الٹا سونا کیسا ہے اور سونے کا سنت طریقہ کیا ہے


الٹا سونا کیسا ہے اور سونے کا سنت طریقہ کیا ہے دلائل و شواہد کی روشنی میں


الٹا سونا کیسا ہے اور سونے کا سنت طریقہ کیا ہے؟ 



بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
___________________________________________________



الٹا (یعنی پیٹ کے بل) سونا منع ہے حضور ﷺ نے الٹا لیٹنے سے منع فرمایا کہ اس طرح سونے سے غفلت پیدا ہوتی ہے،اس طرح سونے میں سینہ اور چہرہ جو اشرف اعضاء ہیں زمین پر رگڑتا ہے سر تو سجدہ ہی میں زمین پر رکھا جائے نہ کسی اور کے سامنے۔ دائیں کروٹ پر اپنا داہنا ہاتھ داہنے گال پر رکھ کر سونا سنت ہے۔

الٹا لیٹنا ناپسندیدہ ہے،چنانچہ حضور ﷺ  ارشاد فرماتے ہیں:”وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: رَأٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مُضْطَجِعًا عَلٰى بَطْنِهٖ فَقَالَ: إِنَّ هٰذِهٖ ضِجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللّٰهُ“ یعنی روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیٹ پر لیٹا دیکھا تو فرمایا کہ یہ وہ لیٹنا ہے جسے الله پسند نہیں فرماتا۔(سنن ترمذی، صفحہ:446، حدیث:2768)

اس حدیث پاک میں (لا يحبها الله) کی شرح بیان کرتے ہوئے  ملا علی قاری حَنَفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”لأن وضع الصدر والوجه اللذين من أشرف الأعضاء على الأرض إذلال في غير السجود، أو هذه الضجعة رقدة اللواطة، فالتشبيه بهم مذموم“ یعنی سجدہ کے علاوہ عام حالات میں سینہ اور چہرہ جو کہ اشرف الاعضاء ہیں ان کو زمین پر رکھنا گویا ان کی تذلیل کرنا ہےیا بدفعلی کرنے والے سے مشابہت ہوتی ہے جو کہ مذموم اور ناپسندیدہ ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب الجلوس والنوم والمشی، جلد:8، صفحہ:520، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

 دوسری حدیث شریف  میں ہے: عَنْ أَبِي ذرٍّ قَالَ: مرَّ بِي النَّبِيُّ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلٰى بَطْنِي فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهٖ وَقَالَ: يَا جُنْدُبُ إِنَّمَا هِيَ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ“ یعنی روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں مجھ پر نبی صلی الله علیہ وسلم گزرے جب کہ میں اپنے پیٹ پر لیٹا ہوا تھا تو مجھے اپنے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور فرمایا اے جندب (یہ حضرت ابوذر کا نام ہے) یہ آگ والوں کا لیٹنا ہے۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الأدب، باب النھی عن الإضطجاع علی الوجہ، الحدیث:3724، جلد:4، صفحہ:214)

اس کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”اس فرمان کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جہنمی لوگ یعنی کفار دنیا میں ایسے لیٹتے ہیں تم ان سے مشابہت نہ کرو، دوسرے یہ کہ دوزخ میں کفار ایسے لٹائے جایا کریں گے ان کی پیٹھ پر کوڑے مارنے کے لیے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی اولاد اپنے چھوٹوں کو پیار یا ناراضی میں ٹھوکر مارنا جائز ہے،حضرات صحابہ کرام تو حضور کی ٹھوکر کھانے پر فخر کرتے تھے آج ہم ان ٹھوکروں کے لیے ترستے ہیں۔“ شعر:-                           شبلی تشنہ دیدار کو زندہ کرتے
بخت خوابیدہ کو ٹھوکر سے جگاتے جاتے۔
 (مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، بیٹھنے سونے اور چلنے کا آداب، جلد:6، صفحہ:274

سونے کا سنت طریقہ 

سونے کا سنت طریقہ بیان کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:”(حضورﷺ) داہنی کروٹ پر داہنی ہتھیلی پر داہنا رخسارہ رکھ کر لیٹتے تھے۔ لیٹنے میں سنت طریقہ یہ ہی ہے۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، بیٹھنے سونے اور چلنے کے آداب، جلد:6،صفحہ:170)

 اور سونے کا مستحب طریقہ

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظَمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سونے کا مستحب طریقہ بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:”سونے میں مستحب یہ ہے کہ باطہارت سوئے اور کچھ دیر دہنی کروٹ پر دہنے ہاتھ کو رخسارہ کے نیچے رکھ کر قبلہ رو سوئے پھر اس کے بعد بائیں کروٹ پر اور سوتے وقت قبر میں سونے کو یاد کرے کہ وہاں تنہا سونا ہوگا سوا اپنے اعمال کے کوئی ساتھ نہ ہوگا، سوتے وقت یادِ خدا میں مشغول ہو تہلیل و تسبیح وتحمید پڑھے یہاں تک کہ سوجائے، کہ جس حالت پر انسان سوتا ہے اسی پر اٹھتا ہے اور جس حالت پر مرتا ہے قیامت کے دن اسی پر اٹھے گا۔ سو کر صبح سے پہلے ہی اٹھ جائے اور اٹھتے ہی یادِ خدا کرے یہ پڑھے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّـذِیْٓ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَا تَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ ۔ اسی وقت اس کا پکا ارادہ کرے کہ پرہیز گاری و تقویٰ کرے گا کسی کو ستائے گا نہیں۔“ (بہارِ شریعت، بیٹھنے اور سونے اور چلنے کے آداب، جلد:3، حصہ:16، صفحہ:436، مجلس المدینۃ العلمیہ، دعوت اسلامی)


سنتیں اور آداب‘ نامی رسالے میں سونے کے اداب کے متعلق ہے:”(1) سونے سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھ کر بستر کو تین بار جھاڑ لیں تاکہ کوئی موذی شے یا کیڑا وغیرہ ہو تو نکل جائے ۔

(2) سونے سے پہلے یہ دعا پڑھ لینا سنت ہے۔ اَ للّٰھُمَّ بِاِسْمِکَ اَمُوْتُ ِوَاَحْیٰ، ترجمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں تیرے نام کے ساتھ ہی مرتا ہوں اور جیتا ہوں (یعنی سوتا اور جاگتا ہوں )

(3)الٹا یعنی پیٹ کے بل نہ سوئیں۔

(4) دائیں کروٹ لیٹنا سنت ہے۔ حضور تاجدار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب اپنی خواب گاہ پر تشریف لے جاتے تو اپنا سیدھا ہاتھ مبارک سیدھے رخسار شریف کے نیچے رکھ کر لیٹتے۔

(5) کبھی چٹائی پر سوئیں تو کبھی بستر پر کبھی فرشِ زمین پر ہی سوجائیں۔“ (سنتیں اور آداب، صفحہ:106- 107، مجلس المدینۃ العلمیہ دعوت اسلامی)

اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں کم سونے اور سنت کے مطابق سونے کی توفیق مرحمت فرما اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب 

از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی

٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…٭…

والد اگر فاسق معلن ہو تو ان کو سلام کرنا کیسا ہے جب کہ فاسق معلن کی توہین واجب اور تعظیم حرام ہے۔ لہذا اس مسئلے کو پڑھنے کے لیے 

👉یہاں کلک کریں 👈 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.