امام کے پیچھے الحمد شریف پڑھنا کیسا ہے



امام کے پیچھے الحمد شریف پڑھنا کیسا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں 
کہ الحمد پڑھیں گے کیا حکم شرع ہوگا مدلل جواب عنایت فرمائیں۔



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
---------------------------------------------------------

امام کے پیچھے قراءت کرنا مذہبِ حَنَفی میں مکروہِ تحریمی اور گناہ ہے، خواہ نماز سری ہو یا جہری۔ ہمارے علمائے مجتہدین بالاتفاق عدمِ جواز کے قائل ہیں اور یہی مذہب جمہور صحابہ و تابعین کا ہے حتّی کہ صاحب ہدایہ امام علامہ برہان الملۃ والدین مرغینانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دعوٰیِ اجماعِ صحابہ کیا ہے۔ یہی مذہب ہمارا مختار اور اسی پر عامہ حدیث و اخبار وارد ہیں۔

امام کے پیچھے مقتدی کو قرآن کی تلاوت کرنا منع ہے خاموش رہنا ضروری ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:”وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ“
ترجمہ: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔ (اَلْاَعْرَاف، پارہ:9، آيت:204)

اس آیت کے تحت علامہ عبد اللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ”تفسیر مدارِک“ میں فرماتے ہیں:”ظاهرہ وجوب الإستماع والإنصاف وقت قراءة القرآن في الصلاة وغيرها، وجمهور الصحابة رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم على أنه فى إستماع المؤتم“ یعنی اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارجِ نماز اُس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ اور جمہور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اس طرف ہیں کہ یہ آیت مقتدی کے سننے اور خاموش رہنے کے باب میں ہے۔ (مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ:204، صفحہ:92، ملتقطاً)

اور کثیر احادیث میں بھی یہی حکم فرمایا گیا ہے کہ امام کے پیچھے قراء ت نہ کی جائے۔
 چنانچہ (1)... صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے:”اذ صلّیتم فاقیموا صفوفکم ثم لیؤمکم احدکم فاذا کبر فکبر واو اذا قرأ فانصتوا“  یعنی جب تم نماز پڑھو اپنی صفیں سیدھی کرو پھر تم میں کوئی امامت کرے و ہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تم چپ رہو۔ (صحیح المسلم، باب التشہد فی الصلوۃ، 1/147)

(2)...سنن ابو داؤد ونسائی میں حضرت ابو ہریرە رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور ﷺ فرماتے ہیں:”انما الامام لیؤتم بہ فاذا کبر فکبر وا اذاقرأ فانصتوا ھذا الفظ النسائی“  یعنی: امام تو اس لئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے پس جب وہ تکبیرکہے تو تم بھی کہو اورجب قرأت کرے خاموش رہو۔ یہ نسائی کے الفاظ ہیں۔ (سنن النسائی، تاویل قوله عز وجل وإذا قرئ القرآن... إلخ، حديث:923، 1/112)

حدیث 3...ترمذی اپنی جامع میں سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے راوی :”من صلی رکعۃ لم یقرء فیھا بام القراٰن فلم یصل الا ان یکون وراء الامام“ یعنی: حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جس نے ایک رکعت بھی بغیر سورۂ فاتحہ کے پڑھی اس کی نماز نہ ہوئی مگر یہ کہ امام کے پیچھے ہو۔ (ترمذی، ابواب الصلاۃ، باب ما جاء فی ترک القراء ۃ خلف الامام۔۔۔ الخ، 1/ 338، الحدیث:313)

حدیث (4)..."سننِ ابنِ ماجہ" اور "مسند امام احمد" کی احادیثِ مبارکہ میں ہے:”والنظم للاول“ عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "من كان له إمام ، فقراءة الامام له قراءة “ یعنی: روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کا کوئی امام ہو تو امام کی قرأت اس کی بھی قرأت ہے۔ (سنن ابن ماجة،باب إذا قرأ الإمام فأنصتوا، جلد:1، صفحہ: 276)

حدیث (5)...مؤطا امام محمد کی حدیث مبارک میں ہے:” عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال من صلی خلف الامام فان قرأۃ الامام لہ قرأۃ“ یعنی حضرت جابر بن عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کا پڑھنا اس کا پڑھنا ہے۔ (المؤطا امام محمد، صفحہ:99)

حدیث (6)...عن بشير بن جابر، قال:صلى ابن مسعود فسمع ناساً يقرءون مع الإمام، فلما انصرف، قال:أما ان لكم أن تفقوا“ یعنی حضرت بشیر بن جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نماز پڑھائی تو آپ نے کچھ لوگوں کو سنا کہ وہ نماز میں امام کے ساتھ قراء ت کررہے ہیں۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ’’ کیا ابھی تمہارے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ تم اس آیت کے معنی سمجھو۔ (تفسیر ابن جریر، الاعراف، تحت الآیۃ:204، 10 / 659)

مقتدی کا امام کے پیچھے قراءت کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

جیسا کہ تنویر الابصار میں ہے :و المؤتم لا یقرأ مطلقاً فان قرأ کرہ تحریماً“ یعنی مقتدی اصلاً امام کے پیچھے قرأت نہیں کرے گا پس اگر مقتدی نے امام کے پیچھے قرأت کی تو یہ مکروہ تحریمی ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، ج 02، ص 327-326، مطبوعہ کوئٹہ)

دُّرِّ مختار میں ہے:الْمُؤْتَمُّ لَا یَقْرَأُ مُطْلَقًا فَإِنْ قَرَأَ کُرِہَ تَحْرِیمًا‘‘   یعنی مقتدی سورۂ فاتحہ یا کسی دوسری سورت کی قراء ت نہیں کرے گا۔ اگر اس نے قراء ت کی تو مکروہ تحریمی کا مرتکب ہوگا۔ (الدر المختار، کتاب الصلاۃ، فصل فی القراءۃ، جلد:1، صفحہ:326)

صاحبِ ہدایہ نے امام کے پیچھے قرات نہ کرنے پر صحابہ کا اجماع نقل کیا ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے:”لَا یَقْرَأُ الْمُؤْتَمُّ خَلْفَ الْإِمَام وَعَلَیْہِ إجْمَاعُ الصَّحَابَۃِ‘‘ یعنی مقتدی امام کے پیچھے قراء ت نہ کرے اور اسی پر صحابہ کا اجماع ہے۔ (الھداية، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة فصل فى القراءة، جلد:1، صفحة:56)

اور عنایہ میں اسی کے تحت ہے:’’اَلْمُرَادَ بِہِ إجْمَاعُ أَکْثَرِ الصَّحَابَۃِ،فَإِنَّہُ رُوِیَ عَنْ ثَمَانِینَ نَفَرًا مِنْ کِبَارِ الصَّحَابَۃِ مَنْعَ الْمُقْتَدِی عَنْ الْقِرَاءَ ۃِ خَلْفَ الْإِمَامِ. وَقَالَ الشَّعْبِیُّ أَدْرَکْتُ سَبْعِیْنَ بَدْرِیًّا کُلُّہُمْ یَمْنَعُونَ الْمُقْتَدِی عَنْ الْقِرَاءَ ۃِ خَلْفَ الْإِمَامِ،وَقِیلَ الْمُرَادُ بِہِ إجْمَاعُ مُجْتَہِدِی الصَّحَابَۃِ وَکِبَارِہِمْ،وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہ بْنِ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ کَانَ عَشَرَۃٌمِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْہَوْنَ عَنْ الْقِرَاءَ ۃِ خَلْفَ الْإِمَامِ أَشَدَّ النَّہْیِ أَبُو بَکْرٍن الصِّدِّیق وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ وَعَبْدُ اللّٰہ بْنُ مَسْعُودٍ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعَبْدُ اللّٰہ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللّٰہ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُم“  یعنی ہدایہ کے قول إِجْمَاعُ الصَّحَابَۃِ کا مطلب یہ ہے کہ اکثر صحابہ کا اجماع ہے اس لیے کہ امام کے پیچھے قراء ت کر نے سے مقتدی کا منع کیا جانا بڑے بڑے اسی صحابہ کرام سے مروی ہے۔ اور امام شعبی رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ میں نے جنگ بدر میں شریک ہونے والے ستر صحابہ کرام سے ملاقات کی وہ سب کے سب امام کے پیچھے قراء ت کرنے سے مقتدی کو منع فرماتے تھے اور بعض لوگوں نے کہا کہ اجماع صحابہ کا مطلب مجتہدین صحابہ و کبار صحابہ کا اجماع ہے ۔ اوربے شک حضرت عبداللّٰہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد حضر ت زید بن اسلم رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ نبی کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم کے صحابہ کرام میں سے دس حضرات یعنی حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابو طالب، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن وقاص، حضرت عبداللّٰہ بن مسعود، حضرت زید بن ثابت ، حضر ت عبداللّٰہ بن عمر اور حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُم اجمعین یہ سب کے سب امام کے پیچھے قراءت کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرماتے تھے۔ (العنایة شرح الہدایة، کتاب الصلاۃ، فصل فی القراءۃ، ج:1، صفحة:294 )

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ”لا صلٰوۃ الا بفاتحۃ الکتاب“ کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:”اب باقی رہے تمسکات شافعیہ اُن میں عمدہ ترین دلائل جسے اُن کا مدار مذہب کہنا چاہئے حدیث صحیحین ہے یعنی لا صلٰوۃ الا بفاتحۃ الکتاب (کوئی نماز نہیں ہوتی بے فاتحہ کے۔) جواب اس حدیث سے چند طور پر ہے یہاں اسی قدر کافی کہ یہ حدیث تمھارے مفید نہ ہمارے مضر ، ہم خود مانتے ہیں کہ کوئی نماز ذات رکوع سجود بے فاتحہ کے تمام نہیں امام کی ہو خواہ ماموم کی مگر مقتدی کے حق میں خود رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اُس کے لئے امام کی قرأت کافی اور امام کا پڑھنا بعینہٖ اس کا پڑھنا ہے۔ کما مر سابقًا (جیسا کہ پیچھے گزر چکا۔ ت) پس خلافِ ارشاد حضور والا تم نے کہاں سے نکال لیا کہ مقتدی جب تك خود نہ پڑھے گا نماز اس کی بے فاتحہ رہے گی اور فاسد ہوجائے گی۔

دوسری دلیل : حدیث مسلم من صلی صلاۃ لم یقرأفیھا بام القراٰن فھی خداج ھی خداج ھی خداج ۔ حاصل یہ کہ جس نے کوئی نماز بے فاتحہ پڑھی وہ ناقص ہے ناقص ہے ناقص ہے۔ اس کا جواب بھی بعینہٖ مثل اول کے ہے نماز بے فاتحہ کا نقصان مسلّم اور قرأت امام قرأتِ ماموم سے مغنی خلاصہ یہ کہ اس قسم کی احادیث اگر چہ لاکھوں ہوں تمھیں اس وقت بکار آمد ہوں گی جب ہمارے طور پر نماز مقتدی بے امّ الکتاب رہتی ہو وھو ممنوع (اور یہ ممنوع ہے ۔ ت) اور آخر حدیث میں قول حضرت سیّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اقرأ بھا فی نفسك یا فارسی (اپنے دل میں پڑھ اے فارسی۔ ت)کہ شافعیہ اس سے بھی استناد کرتے ہیں فقیر بتوفیق الہی اُس سے ایك جواب حسن طویل الذیل رکھتا ہے جس کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ۔

تیسری دلیل : حدیث عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ لا تفعلو ا الابام القراٰن امام کے پیچھے اور کچھ نہ پڑھو سوائے فاتحہ کے۔ اولًایہ حدیث ضعیف ہے اُن صحیح حدیثوں کی جو ہم نے مسلم اور ترمذی ونسائی و موطائے امام مالك وموطائے امام محمد وغیرہا صحاح و معتبرات سے نقل کیں کب مقاومت کرسکتی ہے ، امام احمد بن حنبل وغیرہ حفّاظ نے اس کی تضعیف کی ، یحیی بن معین جیسے ناقدین جس کی نسبت امام مدوح نے فرمایا جس حدیث کو یحیٰی نہ پہچانے حدیث ہی نہیں فرماتے ہیں استثنائے فاتحہ غیر محفو ظ ہے۔

ثانیًا خودشافعیہ اس حدیث پر دو 2 وجہ سے عمل نہیں کرتے : ایك یہ کہ اس میں ماورائے فاتحہ سے نہی ہے اور ان کے نزدیك مقتدی کو ضمِ سورت بھی جائز ہے۔ صرح بہ الامام النو وی فی شرح صحیح مسلم (امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں اس کی تصریح کی ہے) دوسرے یہ کہ حدیث مذکور جس طریق سے ابوداؤد نے روایت کی بآواز بلند منادی کہ مقتدی کو جہرًا فاتحہ پڑھنا روا اور یہ امر بالاجماع ممنوع صرح بہ الامام النووی فی شرح صحیح مسلم (شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لمعات میں اس بات کی تصریح کی ہے اور امام نووی کا کلام شرح میں بھی اسکا فائدہ دیتا ہے۔ ت) پس جو خود اُن کے نزدیك متروك ہم پر اُس سے کس طرح احتجاج کرتے ہیں۔(فتاویٰ رضویہ، جلد:6، صفحہ:243-245، رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی)

والله تعالیٰ اعلم بالصواب

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی

==========================================

پڑھی ہوئی نماز کا پھر سے دوسری جگہ جاکے اس کی امامت کرنا کیسا ہے امام اور مقتدی کی نماز کا حکم کیا ہے اس مسئلہ کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.