نماز میں صفوں کی ترتیب کے بارے میں کیا حکم شرع ہے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
-----------------------------------------------------------------------------
اگر مرد، بچے، خنثیٰ (ہیجڑا) اور عورتیں جمع ہوں تو صفوں کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے مردوں کی صف ہو پھر بچوں کی پھر خنثیٰ کی پھر عورتوں کی ہو، اور بچہ اکیلا ہو تو مردوں کی صف میں داخل ہو جائے۔
(ایسا ہی بہارِ شریعت، جلد:1، صفحہ:586 میں ہے۔)
اگر بچہ مردوں کی صفوں میں کھڑا ہو جائے اور نماز شروع کر لے تو اسے وہاں سے ہرگز نہ ہٹایا جائے۔ اور ایسا نابالغ بچہ جو سمجھدار نہ ہو، نماز و مسجد کے آداب کی سمجھ نہ رکھتا ہو، اس کو مردوں کی صفوں میں کھڑا نہیں کر سکتے، بلکہ اتنے چھوٹے بچے کو مسجد میں لایا ہی نہ جائے کہ اس کے رونے اور شور وغیرہ کرنے کے سبب مسجد کی بے ادبی اور نمازیوں کی نماز خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
=========================================================

