تحصیل علم آسان نہیں



تحصیل علم آسان نہیں


از قلم: عبد الوھاب مصباحی رضوی

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------


جب ایک طالبِ علم اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے گھر سے روانہ ہوتا ہے اور اپنے والدین کریمین و عزیز و اقارب کو الوداع کہتا ہے تو اُس وقت اُس کے دل کی کیفیت کچھ یوں ہوتی ہے گویا وہ "الفِراقُ أشدُّ مِنَ الموت" (جدائی موت سے زیادہ سخت ہے) کا مصداق بن گیا ہو۔
وہ اُس ماں کے دامنِ شفقت سے جدا ہوتا ہے جس نے نو مہینے اپنے شکم میں رکھا اور خونِ جگر کو دودھ کی صورت میں پلایا۔ اُس باپ سے دور ہوتا ہے جس نے اپنی اولاد کی پرورش کے لیے نہ جانے کہاں کہاں جا کر محنت و مشقت کی۔
ایسے مشفق و مہربان والدین سے جدا ہونا وقتِ نزع سے کم نہیں ہوتا۔

بظاہر وہ ہنستا ہوا دکھائی دیتا ہے لیکن والدین کی جدائی کے سبب اس کا دل پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔ پھر بھی وہ اپنے آنسوؤں کو ضبط کر کے مسرت و شادمانی کا اظہار کرتا ہے سب کو سلام کرتا ہے اور اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔
سینکڑوں میل کا سفر طے کرکے جب وہ مدرسے پہنچتا ہے تو ابتدا میں کچھ دن والدین کی یاد میں غمگین رہتا ہے۔ گھر کی آسائشوں اور بچپن کے کھیل کود کو یاد کر کے دل بے چین ہوتا ہے۔ اداسی و بے قراری میں چند دن گزر جاتے ہیں پھر رفتہ رفتہ چہرے کی بشاشت لوٹ آتی ہے دل کو قرار ملتا ہے اور وہ دلجمعی کے ساتھ حصولِ علم میں مشغول ہو جاتا ہے۔

تحصیلِ علم کے دوران اسے نہ جانے کتنی دشواریاں جھیلنی پڑتی ہیں۔
کبھی ضروری ضرورت پیش آتی ہے اور پاس رقم نہیں ہوتی تو قرض لینا پڑتا ہے۔ اگر کوئی مشکل مرحلہ درپیش ہوتا ہے تو خندہ پیشانی سے اس کا سامنا کرتا ہے۔ کبھی طبیعت ناساز ہو جاتی ہے کبھی طرح طرح کی مصیبتیں آن پڑتی ہیں مگر وہ صبر و استقامت سے سب کچھ برداشت کرتا ہے۔

مجھے حضرت بایزید بسطامی علیہ الرحمہ کا قول یاد آتا ہے
"میں نے تیس سال تک بسطام کے بیابانوں میں مجاہدہ کیا مگر تحصیلِ علم کے دوران جتنی مشقتیں اٹھائیں، اتنی مشقت کسی اور مجاہدے میں نہیں اٹھائیں"
ایسے بے شمار اقوال ہمیں علم کی قدر و عظمت سمجھانے کے لیے کافی ہیں۔
گاؤں اور دیہات کے اُن جاہلوں کو یہ سمجھنا چاہیے جو کہتے پھرتے ہیں کہ "مولانا لوگ تو صرف پیسے لوٹتے ہیں اور کچھ لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ اگر میلاد یا نیاز کے موقع پر علما و طلبا کو کھانا کھلانے میں پہل کر دی جائے تو فوراً کہہ دیتے ہیں کہ "مولانا لوگ تو کھانے میں آگے رہتے ہیں"
انہیں معلوم نہیں کہ یہ وہی طلبہ ہیں جنہوں نے زمانۂ طالبِ علمی میں کیسی کیسی سختیاں جھیلی ہیں جب سب لوگ آرام کی نیند سوتے ہیں تو یہی طالبِ علم راتوں کو جاگ کر امتحان کی تیاری کرتے ہیں۔
پھر یہی طلبہ اللہ کے فضل و کرم سے عالمِ دین بنتے ہیں‌ عوام کے دینی و شرعی مسائل حل کرتے ہیں، اُن کی زندگیاں سنوارتے ہیں۔
اور جن لوگوں کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ "مولانا لوٹتے ہیں کھانے میں آگے رہتے ہیں" اُنہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اُن کے مرنے کے بعد جنازہ پڑھانے والا بھی یہی عالم ہوتا ہے اور اُن کے نکاح کا گواہ و قاری بھی یہی عالم ہوتا ہے۔
=====================================================================================

 صدر المدرسین اور اس کی ذمہ داری اس مضمون کو بھی پڑھیں پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.