🌹 ہندوستان میں اردو زبان و ادب کا مستقبل 🌹
از قلم: محمد کونین صدیقی کٹیہاری
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اردو زبان برصغیر کی مشترکہ تہذیب اور ثقافت کی علامت ہے، ماہر علومِ لسانیات نے ہندوستان کو زبانوں کا "عجائب گھر" کہا ہے، یہاں تقریباً ہر پچاس کیلومیٹر میں زبان تبدیل ہوتی ہے، اردو زبان نے صدیوں سے ہندوستانیوں میں اتحاد و محبت، رواداری و پاسداری اور انسانیت کا پیغام دیا ہے، اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب، طرزِ احساس، اور ایک لائحہ عمل، اور اپنے مافی الضمیر کو خوبصورتی کے ساتھ الفاظ کے پیرائے میں بیان کرنے کا نام ہے، جسے امیر خسرو، گیسودراز، میر، غالب، اقبال، فانی، اور جوش جیسے عظیم شاعروں نے اردو کو وہ وقار بخشا ہے جس نے اسے عالمی سطح پر مقبول بنایا، داغ دہلوی کا ایک شعر پیش خدمت ہے:
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
عصر حاضر میں ہندوستان کے مختلف خطے میں اگر چہ اردو کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جسے صرف اسلامی تعلیمی اداروں میں زندہ و جاوید، اور "اردو دنیا" کی ایک تنظیم کو تشکیل دے کر محدود بنا رکھا ہے، جب کہ انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ ہمارا ملکی اختراعی زبان ہے، دوسری زبان کی بہ نسبت زیادہ مستعمل کیے جائیں،مگر حالت ایسی ہو گئی ہے کہ سرکاری سیاسی سطح پر اس کی سرپرستی دوسری زبان کی بہ نسبت کم نظر و بے توجہی دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے باوجود اردو زبان کا تعاقب اور شغف رکھنے والوں کی تعداد دن بہ دن نسلِ نو میں بڑھتی ہی جا رہی ہے، چاہے وہ الفاظ کا بہتر انتخاب ہو، یا نظم و نثر میں ان کے خیالات کا تبادلہ کرنے کی وجہ سے ہو، ڈیجیٹل دور نے اردو کو ایک نئی زندگی بخشی ہے، سوشل میڈیا، یوٹیوب، اور آن لائن بلاگرز نے نوجوانوں میں اردو زبان کی چاہت و لگن اور رغبتِ کامل بنایا ہے، اور اردو کتابت و خواند کی طرف میلان طبعی کیا ہے، آج بے شمار آن لائن پلیٹ فارم اردو میں نظم سازی اور نثر نما، ناول نویس، اور تنقید نگار کو فروغ دے رہے ہیں، یہاں منور رانا کا ایک شعر ذہن کے گوشے میں گردش کر رہا ہے کہ:
مرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری
تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی
اردو اخبارات، میگزینز، اور ویب سائٹس بھی زبان کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اسکولوں اور کالجوں میں اگر اردو تعلیم کو مضبوط کیا جائے، اور سرکاری دفاتر میں اس کے استعمال کو فروغ دیا جائے تو یہ زبان ایک بار پھر اپنے سنہری دور کو معدوم سے وجود پا سکتا ہے، اگر اس زبان کے قارئین و متوسلین کی غفلت و کوتاہی بڑھتی رہی تو پھر وہ زبان کالعدم ہو جاتی ہے، مثلاً سنسکرت ہی کو دیکھا جاے، کہ ایک زمانے میں بالیدگی کی انتہا پر گامزن تھی اور اب وہی نجی نشیب ہو چکی ہے۔
نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
لیکن افسوس کہ کچھ فتنہ پرور اس شیریں زبان کو بھی جو عوام و خواص میں چاشنی بانٹتی ہے مذہبی زبان کا جامہ ملبوس کرکے عروج سے زوال پذیر بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، جب کہ یہ واضح ہو کہ کوئی بھی زبان مذہبی نہیں ہوتی۔
اردو ادب کے مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ نئی نسل اس زبان سے جذباتی اور علمی تعلق قائم رکھے، والدین، اساتذہ اور تعلیمی ادارے اگر اردو کو دل سے اپنائیں، تو مستقبل میں اردو کا سورج ایک بار پھر پوری آب و تاب سے چمکے گا، اردو کا مستقبل یقیناً روشن و تابناک ہے، کیوں کہ یہ زبان دلوں کو جوڑنے اور انسانیت میں باہم موالفت اور قریب لانے کی زبان ہے، اختتام میں کلام الامام امام احمد رضا خان بریلوی کا ایک شعر حضور جذبِ قلوبِ خلائق ﷺ کی شان اقدس میں نذر کرتا ہوں۔
حُسنِ یوسُف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں
سَر کٹاتے ہیں تِرے نام پہ مردانِ عرب
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------

_20251009_123731_0000%20(1).png)