अरज़िश फातिमा, Asmara fatima,Aneeqa fatima naam rakhna kaisa hai? Jald az jald Inayat farmaye bahut meharbani hogi.
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
`اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ`
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ارزش کے معنیٰ ریختہ لغت میں یہ لکھے ہیں:قیمت، دام، عوضانہ وغیرہ۔
اور اسمارہ کا معنیٰ فقیر کو تلاش کے باوجود نہ مل سکا البتہ ایک لغت میں اسمْارّ ملا جس کا مطلب ہوتا ہے:بتدریج گندُمی رنگ کا ہونا۔ (مصباح اللغات، صفحہ:799) ۔
لہذا یہ دونوں نام رکھنے میں گناہ تو نہیں ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ لڑکی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شاملِ حال ہو گی۔
اور انیقہ نام رکھنا بلا شبہ جائز ہے۔ فیروز اللغات میں انیقہ کے معنی لکھے ہیں:خوش آئند، خوب، عجیب، نادر۔ (فیروز اللغات، صفحہ:134)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی والدہ کا نام "ام سُلَیْم" تھا اور آپ کے نام میں بہت اختلاف ہے ایک قول کے مطابق آپ کا نام انیقہ ہے۔
علی بن سلطان محمد نور الدین المعروف ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ "ام سلیم" کے متعلق فرماتے ہیں:”قال المؤلف:ھی بنت ملحان بكسر الميم، و في اسمها خلاف“ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح، کتاب الفضائل والشمائل، باب أسماء النبی ﷺ وصفاته،جلد:10، صفحہ:467، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
علامہ بدر الدین عینی حَنَفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:”وأم سليم بنت ملحان الأنصارية، أم أنس بن مالك، وفي اسمها أقوال: سهلة، ورميلة، ورميثة وأنيقة؛ ومليكة، وغير ذلك“ (نخب الافکار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثار، جلد:10، صفحہ:126)
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
از قلم: محمد اویس العطاری المصباحی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

