فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا کیسا ہے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
قرآن احادیث میں دعا مانگنے کی ترغیبات کثرت سے ثابت ہیں اسی طرح فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعا مانگنا شرعاً جائز و درست ہے، اصلاً کوئی حرج نہیں، بلکہ حدیث سے ثابت بھی ہے۔ لہذا جس فرض کے بعد سنّت ہے اس فرض کے بعد فصل قلیل کے ساتھ دعا مانگنے میں تو اصلًا حرج نہیں، مگر فصل طویل مکروہِ تنزیہی و خلاف اولی ہے۔
دعا کی اہمیت اور وقعت خود قرآن پاک میں ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:” اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ“ ترجمہ:میں دعا مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔(البقرۃ، آیت:186)
اور فرماتا ہے:”ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-“ ترجمہ:مجھ سے دعا مانگو میں قبول فرماؤں گا۔ (المؤمن:آیت:60)
فرض نمازوں کے بعد دعا کرنے کا حکم ہے
چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:”فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ“ ترجمہ:تو جب تم نماز سے فارغ ہو تو دعا میں محنت کرو۔ (الم نشرح، آیت:7)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جب آپ نماز سے فارغ ہو جائیں تو آخرت کے لئے دعا کرنے میں محنت کریں کیونکہ نماز کے بعد دعا مقبول ہوتی ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، سورۃ:الم نشرح، تحت الآية:7)
دعا مانگنے کے متعلق احادیث:
(1)...اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی چیز دُعا سے بزرگ تَر نہیں۔ (ترمذی، جلد:5، صفحہ:243، حدیث:3381)
(2)...دُعا مصیبت و بلا کو اُترنے نہیں دیتی۔ (مستدرک، جلد:2، صفحہ:162، حدیث:1856)
(3)...دُعا مسلمانوں کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمان و زمین کا نور ہے۔ (مستدرک، جلد:2، صفحہ:162، حدیث:1855)
(4)...دعا کرنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ (ترمذی، جلد:5، صفحہ:318، حدیث: 3551)
ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے متعلق
حدیثِ پاک میں ہے: ”عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم:إذا دعوت اللہ فادع ببطون كفيك، ولا تدع بظهورهما، فإذا فرغت فامسح بهما وجهك“ ترجمہ : حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جب اللہ پاک سے دعا کرو ، اپنے ہاتھ کی ہتھیلیوں سے دعا کیا کرو اور ہاتھو ں کی پشت سے نہ کرو اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ ،تو ہاتھوں کو اپنے چہرے پر پھیر لو ۔ (سنن ابنِ ماجہ ، باب رفع الیدین فی الدعاء ، صفحہ:411)
نورالایضاح میں ہے:” لا بأس بقراءة الأوراد بين الفريضة والسنة ويستحب للامام بعد سلامه … أن يستقبل بعده الناس ويستغفرون اللہ ثلاثا ويقرءون آية الكرسي … ثم يقولون لا إله إلا اللہ وحده لا شريک له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ، ثم يدعون لأنفسهم وللمسلمين رافعي أيديهم ثم يمسحون بها وجوههم في آخره “ ترجمہ:فرض و سنن کے درمیان اَوْرَاد و وَظائف پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور امام کے لیے مستحب ہے کہ سلام کے بعد لوگوں کی طرف منہ کرلے اور پھر سب لوگ تین بار استغفار کریں اور آیت الکرسی پڑھیں پھر
لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير
کہیں اور پھر سب مل کر ہاتھ اٹھا کر اپنے لیے اور مسلمانوں کے لیے دعا کریں اور پھر اپنے ہاتھوں کو اپنے چہروں پر پھیر لیں ۔
مذکورہ بالا عبارت کے تحت مراقی الفلاح میں ہے:” يستحب الفصل بينهما كما كان عليه السلام إذا سلم يمكث قدر ما يقول: "اللهم أنت السلام ومنك السلام وإليك يعود السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام" ثم يقوم إلى السنة قال الكمال وهذا هو الذي ثبت عنه صلى اللہ عليه وسلم من الأذكار التي تؤخر عنه السنة ويفصل بينها وبين الفرض “ ترجمہ : فرض اور سنن کے درمیان فاصلہ کرنا مستحب ہے ،جیسا کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس دعا: ( اللهم أنت السلام ومنك السلام وإليك يعود السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام) کی مقدار وقفہ کیا کرتے تھے، پھر سنتوں کے لیے کھڑے ہوتے تھے ، علامہ کمال علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ یہی وہ اذکار ہیں جو رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ثابت ہیں کہ جن کی بنا پرسنتوں میں تاخیر کی جاسکتی ہے اور فرض و سنتوں کے درمیان فاصلہ کیا جائے گا۔(نورالایضاح مع مراقی الفلاح ، کتاب الصلوٰۃ ، فصل فی اذکار الواردۃ ، صفحہ 118 ، 119 ، مطبوعہ المکتبۃ العصریۃ )
دُرمختار فصل صفۃ الصلوٰۃ میں ہے:”یکرہ تاخیر السنۃ الابقدر اللھم انت السلام الخ وقال الحلوانی لاباس بالفصل بالا وراد واختارہ الکمال قال الحلبی ان ارید بالکراھۃ التنزیھیۃ ارتفع الخلاف قلت وفی حفظی حملہ علی القلیلۃ “ یعنی سنّتوں کا مؤخر کرنا مکروہ ہے مگر اللھم انت اسلام الخ کی مقدار۔ حلوانی نے کہا اوراد اور دعاؤں کی وجہ سے فصل(وقفہ) میں کوئی حرج نہیں کمال نے اسے مختار قرار دیا ہے۔ حلبی نے کہا کہ اگر کراہت سے مراد تنزیہی ہو تواختلاف ہی ختم ہوجاتا ہے۔ میں کہتا ہوں مجھے یاد آتا ہے کہ حلوانی نے اسے اورادِ قلیلہ پر محمول کیا ہے۔ (الدر المختار، باب صفة الصلاة، 1/79)
ان شواہد سے ثابت ہوا کہ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا جائز و مستحسن اور سنت ہے۔
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
=====================================================================================

.jpg)