قبر کی زیارت کرنا کیسا ہے اور قبر کو پکا کرنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
___________________________________________________
قبر کی زیارت کرنا
قُبُورِ مسلمین کی زیارت سنّت اور مزاراتِ اولیاے کرام و شُہَداے عِظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی حاضِری سعادت بَر سعادت اور انہیں ایصالِ ثواب مَندُوب (یعنی پسندیدہ )و ثواب ہے۔ خود حضور اقدسﷺ شہدائے احد کی زیارت کو تشریف لے جاتے اور ان کے لیے دعا کرتے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ تم لوگ قبروں کی زیارت کرو۔ زیارت قبور سے دل بیدار ہوتا ہے،نفس مرتا ہے۔
حضور اقدسﷺ شہداے احد کی زیارت کو تشریف لے جاتے اور ان کے لیے دعا کرتے، چنانچہ تفسیر دُرِّ منثور میں ہے:”وأخْرَجَ ابْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إبْراهِيمَ قالَ: «كانَ النَّبِيُّ ﷺ يَأْتِي قُبُورَ الشُّهَداءِ عَلى رَأْسِ كُلِّ حَوْلٍ فَيَقُولُ: ( ﴿سَلامٌ عَلَيْكم بِما صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبى الدّارِ﴾ ) وأبُو بَكْرٍ وعُمَرُ وعُثْمانُ» یعنی حضرت محمد بن ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:نبی کریم ﷺ ہر سال شہداے احد کی زیارت کو تشریف لے جاتے اور ان کے لیے سلام فرماتے:سَلامٌ عَلَيْكم بِما صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبى الدّارِ (تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو آخرت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے) حضراتِ ابوبکر و عمر اور عثمانِ غنی رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا بھی یہی معمول تھا۔ (الدر المنثور،للسیوطي،سورۃ الرعد، تحت الآیۃ:24)
صحیح مسلم شریف کی حدیث شریف میں ہے:”عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَنسَلَّمَ :نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُم“ ترجمہ:بریدہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ میں نے تم کو زیارت قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کرو اور میں نے تم کو قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی ممانعت کی تھی اب جب تک تمھاری سمجھ میں آئے رکھ سکتے ہو۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز،باب استـئذان النبی ﷺ ربہ عزوجل ۔۔۔ إلخ، الحدیث:106۔(977)، صفحہ: 486)
سنن ابن ماجہ شریف کی حدیث پاک میں ہے:”وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُذكِّرُ الآخِرَةَ“ ترجمہ:عبداﷲ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ میں نے تم کو زیارت قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کرو، کہ وہ دنیا میں بے رغبتی کا سبب ہے اور آخرت یاد دلاتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ ،کتاب ماجاء في الجنائز،باب ما جاء في زیارۃ القبور،الحدیث: 1571، جلد:2، صفحہ:252)
اس حدیثِ پاک کے تحت حضرت علامہ عبد الرؤف مناوِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:جس شخص کا دل سخت ہوگیا ہو زیارتِ قبور اس کے لئے ایک عمدہ دوا ہے۔(فیض القدیر، جلد:5، صفحہ:71)
صحیح مسلم کی حدیث پاک میں ہے :”وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى المَقَابِرِ: “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالِمُسْلِمينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ نَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ“ ترجمہ:بریدہ رَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم لوگوں کو تعلیم دیتے تھے کہ جب قبروں کے پاس جائیں یہ کہیں: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَآءَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ نَسْأَلُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمُ الْعَافِیَۃَ ۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب ما یقال عند دخول القبور ۔۔۔ إلخ، الحدیث: 104۔(975) ، صفحہ:485)
ترمذی شریف کی حدیث پاک میں ہے:”عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورٍ بِالْمَدِينَةِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهٖ فَقَالَ: “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ يَغْفِرُ اللهُ لَنَا وَلَكُمْ أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ“ ترجمہ:ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم مدینہ میں قبور کے پاس گزرے تو ادھر کو مونھ کرلیا اور یہ فرمایا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَـفُـنَا وَنَحْنُ بِالْاَثَرِ۔ (سنن الترمذي، کتاب الجنائز، باب ما یقول الرجل إذا دخل المقابر، الحدیث: 1055،جلد:2، صفحہ: 329)
صحیح مسلم کی حدیث پاک میں ہے:”وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى البَقِيعِ فَيَقُولُ: “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاكُمْ مَا تُوعِدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ » ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے مروی، کہتی ہیں کہ جب میری باری کی رات ہوتی حضور ( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) آخر شب میں بقیع کو جاتے اور یہ فرماتے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَاَ تَاکُمْ مَا تُوْعَدُوْنَ غَدًا مُّؤَجَّلُوْنَ وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَ ھْلِ بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب استـئذان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ربہ عزوجل ۔۔۔ إلخ، الحدیث: 106۔(977) ،صفحہ: 486)
امامِ شافعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب کوئی حاجت پیش آتی تو آپ امام اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مزار پُر انوار پر آتے اور دو رکعت نفل پڑھ کر دُعا مانگتے، چنانچہ امام محمد زاہد بن حسن کوثری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”أخبرنا القاضى أبو عبدالله الحسين بن على الصيمرى، قال:أنبأنا عمر بن إبراهيم المقرىء، قال:أنبأنا مكرم بن أحمد، قال:أنبأنا عمر بن إسحق بن إبراهيم، قال:أنبأنا على بن ميمون، قال:سمعت الشافعى يقول:انى لأتبرك بأبي حنيفة، وأجيء إلى قبره في كل يوم يعني زائراً، فإذا عرضت لي حاجة صليت ركعتين، وجئت إلى قبره، وسألت الله تعالى الحاجة عنده فما تبعد عنى حتى تقضى ١ه۔ ورجال هذا السند كلهم موثقون عند الخطيب“ یعنی علی بن میمون کہتے ہیں: میں نے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا: میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے برکت حاصل کرتا ہوں، (اس طرح کہ) میں روزانہ ان کی قبر پر زیارت کے لیے آتا ہوں، اگر مجھے کوئی ضرورت پیش آئے تو میں دو رکعت نماز پڑھتا ہوں، امام کی قبر پر آکر اللہ پاک کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرتا ہوں پھر جلد ہی میری حاجت پوری ہو جاتی ہے۔
خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس سند کے تمام راوی ثقہ و معتبر ہیں۔ (تابیب الخطیب،جلد:1، صفحہ:34)
ان تمام شواہد سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہوا کہ زیارتِ قبورِ مسلمین قطعاً جائز ہے، شرعاً اصلاً حرج نہیں۔
لیکن قبرستان جانے کے آداب کا خیال رکھنا لازم ہے:”مزار شریف یا قَبْر کی زیارت کیلئے جاتے ہوئے راستے میں فُضُول باتوں میں مشغول نہ ہوں ٭قبرستان جاکر اس طرح سلام کریں: اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ یَا اَھْلَ الْقُبُوْرِیَغْفِرُ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ اَنْتُمْ سَلَفُنَاوَنَحْنُ بِالْاَثَر (اے قبْر والو! تم پر سلام ہو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے، تم ہم سے پہلے آگئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں) ۔( تِرمِذی ،ج2، ص329، حدیث:1055) ٭قَبر کو بوسہ نہ دیں، نہ قَبْر پر ہاتھ لگائیں بلکہ قَبْرسے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو جائیں ٭قَبْر پر پاؤں رکھنے یا سونے سے قَبْر والے کو اِیذا ہوتی ہے لہٰذا کسی مسلمان کی قَبْر پر پاؤں رکھنے،روندنے، قَبْر پر بیٹھے اور ٹیک لگانے سے بچیں۔یاد رکھئے!دوسری قبروں پر پاؤں رکھے بغیر ماں باپ وغیرہ کی قبروں تک نہ جاسکتے ہوں تو دور ہی سے فاتحہ پڑھنا ہوگا، مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھنا حرام ہے۔ ٭قَبْر کے اوپر اگربتّی نہ جلائیں کہ بے اَدَبی ہے اور اس سے میِّت کو تکلیف ہوتی ہے بلکہ قَبْر کے پاس خالی جگہ ہوتو وہاں رکھ سکتے ہیں،جبکہ وہ خالی جگہ ایسی نہ ہو کہ جہاں پہلے قَبْر تھی اب مِٹ چکی ہے۔(ملخص از قبروالوں کی 25حکایات )
قبر کو پختہ کرنا
قَبْر کو پکّی نہ کرنا بہتر ہے، عام مسلمان کی قَبْر کے گِرد بِلا مقصدِ صحیح عمارت بنانے کی شَرعاً اجازت نہیں کہ یہ مال ضائِع کرنا ہے۔ البتَّہ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام کے مزارات کے گرد اچّھی اچّھی نیّتوں سے عمارات و گنبد بنانا جائز ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”ائمہ دین نے مزراتِ حضرات علماء ومشائخ قدست اسرارہم کے گرد زمین جائز التصرف میں اس غرض سے کہ زائرین ومستفیدین راحت پائیں عمارت بنانا جائز رکھا، اور تصریحات فرمائیں کہ علت منع نیت فاسدہ یا عدم فائدہ ہے تو جہاں نیت محمود اور نفع موجود منع مفقود۔“ چند سطور بعد فرماتے ہیں:”مطالب المومنین میں لکھا ہے کہ سلف نے مشہور علماء و مشایخ کی قبروں پر عمارت بنانا مباح رکھا ہے تاکہ لوگ زیارت کریں اور اس میں بیٹھ کر آرام لیں ، لیکن اگر زینت کے لیے بنائیں تو حرام ہے مدینہ منورہ میں صحابہ کی قبروں پر اگلے زمانے میں قبے تعمیر کئے گئے ہیں ، ظاہر یہ ہے کہ اس وقت جائز قرار دینے سے ہی یہ ہوا اور حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے مرقدِ انور پر بھی ایك بلند قبہ ہے۔“ فتاویٰ رضویہ، جلد:9، صفحہ:414، 419 رضا فاؤنڈیشن دعوت اسلامی).
والله تعالیٰ اعلم بالصواب
از قلم محمد اویس العطاری المصباحی
___________________________________________________

