عورت امام بن سکتی ہے یا نہیں؟



عورت امام بن سکتی ہے یا نہیں ،اگر بن سکتی ہے تو کن کن  میں ،اور اگر نہیں بن سکتی تو کن کن صورتوں میں ،فرض سنت نفل نمازوں میں؟ (تفصیلی جواب)



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

عورت امام نہیں بن سکتی، عورتوں کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے خواہ وہ نماز فرض ہو یا نفل(صلوۃ التسبیح، صلوۃ التراویح)

عورتوں کی جماعت ناجائز و مکروہ تحریمی ہے ۔ جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری  میں ہے : ’’ یُکْرَہُ إمَامَۃُ الْمَرْأَۃِ لِلنِّسَاءِ فِی الصَّلَوَاتِ کُلِّہَا مِنَ الْفَرَاءِضِ وَالنَّوَافِلِ إلَّا فِی صَلَاۃِ الْجَنَازَۃِ ہَکَذَا فِی النِّہَایَۃِ‘‘۔ (الفتاوی الھندیہ، کتاب الصلاۃ،الباب الخامس،الفصل الثالث فی بیان من یصلح إماما لغیرہ، جلد:1، صفحہ:85)

اور درمختار  میں ہے : ’’ وَیُکْرَہُ تَحْرِیمًا جَمَاعَۃُ النِّسَاء وَلَوْ فِی التَّرَاوِیح فِی غَیْرِ صَلاۃِ جِنَازَۃٍ‘‘۔ (الدر المختار، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، جلد:2، صفحہ:365)

الدر المنتقی میں ہے”وکذا یکرہ تحریماً جماعۃ النساء وحدھن بامام منھن
“ترجمہ : اسی طرح تنہا عورتوں کی جماعت کہ امام بھی عورت ہو مکروہ تحریمی ہے۔ (الدر المنتقی علی ھامش مجمع الانھر، کتاب الصلاۃ ، باب الجماعۃ،ج 1، ص 164،کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: ”عورتوں کے امام کے لیے مرد ہونا شرط نہیں، عورت بھی امام ہو سکتی ہے، اگر چہ مکروہ ہے“۔ (بہارِ شریعت، جلد:1، حصہ:3، صفحہ:561)

اسی میں ہے: ”عورتوں کو کسی نماز میں جماعت کی حاضری جائز نہیں ، دن کی نماز ہو یا رات کی ، جمعہ ہو یا عیدین، خواہ وہ جوان ہوں یا بڑھیاں“۔ (بہارِ شریعت، جلد:1، حصہ:3، صفحہ:584)

اور رہا حضور ﷺ کے زمانے میں عورتوں کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تو ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم اس وقت کے لیے تھا جب عورتوں کو مسجد میں حاضری کی اجازت تھی، عہد فاروقی سے اس کی ممانعت کر دی گئی کیونکہ عورتوں میں فساد بہت آگیا، آج تو بہت فتنہ کا دور ہے اب عورتوں کو جماعت سے نماز پڑھنے کی اجازت نہیں۔

حدیث شریف میں ہے:”وَعَنْ بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوظَهُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ» . فَقَالَ بِلَالٌ:وَاللهِ لَنَمْنَعُهُنَّ. فَقَالَ لَهٗ عَبْدُ اللهِ : أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتقول أَنْتَ لَنَمنَعهُنَّ.“ یعنی روایت ہے حضرت بلال ابن عبد الله ابن عمر سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ عورتوں کو ان کے مسجدوں کے حصوں سے نہ روکو جب تم سے اجازت مانگیں یوں بلال بولے کہ خدا کی قسم ہم تو روکیں گے تب ان سے حضرت عبد الله نے کہا میں تو کہتا ہوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اور تم کہتے ہو کہ ہم ان کو روکیں گے۔

اس حدیث کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے:”کیونکہ اب فتنوں کا زمانہ ہے ان کا گھروں سے نکلنا فساد سے خالی نہیں، یہ حکم حضور صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ کے لیے تھا۔یہی آپ کا مقصد تھا نہ کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے فرمان کی مخالفت کہ وہ تو کفر ہے۔غالبًا یہ گفتگو اس وقت کی ہے جب جناب عمر رضی الله عنہ نے عورتوں کو مسجد سے روک دیا تھا۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد:2 , حدیث نمبر:1085)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

عورت کا مرد سے تعلیم حاصل کرنا کیسا ہے؟ یہ بہت اہم مسئلہ ہے اس کو ایک بار ضرور پڑھیں پڑھنے کے لیے 



Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.