہ لاھور )
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اويس العطاري المصباحي
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

.jpg)